نشستہ ای ز دلِ تنگ بر درِ تصدیع | دمی کہ واشود این قفل عالمیست وسیع |
ترجمہ تو دل کی تنگی کے سبب زحمت کے دروازے پر بیٹھا ہے؛ جس لمحے یہ قفل کھل جائے، ایک وسیع عالم ہے۔ | |
بہ خویش گر نرسی آنقدر غرابت نیست | کہ سرکشیدہ ای از کارگاہِ صنعِ بدیع |
ترجمہ اگر تو اپنے آپ تک نہ پہنچ سکے تو یہ کچھ ایسی عجیب بات نہیں، کیونکہ تو صنعِ بدیع کے کارخانے سے سر اٹھا کر نکلا ہے۔ | |
طلب ز ہرچہ تسلی شود غنیمت گیر | بہ جوع می مکد انگشتِ خویش طفلِ رضیع |
ترجمہ جس چیز سے بھی طلب کو تسلی ملے اسے غنیمت جان؛ شیرخوار بچہ بھوک میں اپنی ہی انگلی چوستا ہے۔ | |
قیامت است طمع ز امتلا نمی میرد | کہ تا بہ حلق رسیدہ است می خورد تشنیع |
ترجمہ قیامت ہے کہ طمع پیٹ بھر جانے سے بھی نہیں مرتی؛ حلق تک بھر جانے پر بھی ملامت کھاتی رہتی ہے۔ | |
چہ غفلت است کہ چون شمع گل بہ سر باشی | بہ زیرِ تیغ نشستن ندارد این تقطیع |
ترجمہ یہ کیسی غفلت ہے کہ تو شمع کی طرح سر پر پھول سجائے رہے؛ تلوار کے نیچے بیٹھنے کا یہ ڈھنگ نہیں۔ | |
بہ گردِ قاصدِ ہمت رسیدن آسان نیست | ز مقصد آنطرفش بردہ گامہای وسیع |
ترجمہ ہمت کے قاصد کی گرد کو پا لینا آسان نہیں؛ اس کے لمبے قدم اسے منزل سے بھی پرے لے گئے ہیں۔ | |
بدونِ خاکِ حضورِ یقین نشد روشن | چراغِ نقشِ قدم داشت این بساطِ رفیع |
ترجمہ یقین کی حضوری کی خاک کے بغیر کچھ روشن نہ ہوا؛ اس بلند بساط نے نقشِ قدم ہی کا چراغ رکھا تھا۔ | |
بقا فنا بہ کنار و فنا بقا بہ بغل | ہمین ربیع و خریفست ہم خریف و ربیع |
ترجمہ بقا فنا کو گود میں لیے ہے اور فنا بقا کو بغل میں؛ یہی بہار و خزاں ہے اور یہی خزاں و بہار۔ | |
ز شرمِ چشم گشودن بہ بارگاہِ حضور | عرق تو آینہ پرداز تا بریم شفیع |
ترجمہ حضوری کی بارگاہ میں آنکھ کھولنے کی شرم سے، اے پسینے! تو آئینہ چمکا تاکہ ہم اسے شفیع بنا کر لے جائیں۔ | |
پس از تأملِ بسیار شد عیان بیدل | کہ علت است تفاوتگرِ مطاع و مطیع |
ترجمہ اے بیدل! بہت غور کے بعد یہ کھلا کہ حاکم اور محکوم میں فرق ڈالنے والی چیز محض علت ہے۔ | |
