پاسِ کارِ خود نباشد صاحبِ تدبیر را | دست بر قیدِ صدا مشعل بود زنجیر را |
ترجمہ تدبیر والے کو اپنے کام کا پاس نہیں ہوتا؛ زنجیر کے لیے آواز کی قید پر رکھا ہاتھ ہی مشعل ہوتا ہے۔ | |
نفع زین بازار نتوان برد بی جنسِ فریب | ای کہ سود اندیشہ ای سرمایہ کن تزویر را |
ترجمہ اس بازار سے فریب کے مال کے بغیر نفع نہیں کمایا جا سکتا؛ اے سود کی فکر کرنے والے! مکر کو سرمایہ بنا۔ | |
نیست آسان راہ بر قصرِ اجابت یافتن | احتیاطی کن کمندِ نالۂ شبگیر را |
ترجمہ قبولیت کے محل تک راہ پانا آسان نہیں؛ سحر گاہی نالے کی کمند کی کچھ احتیاط رکھو۔ | |
سادہ دل از کبرِ دانش ترش رویی می کشد | جوہر اینجا چینِ ابرو می شود شمشیر را |
ترجمہ سادہ دل علم کے غرور سے ترش روئی سہتا ہے؛ یہاں جوہر تلوار کے لیے ابرو کی شکن بن جاتا ہے۔ | |
بینوایی بین کہ در ہمرازیٔ درسِ جنون | سرمہ شد بختِ سیاہم حلقۂ زنجیر را |
ترجمہ میری بے نوائی دیکھو کہ جنون کے سبق کی ہمرازی میں میرا سیاہ بخت زنجیر کے حلقے کا سرمہ بن گیا۔ | |
در بیابانِ تحیر نم ز چشمِ ما مخواہ | بی نیاز از اشک می دان دیدۂ تصویر را |
ترجمہ حیرت کے بیابان میں ہماری آنکھ سے نمی نہ مانگو؛ تصویر کی آنکھ کو آنسو سے بے نیاز سمجھو۔ | |
وعظِ مردم غفلتِ ما را قوی سرمایہ کرد | خوابِ ما افسانہ فہمید آن ہمہ تعبیر را |
ترجمہ لوگوں کے وعظ نے ہماری غفلت کا سرمایہ اور بڑھا دیا؛ ہماری نیند نے وہ ساری تعبیر افسانہ سمجھی۔ | |
در محبت داغدارِ کوششِ بی حاصلم | برقِ آہِ من نمی سوزد مگر تأثیر را |
ترجمہ محبت میں میں اپنی بے حاصل کوشش کا داغ دار ہوں؛ میری آہ کی بجلی تاثیر کے سوا کچھ نہیں جلاتی۔ | |
نقشِ ہستی سرخطِ لوحِ خیالی بیش نیست | ہم بہ چشمِ بستہ باید خواند این تحریر را |
ترجمہ ہستی کا نقش ایک خیالی تختی کے سرنامے سے زیادہ نہیں؛ یہ تحریر بند آنکھ ہی سے پڑھنی چاہیے۔ | |
نغمۂ قانونِ وحدت بر تو نازشہا کند | گر بہ رنگِ تارِ ساز از بم ندانی زیر را |
ترجمہ اگر تم ساز کے تار کی طرح بم اور زیر میں فرق نہ کرو تو وحدت کے قانون کا نغمہ تم پر ناز کرے گا۔ | |
آنقدر یأسم شکست آخر کہ چون بنیادِ رنگ | قطع کرد آب و گلِ من الفتِ تعمیر را |
ترجمہ مایوسی نے آخر مجھے اتنا توڑا کہ رنگ کی بنیاد کی طرح میرے آب و گل نے تعمیر کی الفت ہی ختم کر دی۔ | |
راست بازان را ز حکمِ کج سرشتان چارہ نیست | با کمان بیدل اطاعت لازم آمد تیر را |
ترجمہ راست بازوں کے لیے کج سرشتوں کے حکم سے چارہ نہیں؛ اے بیدل! تیر کے لیے کمان کی اطاعت لازم ٹھہری۔ | |
