(تہذیب الاخلاق جلد دوم نمبر 9 (دور سوم) بابت یکم جمادی الثانی 1313ھ)
حضرت نوح نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو۔ اُس کے سوا تمہارے لیے کوئی معبود نہیں۔ جو لوگ کہ اُن کی قوم میں کافر تھے اُنھوں نے کہا کہ جیسے تم آدمی ہو اس سے زیادہ یہ کچھ نہیں ہے۔ تم پر اپنی بڑائی چاہتا ہے۔ اگر خدا چاہتا تو کوئی فرشتہ بھیجتا اور ہم نے اپنے پرکھوں سے کوئی ایسی بات نہیں سنی۔ یہ تو مجنون آدمی سے زیادہ کچھ نہیں ہے، پھر چند روز اس کو اور دیکھو۔ (سورۂ مومنون)
حضرت نوح نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ جو لوگ کہ اُن کی قوم میں کافر تھے اُنھوں نے کہا کہ ہم تو تجھ میں اپنا سا آدمی ہونے کے سوا کچھ نہیں دیکھتے، اور ہم نہیں دیکھتے کہ بجز کمینہ سپاٹ عقل کے آدمیوں کے اور کسی نے تیری پیروی کی ہو اور ہم تو اپنے پر تم میں کچھ بزرگی نہیں دیکھتے بلکہ تم کو جھوٹا گمان کرتے ہیں۔ حضرت نوح نے کہا کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اُن کو میں اپنے سے جدا نہیں کر سکتا، لیکن میں تم کو ایک جاہل قوم پاتا ہوں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب کو جانتا ہوں اور نہ میں اپنے تئیں فرشتہ کہتا ہوں۔ (سورۃ ہود)
حضرت نوح نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو۔ اُس کے سوا تمہارے لیے کوئی معبود نہیں۔ اُن کی قوم کے لوگوں نے کہا کہ ہم تو تجھ کو صریح گمراہی میں دیکھتے ہیں۔ حضرت نوح نے کہا کہ میں تو گمراہی میں نہیں ہوں، بلکہ خدا کا رسول ہوں۔ خدا کا پیغام تم تک پہنچاتا ہوں۔ کیا تم تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار سے کچھ نصیحت تم میں سے کسی آدمی کے پاس آئے پھر انھوں نے حضرت نوح کو جھٹلایا۔ (سورۂ اعراف)
حضرت نوح نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر میری نصیحتیں تم پر گراں ہیں تو تم اور تمہارے شریک مل کر پکا ارادہ کرو اور اپنی بات کو سوچو تو تم پر چھپی نہیں رہے گی اور پھر میرے پاس آؤ۔ (سورۂ یونس)
اس آیت میں جو ’’شرکاء‘‘ کا لفظ ہے تفسیرِ کبیر میں اُس سے اُن کے اہلِ مذہب سے مراد لی ہے اور ایک قول یہ لکھا ہے کہ اس سے بت مراد ہیں جن کو وہ اپنا معبود سمجھتے تھے، مگر ظاہراً پہلا قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔ (جلد سوم صفحہ 614)
اور ہم نے نوح کی دعا قبول کی اور ہم نے اس کو مدد دی اُس قوم پر جس نے جھٹلایا ہماری نشانیوں کو۔ بیشک وہ قوم تھی سوء، یعنی بدکار۔ (سورۂ انبیاء)
جب نوح اپنی قوم کو نصیحت کرتے تھے تو ان کی قوم نے کہا کہ اے نوح! اگر تم نہ باز آؤگے تو تم سنگسار کئے جاؤگے۔ (سورۂ شعراء)
قوم نوح کی فاسق، یعنی بدکار تھی۔ (سورۂ ذاریات)
اور نوح کی قوم تھی اظلم اور اطغیٰ، یعنی بہت ظالم اور حد سے گزرنے والی۔ (سورۂ نجم)
ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ نوح نے کہا کہ اے قوم میں! تمہارے لیے کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ عبادت کرو اللہ کی اور اس سے ڈرو اور میری تابعداری کرو، خدا تمہارے گناہ بخشے گا۔ نوح نے خدا سے کہا کہ اے میرے پروردگار! میں نے دن رات قوم کو سمجھایا اور میرے سمجھانے سے بجز اس کے کہ بھاگیں اور کچھ نہیں ہوا۔ وہ اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیتے تھے اور اپنے کپڑے لپیٹ لیتے تھے اور اپنی بات پر اصرار کرتے تھے اور نہایت مغرور تھے۔ میں نے ان کو پکار کر سمجھایا، پھر میں نے ان کو علانیہ اور خاموشی سے تبلیغ کی۔ پھر میں نے اُن کو کہا کہ معافی چاہو اپنے پروردگار سے، بیشک وہ بخشنے والا ہے۔ تم پر مینہ برساوے گا زور کا اور مال سے اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور نہریں بہائے گا۔ تم کو کیا ہوا ہے کہ تم خدا کی بڑائی کا اعتقاد نہیں رکھتے، حالانکہ اُس نے تم کو پیدا کیا ہے طرح طرح کا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ کس طرح پیدا کیا اللہ نے سات آسمانوں کو اوپر تلے اور پیدا کیا ان میں چاند کو چمکتا ہوا اور پیدا کیا سورج کو روشن اور اللہ نے اُگایا تم کو زمین سے ایک طرح کا اگانا۔ پھر تم کو لے جائے گا اُسی میں اور نکالے گا تم کو ایک طرح کا نکالنا، اور بنایا اللہ نے تمہارے لیے زمین کو پھیلا ہوا، تاکہ تم اُس میں چوڑے رستوں پر چلو۔ نوح نے کہا کہ اے میرے پروردگار! اُنھوں نے میری نافرمانی کی، اور پیروی کی اُن کی جن کے مال نے اور جن کی اولاد نے نقصان کے سوا کچھ فائدہ نہیں دیا اور مکر کیا بہت بڑا مکر اور انھوں نے کہا کہ مت چھوڑو اپنے معبودوں کو اور مت چھوڑو ود کو اور نہ سواع کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو۔ بیشک انھوں نے بہتوں کو گمراہ کیا اور ظالموں کو بجز گمراہی کے اور کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ بسبب اپنے گناہوں کے وہ غرق کیے گئے اور ڈالے گئے آگ میں۔ نہ پایا انھوں نے اپنے لیے خدا کے سوا کوئی مدد دینے والا۔ نوح نے کہا کہ اے میرے پروردگار! مت چھوڑ زمین پر کافروں میں سے کسی بسنے والے کو۔ بیشک اگر تو اُن کو چھوڑے گا گمراہ کریں گے تیرے بندوں کو اور نہ جنیں گے بجز فاجروں اور کافروں کے۔ (سورۂ نوح)
قرآنِ مجید میں جو کچھ کہ حضرت نوح کی قوم کا بیان ہوا ہے اور جس کا خلاصہ ہم نے لکھا ہے اُس سے بجز ایک آیت کے جس میں بتوں کا ذکر ہے اور جس پر ہم بحث کریں گے قومِ نوح کی بت پرستی معلوم نہیں ہوتی۔ صرف ایک آیت سے استدلال ہو سکتا ہے کہ وہ معاد اور حشرِ اجساد کے منکر تھے۔ ہاں اسی کے ساتھ تعجب ہوتا ہے کہ حضرت نوح نے دین کی جزا کو دنیاوی باتوں میں بتلایا، عقبیٰ کے ثواب عذاب کا ذکر نہیں کیا، مگر یہ بات بیشک ثابت ہوتی ہے کہ نوح کی قوم نہایت بدکار، ظالم اور نافرمان تھی اور انھوں نے سوائے خدا کے اور الٰہ قرار دیے تھے اور اُن کی پرستش کرتے تھے، مگر یہ بات تحقیق طلب ہے کہ جو الٰہ انھوں نے قرار دیے تھے اُن کی مورتیں بھی بنا کر رکھی تھیں اور اُن کی پرستش کرتے تھے۔
توریت میں جس قدر بیان حضرت نوح اور اُن کی قوم کا ہے اُس میں بھی اُن کی شرارت، گمراہی اور بدی کا ذکر ہے، مگر بت پرستی کا ذکر نہیں۔ چنانچہ توریت کتابِ پیدائش باب اول آیت 5 میں لکھا ہے ’’خداوند دید کہ شرارتِ انسان در زمین بسیار شد و اینکہ ہر تصورے از تدبیراتِ قلبِ ایشان ہموارہ محض بدی می بود‘‘1 اور اسی باب کی آیت 11 و 12 میں ہے ’’و زمین در حضورِ خدا فاسد شد، چہ زمین از ظلم پر گردید و خدا بزمین ملاحظہ نمود کہ اینک فاسد شدہ چونکہ ہر بشر برروئے زمین طریقۂ خود را فاسد گردانیدہ بود۔2
ایک اور بات بھی غور کرنے کے لائق ہے کہ توریت کتابِ پیدائش باب 1 آیت 26 میں لکھا ہے:
’’ویومر الوہیم نعسہ آدم بصلمنوا لک موتنو‘‘ یعنی اور کہا خدا نے بنائیں ہم آدم کو اپنی پرچھائیں سے مانند اپنی شبیہ کی، اور چوتھے باب کی چھبیسویں آیت میں ہے:
ولشیث کم ہو یولت بن و یقرا ایث شمو انوش ازہوحل لقرو بشم یہواہ۔
اور شیش اس سے پیدا ہوا بیٹا اور پکارا اُس کا نام انوش، مگر اس سے آگے جو الفاظ آئے ہیں اُن کے ترجمے میں بہت اختلاف ہے۔ مترجموں نے بعض الفاظ کو اصل سے زیادہ کر کے ترجمہ کیا ہے۔ بشپ پیٹرک کہتے ہیں کہ مشہور آدمیوں نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ اُس وقت آدمی یعنی اولاد شیش کی اپنے تئیں خدا کے نام سے پکارنے لگی۔ بشپ پیٹرک کہتے ہیں کہ یعنی بامتیاز اولادِ قائن کے اور بامتیاز اور کافر شخصوں کے جنھوں نے خدا سے انحراف کیا تھا، اپنے تئیں خدا کا خادم اور خدا کا پوجنے والا پکارا۔
بہر حال اس آیت سے پایا جاتا ہے کہ جو لوگ مقدس اور پاک تھے ان کو خدا کہہ کر پکارتے تھے اور یہی بنی بنیاد پڑی خدا کے سوا اوروں کو خدا ماننے کی، مگر اب تک یہ ظاہر نہیں ہوا کہ نوح کی قوم میں بت پرستی جاری ہو گئی تھی۔
اب ہم کو بحث کرنے کی ہے قرآنِ مجید کی اس آیت پر ’’وقالوا لا تذرن آلہتکم ولا تذرن ودا ولا سواعاً ولا یغوث ویعوق ونسرا‘‘ یعنی انھوں نے کہا کہ کبھی نہ چھوڑو اپنے الٰہوں، یعنی معبودوں کو اور ہرگز نہ چھوڑو ود کو اور نہ سواع کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو۔
اس آیت میں اس بات پر بحث ہے کہ ’’قالوا‘‘ میں جو ضمیر ہے اُس کا مرجع کیا ہے اور کہنے والے کون ہیں۔ اگر اُس کے کہنے والے نوح کی قوم کے لوگ ہوں تو اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پانچوں بت جن کے نام اوپر بیان ہوئے ہیں، قومِ نوح کے بت تھے اور اگر اس کو جملہ مستانفہ قرار دیا جائے جیسا کہ سورۂ ہود میں حضرت نوح کے قصے کی اس آیت کو ’’ام یقولون افتراہ قل ان افتریتہ فعلی اجرامی وانا بریئی مما تجرمون‘‘3 جملہ مستانفہ قرار دیا ہے اور افتراہ اور افتریتہ کی ضمیر کو قرآن کی طرف راجع کیا ہے تو ’’قالوا‘‘ میں جو ضمیر ہے اُس کا مرجع کفار ہوں گے اور اس صورت میں یہ پانچوں بت جن کے نام اوپر مذکور ہوئے ہیں کفارِ عرب کے بت ہوں گے، نہ قومِ نوح کے۔
ہم ابھی اس کا کچھ تصفیہ نہیں کرتے، اس لیے کہ مسٹر جارج نے جو بغداد میں برٹش رزیڈنٹ تھے 1820ء میں اور مسٹر بوٹا نے جو موصل میں فرنچ کونسل تھے 1842ء میں اور مسٹر لیاڈ نے جو انگریزی سیاح تھے 1847ء میں بابل اور نینوا کے کھنڈرات کو کھود کر بہت سے قدیم زمانے کے بت نکالے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اول ان بتوں کا حال وقتاً فوقتاً تہذیب الاخلاق میں لکھیں اور نیز اس بات کو بھی دیکھیں کہ بائیبل میں بھی ان بتوں میں سے کسی بت کا ذکر ہے یا نہیں اور جو بت کہ نکلے ہیں یا جن کا ذکر بائیبل میں ہو وہ طوفان سے پہلے کے تھے یا طوفان کے بعد کے۔ اس تحقیق کے بعد اس امر کا فیصلہ کریں گے کہ ’’قالوا‘‘ کی ضمیر قومِ نوح کے لوگوں کی طرف پھرتی ہے یا کفارِ عرب کی طرف۔
اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ ششم (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور، طبعِ دوم 1990ء)، صفحہ 52 تا 58 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔
