ان دنوں میں عورتوں کے پردے کی نسبت متعدد تحریرات اخباروں میں شائع ہوتی ہیں اور ہمارے بعض عزیز جن کو ہم لحمک لحمی کہہ سکتے ہیں اور بعض ہمارے مخدوم جن کو ہم فخرِ قوم کہہ سکتے ہیں، پردے کے مخالف ہیں، مگر ہم کو گو لوگ نئے فیشن کا سمجھیں، مگر ہم تو اگر اُسی پرانے فیشن کے نہیں ہیں تو دقیانوسی مزاج کے تو ضرور ہیں اور اس لیے ہم اپنے مخدوموں کی رائے کے مخالف ہیں اور عورتوں کا پردہ جو مسلمانوں میں رائج ہے اُس کو نہایت عمدہ سمجھتے ہیں۔
اس بات پر بحث کرنی کہ قرآنِ مجید سے پردۂ مروجۂ عوراتِ اہلِ اسلام ثابت ہوتا ہے یا نہیں، محض فضول ہے، کیونکہ اگر مسلمان مرد اپنے افعال و عادات میں پابندِ شریعت اور تابعِ احکامِ قرآنی ہوتے تو اُس وقت عورتوں کے پردے کی بابت اس بات کی گفتگو کرنی کہ قرآنِ مجید سے مروجہ پردہ ثابت ہے یا نہیں، زیبا ہوتی، مگر جب ہمارے مردوں کی نسبت قرآنِ مجید کے کسی امر کے اتباع کی نسبت بحث نہیں کی جاتی تو عورتوں کے پردے کی نسبت یہ بحث کرنی کہ قرآنِ مجید سے ثابت ہے یا نہیں، کیسی نازیبا معلوم ہوتی ہے۔
یہ خیال کرنا کہ اگر پردے کی رسم اُٹھ جائے تو ہندوستانیوں کو انگریزوں سے زیادہ راہ و رسم اور ارتباط کا موقع ملے گا، محض غلط خیال ہے۔ پہلے اپنے تئیں تو انگریزوں سے ملنے اور ارتباط پیدا کرنے کے قابل بنا لو، پھر عورتوں کی طرف متّوجہ ہونا
|
تو کارِ زمیں را نکو ساختی |
کہ با آسماں نیز پرداختی1 |
|
ترجمہ کیا تُو نے زمین کا کام اچھی طرح سنوار لیا ہے کہ اب آسمان سے بھی سروکار رکھنے لگا؟ |
|
اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ پنجم (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 186 تا 187 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔ کتاب میں اس مضمون کی اصل اشاعت کا حوالہ درج نہیں۔
