پرتوِ آہی ز جیبت گل نکرد ای دل چرا | ہمچو شمعِ کشتہ بی نوری درین محفل چرا |
ترجمہ اے دل، تیرے گریبان سے کسی آہ کی روشنی کا پھول کیوں نہ کھلا، بجھی ہوئی شمع کی طرح اس محفل میں یہ بے نوری کیوں ہے۔ | |
مشتِ خونِ خود چو گل باید بہ روی خویش ریخت | بی ادب آلودہ سازی دامنِ قاتل چرا |
ترجمہ پھول کی طرح اپنے خون کی مٹھی اپنے ہی چہرے پر ملنی چاہیے، اے بے ادب، تو قاتل کا دامن کیوں آلودہ کرتا ہے۔ | |
خاکِ صد صحرا زدی آب از عرقہای تلاش | راہِ جولانِ ہوس کامی نکردی گل چرا |
ترجمہ تو نے تلاش کے پسینوں سے سو صحراؤں کی خاک پر پانی چھڑکا، مگر ہوس کی جولاں گاہ کی راہ کو گارا کیوں نہ کیا۔ | |
منزلت عرضِ حضور است و مقامت اوجِ قرب | نورِ خورشیدی بہ خاکِ تیرۂ مایل چرا |
ترجمہ تیرا مرتبہ حضور کی عرض ہے اور تیرا مقام قرب کی بلندی، تو سورج کا نور ہو کر تاریک خاک کی طرف کیوں مائل ہے۔ | |
سعیِ آرامت قفس فرسودۂ ابرام کرد | سر نمی دزدی زمانی در پرِ بسمل چرا |
ترجمہ آرام کی کوشش نے تیرے قفس کو اصرار سے گھسا دیا، تو کچھ دیر بسمل کے پروں میں سر کیوں نہیں چھپاتا۔ | |
چون سلیمان ہم گرہ بر باد نتوانست زد | ای حباب این سرکشی بر عمرِ مستعجل چرا |
ترجمہ جب سلیمان بھی ہوا پر گرہ نہ لگا سکے، تو اے حباب، اس جلد گزر جانے والی عمر پر یہ سرکشی کیوں۔ | |
نیست از جیبِ تو بیرون گوہرِ مقصودِ تو | بی خبر سر می زنی چون موج بر ساحل چرا |
ترجمہ تیرے مقصود کا موتی تیرے گریبان سے باہر نہیں، اے بے خبر، تو موج کی طرح ساحل پر سر کیوں پٹختا ہے۔ | |
جلوہ گاہِ حسنِ معنی خلوتِ لفظ است و بس | طالبِ لیلی نشیند غافل از محمل چرا |
ترجمہ معنی کے حسن کی جلوہ گاہ لفظ کی خلوت ہی ہے، لیلیٰ کا طالب محمل سے غافل کیوں بیٹھا ہے۔ | |
تا بہ کی بی مدعا چون شمع باید رفتنت | جادۂ خود را نسازی محو در منزل چرا |
ترجمہ کب تک شمع کی طرح تجھے بے مقصد چلتے رہنا ہے، تو اپنی راہ کو منزل میں محو کیوں نہیں کر دیتا۔ | |
بر دو عالم ہر مژہ برہم زدن خط می کشی | نیست یک دم نقشِ خویش از صفحہ ات زایل چرا |
ترجمہ تو ہر پلک جھپکنے میں دونوں جہان پر خط کھینچ دیتا ہے، مگر اپنا نقش ایک لمحے کو بھی اپنے صفحے سے کیوں نہیں مٹتا۔ | |
جود اگر در معرضِ احسان تغافل پیشہ نیست | می درد حاجت گریبان از لبِ سایل چرا |
ترجمہ اگر احسان کے موقع پر سخاوت تغافل پیشہ نہیں تو حاجت سائل کے لب سے گریبان کیوں چاک کرتی ہے۔ | |
گوہرِ عرضِ حباب آیینہ دارِ حیرت است | ای طلسمِ دل عبث گل کردہ ای بیدل چرا |
ترجمہ حباب کے اظہار کا موتی حیرت کا آئینہ دار ہے، اے دل کے طلسم، اے بیدل، تو بے فائدہ کیوں کھل اٹھا۔ | |
