نسبتِ لعلِ کہ داد این ہمہ سامانِ صدف | شور در بحر فکندہ است نمکدانِ صدف |
ترجمہ کس کے لعل کی نسبت نے سیپ کو یہ سارا سامان دیا کہ سیپ کے نمکدان نے سمندر میں شور ڈال دیا ہے؟ | |
عرقِ شرم ہمان مہرِ لبِ اظہار است | بخیہ دارد ز گہر چاکِ گریبانِ صدف |
ترجمہ شرم کا پسینہ ہی اظہار کے لب کی مہر ہے؛ سیپ کے گریبان کا چاک موتی سے ٹانکا ہوا ہے۔ | |
ترکِ مطلب کن و از کلفتِ این بحر برآ | نیست جز بستنِ لب چیدنِ دامانِ صدف |
ترجمہ مطلب کو ترک کر اور اس سمندر کی کلفت سے باہر آ؛ سیپ کا دامن سمیٹنا لب بند کر لینے کے سوا کچھ نہیں۔ | |
بہ قناعتکدہ ام رہ نبرد صحبتِ غیر | ضبطِ آغوشِ خود است الفتِ احسانِ صدف |
ترجمہ میرے قناعت کدے تک غیر کی صحبت راہ نہیں پاتی؛ سیپ کی احسان سے الفت دراصل اپنی ہی آغوش کا ضبط ہے۔ | |
نتوان مایۂ اسبابِ طرب فہمیدن | اشک چندی گرۂ دیدۂ حیرانِ صدف |
ترجمہ طرب کے اسباب کا سرمایہ سمجھا نہیں جا سکتا؛ بس چند آنسو ہیں جو سیپ کی حیران آنکھ کی گرہ بن گئے ہیں۔ | |
بگذر از حاصلِ این بحر کہ بی عبرت نیست | بعدِ تحصیلِ گہر وضعِ پشیمانِ صدف |
ترجمہ اس سمندر کے حاصل سے گزر جا کہ یہ عبرت سے خالی نہیں؛ موتی پا لینے کے بعد سیپ کی وضع پشیمان کی سی ہے۔ | |
در شکستِ جسد آرایشِ تعمیرِ دلست | نیست بی سودِ گہر تاجرِ نقصانِ صدف |
ترجمہ جسم کے ٹوٹنے میں دل کی تعمیر کی آرائش ہے؛ سیپ کے نقصان کا تاجر موتی کے نفع سے خالی نہیں۔ | |
اینقدر حاصلِ آرام درین بحر کراست | ای گہر آب شو از خجلتِ سامانِ صدف |
ترجمہ اس سمندر میں اتنا آرام کا حاصل کس کے پاس ہے؟ اے موتی! سیپ کے سامان کی شرمندگی سے پانی پانی ہو جا۔ | |
کامِ تقلید ز نعمت نبرد بہرۂ ذوق | غیرِ ریزش نبود درخورِ دندانِ صدف |
ترجمہ تقلید کا حلق نعمت سے ذوق کا حصہ نہیں پاتا؛ سیپ کے دانتوں کے لائق بکھیر دینے کے سوا کچھ نہیں۔ | |
اشکِ شوخ است بہ ضبطِ مژہ گیرم بیدل | طفل چندی بنشانم بہ دبستانِ صدف |
ترجمہ بیدل! آنسو شوخ ہے، اسے پلک کے ضبط سے تھام لوں؛ چند بچوں کو سیپ کے مکتب میں بٹھا دوں۔ | |
