اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

پُردرد اور عاجزانہ دعا

(تہذیب الاخلاق بابت 10 محرم 1289ھ‌20 مارچ 1872ء)

یہ دوسری پردرد اور عاجزانہ دعا ہے جس سے ہم سرسید کے قابلِ قدر مقالات کی ابتدا کر رہے ہیں۔ ان دونوں دعاؤں کے پڑھنے سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح ظاہر ہو جاتی ہے کہ سرسید کے دل میں اسلام کا کتنا درد تھا اور وہ مسلمانوں کے کس قدر ہمدرد تھے اور کس درد اور تڑپ کے ساتھ خداوندِ کریم کے حضور عاجزانہ طور پر دعائیں مانگتے تھے۔ یہ دعا جو ذیل میں آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں سرسید نے 27 فروری 1872ء کو ایک عام جلسہ میں پڑھی تھی۔

(محمد اسماعیل پانی پتی)

اے خدا! اے خدا! بے شک خدا تو ہی ہے۔ تیرے سوا کوئی نہیں۔ اے خدا! اے خدا! بے شک تو ہی ازلی ہے اور تو ہی ابدی ہے۔ تیرے سوا کوئی نہیں۔ تو ہی ہمارا خالق ہے اور تو ہی ہمارا مالک۔ تو ہی ہمارا معبود ہے اور تو ہی ہمارا مسجود۔ تو ہی ہماری دعا ہے اور تو ہی ہمارا مدعا۔ تو ہی ہمارا مقصد ہے اور تو ہی ہمارا مقصود۔ الٰہی ہم تجھی کو چاہتے ہیں اور تجھی سے چاہتے ہیں۔ الٰہی ہم تجھی کو مانگتے ہیں اور تجھی سے مانگتے ہیں۔ اے میرے پیارے اللہ! ہمارا دل، ہماری جان، ہماری روح تیری ہی ہے اور تیرے ہی لئے ہے۔ اے قادرِ مطلق خدا! یہ تمام قویٰ جو ہم میں ہیں، تجھی سے ہیں اور تیرے ہی لئے ہیں۔ پس اپنی چیز کو اپنی ہی مرضی کے تابع رکھ۔

الٰہی ہم اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں۔ ہماری شامتِ اعمال نے ہم کو گناہوں کے کالے دریا میں ڈبو دیا ہے۔ الٰہی ہم نے تیری تقصیر کی ہے اور تیری امانت میں خیانت کی ہے۔ جو چیزیں تو نے ہم کو جن کاموں کے لئے دی تھیں ان سے ہم نے وہ کام نہیں لیا۔ الٰہی ہمارے نفسِ امارہ نے ہم کو بہکایا اور گناہ میں ڈالا۔ الٰہی ہم نے تیری نافرمانی کی اور تجھ سے یکتا خدا کی حکم عدولی کی۔ ہم بال بال گنہگار ہیں۔ گناہوں کے عمیق دریا میں غرق ہیں، مگر تیرے ہی سہارے کی امید ہے۔ پس اے ہمارے غفور الرحیم خدا ہماری دستگیری کر اور ہم کو گناہوں سے نکال اور آبِ رحمت سے ہمارے گناہوں کو دھو اور ہمارے دل کو برف سے زیادہ سفید اور اپنی ذات کے نور سے سورج سے بھی زیادہ چمکیلا کر۔

اے خدا تو بے شک بے نیاز ہے۔ تیری بے نیازی ہم کو تسلیم ہے، مگر کیا تو ہم سے بھی بے نیاز ہے۔

گیرم کہ غمت نیست، غمِ ما ہم نیست

ترجمہ اردو جریدہ: مانا کہ تجھے اپنا غم نہیں، (تو کیا) ہمارا غم بھی نہیں؟

نہیں نہیں حاشا و کلا1 تو ہمارے ماں باپ سے بھی زیادہ ہمارا غم خوار ہے۔ جیسے کہ ہم تجھ سے بے نیاز نہیں ہیں، ویسا ہی تو بھی ہم سے بے نیاز نہیں۔ اے خدا! اے خدا! ہمارا اور تیرا یہ رشتہ کہ تو ہمارا خدا ہے اور ہم تیرے بندے اور تو ہمارا خالق ہے اور ہم تیری مخلوق، کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔ اے ہمارے عظیم الشان خدا! اگر تجھ کو خدائے ذوالجلال، وحدہ لاشریک ہونے کی عزت حاصل ہے تو ہم کو بھی تیرے بندے ہونے پر بہت ہی کچھ فخر ہے۔ پس اپنے جلال کو دیکھ اور اپنے بندوں کی دستگیری کر۔

الٰہی! ہمارا دل اور ہماری جان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین و رحمۃ للعالمین پر فدا ہو جن کو تو نے ہماری ہدایت کے لئے بھیجا اور جن کی ہدایت سے ہم نے تجھ کو جانا۔ پس تجھ سے ہم نے رسول اللہ کو پایا اور محمدؐ رسول اللہ سے تجھ کو۔

محمدؐ از تو میخواہم خدا را

خدایا از تو خواہم مصطفیٰ را

ترجمہ اردو جریدہ: اے محمدؐ! میں تجھ سے خدا کو چاہتا ہوں؛ اے خدا! میں تجھ سے مصطفیٰ کو چاہتا ہوں۔

پس اے خدا تو ہمیشہ ہم کو ان کی راہ پر رکھ اور ان پر اور ان کی آل و اصحاب پر اپنی رحمت نازل کر۔ اللهم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد کما صلیت علیٰ ابراهیم و علیٰ آل ابراهیم انک حمید مجید2۔

اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 5 تا 7 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔