پیام داشت بہ عنقا خطِ جبینِ حباب | کہ گردِ نام نشستہ است بر نگینِ حباب |
ترجمہ حباب کی پیشانی کی تحریر عنقا کے لیے یہ پیغام رکھتی تھی کہ حباب کے نگینے پر نام کی گرد جمی ہوئی ہے۔ | |
نفس شمارِ زمانیم تا نفس نزدن | ہمین شہورِ حباب و ہمین سنینِ حباب |
ترجمہ سانس روکنے تک ہم زمانے کے سانس گننے والے ہیں؛ حباب کے یہی مہینے ہیں اور یہی برس۔ | |
ز ششجہت مژہ بندید و سیرِ خویش کنید | نگہ کجاست بہ چشمِ خیال بینِ حباب |
ترجمہ شش جہت سے پلکیں بند کر لو اور اپنی سیر کرو؛ حباب کی خیال بین آنکھ میں نگاہ کہاں ہے۔ | |
ز عمر ہرچہ رود، آمدن نمی داند | مخور فریبِ نفسہای واپسینِ حباب |
ترجمہ عمر سے جو کچھ چلا جائے وہ لوٹنا نہیں جانتا؛ حباب کے آخری سانسوں کا فریب نہ کھا۔ | |
بہ فرصتی کہ نداری کدام عشوہ چہ ناز | ز فربہی نکنی تکیہ بر سرینِ حباب |
ترجمہ جو فرصت تیرے پاس ہے ہی نہیں اس میں کون سا عشوہ اور کیسا ناز؛ فربہی کے دھوکے میں حباب کے کولہے پر تکیہ نہ کرنا۔ | |
مقیمِ پردۂ ناموسِ فقر باید بود | کجاست دست کہ برداری آستینِ حباب |
ترجمہ فقر کی ناموس کے پردے میں مقیم رہنا چاہیے؛ وہ ہاتھ کہاں ہے جس سے تو حباب کی آستین اٹھائے۔ | |
چہ نشئہ داشت می ساغرِ سبکروحی | کہ گشت موجِ گہر دردِ تہ نشینِ حباب |
ترجمہ سبک روحی کے ساغر کی شراب میں کیسا نشہ تھا کہ موتی کی موج حباب کی تہ نشین تلچھٹ بن گئی۔ | |
سحابِ مزرعۂ اعتبار منفعلی ست | تو ہم نمی ز عرق ریز بر زمینِ حباب |
ترجمہ اعتبار کی کھیتی کا بادل شرمساری ہے؛ تو بھی حباب کی زمین پر پسینے سے کچھ نمی برسا۔ | |
دماغِ کسبِ وقارم نشد کفیلِ وفا | جہان بہ کیشِ گہر ساخت من بہ دینِ حباب |
ترجمہ وقار کمانے کا دماغ میری وفا کا ضامن نہ بنا؛ جہان نے گوہر کا مسلک اپنایا اور میں نے حباب کا دین۔ | |
کراست ضبطِ عنان عرصۂ گروتازی ست | برآمدہ ست سوارِ نفس بہ زینِ حباب |
ترجمہ باگ تھامنے کی قدرت کس میں ہے، یہ بازی کی دوڑ کا میدان ہے؛ سانس کا سوار حباب کی زین پر چڑھ بیٹھا ہے۔ | |
زمانِ پر زدنِ زندگی معین نیست | تو محو باش تہ دامن است جبینِ حباب |
ترجمہ زندگی کے پر مارنے کا وقت مقرر نہیں؛ تو محو رہ، حباب کی پیشانی دامن کے نیچے ہے۔ | |
شکستِ دل بہ چہ تدبیر کم شود بیدل | ہزار موج کمر بستہ در کمینِ حباب |
ترجمہ بیدل، دل کی شکست کس تدبیر سے کم ہو؛ ہزار موجیں حباب کی گھات میں کمر باندھے بیٹھی ہیں۔ | |
