اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

نسبت لعل کہ داد این ہمہ سامان صدف

نسبتِ لعلِ کہ داد این ہمہ سامانِ صدف

شور در بحر فکندہ است نمکدانِ صدف

ترجمہ کس کے لعل کی نسبت نے سیپ کو یہ سارا سامان دیا کہ سیپ کے نمکدان نے سمندر میں شور ڈال دیا ہے؟

عرقِ شرم ہمان مہرِ لبِ اظہار است

بخیہ دارد ز گہر چاکِ گریبانِ صدف

ترجمہ شرم کا پسینہ ہی اظہار کے لب کی مہر ہے؛ سیپ کے گریبان کا چاک موتی سے ٹانکا ہوا ہے۔

ترکِ مطلب کن و از کلفتِ این بحر برآ

نیست جز بستنِ لب چیدنِ دامانِ صدف

ترجمہ مطلب کو ترک کر اور اس سمندر کی کلفت سے باہر آ؛ سیپ کا دامن سمیٹنا لب بند کر لینے کے سوا کچھ نہیں۔

بہ قناعتکدہ ام رہ نبرد صحبتِ غیر

ضبطِ آغوشِ خود است الفتِ احسانِ صدف

ترجمہ میرے قناعت کدے تک غیر کی صحبت راہ نہیں پاتی؛ سیپ کی احسان سے الفت دراصل اپنی ہی آغوش کا ضبط ہے۔

نتوان مایۂ اسبابِ طرب فہمیدن

اشک چندی گرۂ دیدۂ حیرانِ صدف

ترجمہ طرب کے اسباب کا سرمایہ سمجھا نہیں جا سکتا؛ بس چند آنسو ہیں جو سیپ کی حیران آنکھ کی گرہ بن گئے ہیں۔

بگذر از حاصلِ این بحر کہ بی عبرت نیست

بعدِ تحصیلِ گہر وضعِ پشیمانِ صدف

ترجمہ اس سمندر کے حاصل سے گزر جا کہ یہ عبرت سے خالی نہیں؛ موتی پا لینے کے بعد سیپ کی وضع پشیمان کی سی ہے۔

در شکستِ جسد آرایشِ تعمیرِ دلست

نیست بی سودِ گہر تاجرِ نقصانِ صدف

ترجمہ جسم کے ٹوٹنے میں دل کی تعمیر کی آرائش ہے؛ سیپ کے نقصان کا تاجر موتی کے نفع سے خالی نہیں۔

اینقدر حاصلِ آرام درین بحر کراست

ای گہر آب شو از خجلتِ سامانِ صدف

ترجمہ اس سمندر میں اتنا آرام کا حاصل کس کے پاس ہے؟ اے موتی! سیپ کے سامان کی شرمندگی سے پانی پانی ہو جا۔

کامِ تقلید ز نعمت نبرد بہرۂ ذوق

غیرِ ریزش نبود درخورِ دندانِ صدف

ترجمہ تقلید کا حلق نعمت سے ذوق کا حصہ نہیں پاتا؛ سیپ کے دانتوں کے لائق بکھیر دینے کے سوا کچھ نہیں۔

اشکِ شوخ است بہ ضبطِ مژہ گیرم بیدل

طفل چندی بنشانم بہ دبستانِ صدف

ترجمہ بیدل! آنسو شوخ ہے، اسے پلک کے ضبط سے تھام لوں؛ چند بچوں کو سیپ کے مکتب میں بٹھا دوں۔