اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

پرتو آہی ز جیبت گل نکرد ای دل چرا

پرتوِ آہی ز جیبت گل نکرد ای دل چرا

ہمچو شمعِ کشتہ بی نوری درین محفل چرا

ترجمہ اے دل، تیرے گریبان سے کسی آہ کی روشنی کا پھول کیوں نہ کھلا، بجھی ہوئی شمع کی طرح اس محفل میں یہ بے نوری کیوں ہے۔

مشتِ خونِ خود چو گل باید بہ روی خویش ریخت

بی ادب آلودہ سازی دامنِ قاتل چرا

ترجمہ پھول کی طرح اپنے خون کی مٹھی اپنے ہی چہرے پر ملنی چاہیے، اے بے ادب، تو قاتل کا دامن کیوں آلودہ کرتا ہے۔

خاکِ صد صحرا زدی آب از عرقہای تلاش

راہِ جولانِ ہوس کامی نکردی گل چرا

ترجمہ تو نے تلاش کے پسینوں سے سو صحراؤں کی خاک پر پانی چھڑکا، مگر ہوس کی جولاں گاہ کی راہ کو گارا کیوں نہ کیا۔

منزلت عرضِ حضور است و مقامت اوجِ قرب

نورِ خورشیدی بہ خاکِ تیرۂ مایل چرا

ترجمہ تیرا مرتبہ حضور کی عرض ہے اور تیرا مقام قرب کی بلندی، تو سورج کا نور ہو کر تاریک خاک کی طرف کیوں مائل ہے۔

سعیِ آرامت قفس فرسودۂ ابرام کرد

سر نمی دزدی زمانی در پرِ بسمل چرا

ترجمہ آرام کی کوشش نے تیرے قفس کو اصرار سے گھسا دیا، تو کچھ دیر بسمل کے پروں میں سر کیوں نہیں چھپاتا۔

چون سلیمان ہم گرہ بر باد نتوانست زد

ای حباب این سرکشی بر عمرِ مستعجل چرا

ترجمہ جب سلیمان بھی ہوا پر گرہ نہ لگا سکے، تو اے حباب، اس جلد گزر جانے والی عمر پر یہ سرکشی کیوں۔

نیست از جیبِ تو بیرون گوہرِ مقصودِ تو

بی خبر سر می زنی چون موج بر ساحل چرا

ترجمہ تیرے مقصود کا موتی تیرے گریبان سے باہر نہیں، اے بے خبر، تو موج کی طرح ساحل پر سر کیوں پٹختا ہے۔

جلوہ گاہِ حسنِ معنی خلوتِ لفظ است و بس

طالبِ لیلی نشیند غافل از محمل چرا

ترجمہ معنی کے حسن کی جلوہ گاہ لفظ کی خلوت ہی ہے، لیلیٰ کا طالب محمل سے غافل کیوں بیٹھا ہے۔

تا بہ کی بی مدعا چون شمع باید رفتنت

جادۂ خود را نسازی محو در منزل چرا

ترجمہ کب تک شمع کی طرح تجھے بے مقصد چلتے رہنا ہے، تو اپنی راہ کو منزل میں محو کیوں نہیں کر دیتا۔

بر دو عالم ہر مژہ برہم زدن خط می کشی

نیست یک دم نقشِ خویش از صفحہ ات زایل چرا

ترجمہ تو ہر پلک جھپکنے میں دونوں جہان پر خط کھینچ دیتا ہے، مگر اپنا نقش ایک لمحے کو بھی اپنے صفحے سے کیوں نہیں مٹتا۔

جود اگر در معرضِ احسان تغافل پیشہ نیست

می درد حاجت گریبان از لبِ سایل چرا

ترجمہ اگر احسان کے موقع پر سخاوت تغافل پیشہ نہیں تو حاجت سائل کے لب سے گریبان کیوں چاک کرتی ہے۔

گوہرِ عرضِ حباب آیینہ دارِ حیرت است

ای طلسمِ دل عبث گل کردہ ای بیدل چرا

ترجمہ حباب کے اظہار کا موتی حیرت کا آئینہ دار ہے، اے دل کے طلسم، اے بیدل، تو بے فائدہ کیوں کھل اٹھا۔