اس اٹلی کے باشندے سے حیدر آباد دکن میں ملاقات ہوئی تھی۔ چہرہ خوانی میں اسے اس قدر بصیرت حاصل تھی کہ وہ آدمی کی صورت دیکھتے ہی اس کے خیالات معلوم کر لیتا اور پوچھے بغیر اس کے سوالات کے جواب لکھ کر دے دیا کرتا تھا۔
ایک بار سیّد امین الحسن صاحب بسمل اور نواب اصغر یار جنگ کے ساتھ میں ان سے ملنے جا رہا تھا، تو میں نے ان سے موٹر میں یہ کہا کہ میں الویرو سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان میں فرنگی راج کب ختم ہو گا، میرے دونوں دوستوں نے کہا یہ سوال غلط ہے، ہم لوگ نظام سے وابستہ ہیں اس لئے ہم کو سیاسی جھگڑوں میں نہ پڑنا چاہیے۔
جب ہم اس کے وہاں پہنچے تو ہم لوگوں کے سوالات کے جوابات قلم بند کرنے کے بعد، اس نے مجھ سے کہا کہ ’’آپ نے موٹر میں جو سوال ڈراپ (نظر انداز) کر دیا ہے، میں اس سے واقف ہوں، لیکن میرا یہ اصول ہے کہ میں سیاسی سوالات کا جواب نہیں دیا کرتا۔ ہاں اتّنا ضرور کہوں گا کہ سیاسی حیثیت سے آپ بڑے خطرناک قسم کے باغی ہیں، اور زیادہ مدّت تک یہاں نہیں رہ سکیں گے لیکن آپ کا مستقبل بہت شاندار ہے۔‘‘
ایک بار مہاراجہ کشن پرشاد کی مجلس میں انھوں نے اکبر حیدری سے کہا۔ سر اکبر حیدری اس وقت آپ کے دل میں جو بات ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں بتا دوں! اکبر حیدری یہ سُن کر اچھل پڑے اور کہا ’’آپ برسرِ عام میرے دل کی بات نہ بتائیں، ورنہ بڑا غضب ہو جائے گا‘‘ اس نے ایک پرچے پر وہ بات لکھ دی۔ اکبر حیدری دنگ ہو کر رہ گئے۔ اس کے کمال کا اعتراف کیا اور پرچہ کو چاک کر کے جیب میں رکھ لیا۔

