اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

نشستہ ای ز دل تنگ بر در تصدیع

نشستہ ای ز دلِ تنگ بر درِ تصدیع

دمی کہ واشود این قفل عالمیست وسیع

ترجمہ تو دل کی تنگی کے سبب زحمت کے دروازے پر بیٹھا ہے؛ جس لمحے یہ قفل کھل جائے، ایک وسیع عالم ہے۔

بہ خویش گر نرسی آنقدر غرابت نیست

کہ سرکشیدہ ای از کارگاہِ صنعِ بدیع

ترجمہ اگر تو اپنے آپ تک نہ پہنچ سکے تو یہ کچھ ایسی عجیب بات نہیں، کیونکہ تو صنعِ بدیع کے کارخانے سے سر اٹھا کر نکلا ہے۔

طلب ز ہرچہ تسلی شود غنیمت گیر

بہ جوع می مکد انگشتِ خویش طفلِ رضیع

ترجمہ جس چیز سے بھی طلب کو تسلی ملے اسے غنیمت جان؛ شیرخوار بچہ بھوک میں اپنی ہی انگلی چوستا ہے۔

قیامت است طمع ز امتلا نمی میرد

کہ تا بہ حلق رسیدہ است می خورد تشنیع

ترجمہ قیامت ہے کہ طمع پیٹ بھر جانے سے بھی نہیں مرتی؛ حلق تک بھر جانے پر بھی ملامت کھاتی رہتی ہے۔

چہ غفلت است کہ چون شمع گل بہ سر باشی

بہ زیرِ تیغ نشستن ندارد این تقطیع

ترجمہ یہ کیسی غفلت ہے کہ تو شمع کی طرح سر پر پھول سجائے رہے؛ تلوار کے نیچے بیٹھنے کا یہ ڈھنگ نہیں۔

بہ گردِ قاصدِ ہمت رسیدن آسان نیست

ز مقصد آنطرفش بردہ گامہای وسیع

ترجمہ ہمت کے قاصد کی گرد کو پا لینا آسان نہیں؛ اس کے لمبے قدم اسے منزل سے بھی پرے لے گئے ہیں۔

بدونِ خاکِ حضورِ یقین نشد روشن

چراغِ نقشِ قدم داشت این بساطِ رفیع

ترجمہ یقین کی حضوری کی خاک کے بغیر کچھ روشن نہ ہوا؛ اس بلند بساط نے نقشِ قدم ہی کا چراغ رکھا تھا۔

بقا فنا بہ کنار و فنا بقا بہ بغل

ہمین ربیع و خریفست ہم خریف و ربیع

ترجمہ بقا فنا کو گود میں لیے ہے اور فنا بقا کو بغل میں؛ یہی بہار و خزاں ہے اور یہی خزاں و بہار۔

ز شرمِ چشم گشودن بہ بارگاہِ حضور

عرق تو آینہ پرداز تا بریم شفیع

ترجمہ حضوری کی بارگاہ میں آنکھ کھولنے کی شرم سے، اے پسینے! تو آئینہ چمکا تاکہ ہم اسے شفیع بنا کر لے جائیں۔

پس از تأملِ بسیار شد عیان بیدل

کہ علت است تفاوتگرِ مطاع و مطیع

ترجمہ اے بیدل! بہت غور کے بعد یہ کھلا کہ حاکم اور محکوم میں فرق ڈالنے والی چیز محض علت ہے۔