اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

قصص و احادیث و تفاسیر

(تہذیب الاخلاق جلدِ ہفتم یکم رجب 1294ھ‌12 جولائی 1877ء)

ہم اکثر اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ تفاسیر کے قصے اور تفسیروں کی حدیثیں لائق اعتماد کے نہیں ہیں اور اسی سبب سے ہم اُن کو لغو و مہمل سمجھتے ہیں اور اُن پر جب تک کہ درایۃً ان کی صحت نہ معلوم ہو اعتماد نہیں کرتے۔

ان دنوں میں ہمارے زمانہ کے مقدسین و متبحرین میں جھگڑا ہوا تھا۔ ایک گروہ کا باستدلالِ اثرِ ابن عباس یہ اعتقاد تھا کہ زمینیں اوپر تلے سات ہیں اور ہر ایک پر ایسا ہی آسمان، چاند، سورج، ستارے ہیں اور ہر ایک زمین میں ایک ایک باوا آدم اور ایک ایک نبیٔ آخرالزمان ہے۔ پس صرف محمد رسول اللہ صلعم ہی خاتم الانبیاء نہیں ہیں، بلکہ چھ اور بھی ہیں۔ دوسرے گروہِ مقدسین نے اُن کو کافر بتایا اور فتویٰ کفر دے گئے، اُن کے پیچھے نماز پڑھنی چھوڑ دی گئی۔ آخر یہاں تک نوبت پہنچی کہ مکۂ معظمہ کے علماء سے اُس میں فتویٰ پوچھا گیا اور وہ فتویٰ بطور ایک رسالہ کے مصر میں چھاپا گیا ہے جو اس وقت ہمارے سامنے رکھا ہوا ہے۔ ہم کو اُس بحث اور فتوے سے تو غرض نہیں، مگر اُس میں دو مقدمے ہیں جن میں وہی مضامین نسبت قصص تفسیروں کے اور اُن کی حدیثوں کے لکھے ہیں جو ہم اُن کی نسبت لکھتے ہیں۔ پس مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان دونوں مقدموں کو مع ترجمہ کے اس مقام پر لکھ دیں، تاکہ لوگ جانیں کہ ہمارے سوا اور بہت سے اکابرِ مکۂ معظمہ بھی ان قصص و حدیث کو لغو و نا معتبر سمجھتے ہیں۔

وهٰذه هی المقدمات

المقدمة الثامنة فی المغازی والملاحم والتفسیر توجد الروایات الکثیرة ونقل بعض المفسرین اکثر القصص والروایات عن الاسرائیلیات قال الشوکانی فی الفواید المجموعة فی الاحادیث الموضوعة فی آخر الباب الاول من کتاب الفضائل قال احمد بن حنبل ثلث کتاب لیس لها اصل المغازی والملاحم والتفسیر قال الخطیب هذا محمول علی کتب مخصوصة فی هذه المعانی الثلثة غیر معتمد علیها لعدم عدالة ناقلیها وزیادة القصص فیها اما کتب التفسیر فمن اشهرها کتابان للکلبی ومقاتل بن سلیمان قال احمد فی تفسیر الکلبی من اوله الی آخره کذب لا یحل النظر فیه وقد حمل هذا علی الاکثر (انتهی) ثم قال اقول

مقدمہ آٹھواں مغازی اور ملاحم اور تفسیر میں بہت روایات پائی جاتی ہیں اور اکثر مفسرین نے بہت زیادہ قصہ اور روایتیں یہودیوں سے نقل کی ہیں۔ شوکانی نے فواید المجموعه فی الاحادیث الموضوعه کی کتاب الفضائل کے بابِ اول کے آخر میں کہا ہے کہ کہا ہے امام احمد بن حنبل نے تین کتابیں ہیں کہ جن کی کچھ اصل نہیں ہے۔ مغازی اور ملاحم اور تفسیر۔ خطیب نے یہ کہا ہے کہ اس سے چند خاص کتابیں مراد ہیں اس فن کی جن پر اعتماد نہیں ہے کہ اُن کے راوی عدل نہیں ہیں اور اُن میں قصے بڑھا دیے ہیں اور تفسیر کی کتابوں سے بہت مشہور دو کتابیں کلبی کی اور مقاتل بن سلیمان کی ہیں۔ کہا ہے احمد نے کہ تفسیرِ کلبی کے حق میں یہ

لاشک ان کثیرا من کلام الصوفیة علی الکتاب العزیز هو بالتحریف اشبه منه بالتفسیر بل غالب ذلک من جنس تفاسیر الباطنة و تحریفاتهم ومن جملة التفاسیر تفسیر ابن عباس فانه مروی عن طریق الکذابین کالکلبی والسدی والمقاتل ذکر معنی ذلک السیوطی وقد سبقة الی معناه ابن تیمیة ومن کان من المفسرین تتفق علیه الاحادیث الموضوعة کالثعلبی والواحدی والزمخشری فلا یحل الوثوق بما یرویه عن السلف من التفسیر فانه اذا لم یفهم الکذب علی رسول الله صلی الله علیه وسلم لم یفهم الکذب علی غیره قال المحدث الدهلوی ولی الله فی الفوز الکبیر فی أصول التفسیر و درینجا باید دانست که قصص انبیائے سابقین در حدیث کم مذکور شده اند ایں قصص طویله عریضه که مفسرین تصدیع روایت آن میکشند همه منقول از علماء اهل کتاب است الا ما شاءالله۔ و در

کہا ہے کہ اول سے آخر تک جھوٹ ہے۔ اُس کو دیکھنا بھی حلال نہیں ہے اور اس کے یہ معنی کئے گئے ہیں کہ اُن میں سے اکثر جھوٹ ہیں اور پھر کہا ہے کہ کہتا ہوں میں کہ کچھ شک نہیں ہے کہ صوفیہ نے جو تاویلات کلام اللہ میں کی ہیں وہ بھی بمنزلہ تحریف کے ہیں نہ تفسیر کے، بلکہ اکثر وہ تفسیر ایسی ہیں جیسے فرقۂ باطنیہ کی تفسیر اور تحریفات ہیں اور تفسیروں میں سے ایک تفسیر عبداللہ بن عباس کی ہے کہ وہ منقول ہے جھوٹے راویوں کے ذریعہ سے جیسے کلبی اور سدی اور مقاتل۔ سیوطی نے اس کے یہ معنی کہے ہیں اور اُس سے پہلے ابن تیمیہ نے بھی یہی کہے تھے کہ مفسرین سے جو ایسا ہے کہ احادیثِ موضوعہ کو ذکر کرتا ہے جیسے ثعلبی اور واحدی اور زمخشری (جس کی تفسیرِ کشاف بہت مشہور ہے) وہ جو تفسیر سلف سے

صحیح بخاری آمده مرفوعاً (لا تصدقوا اهل الکتاب ولا تکذبوهم) انتهی کلامه بلفظه۔

ثم قال آنچه محمد بن اسحاق و واقدی و کلبی دریں باب افراط کرده اند و در زیر هر آیتے قصه آورده اند نزدیک محدثین اکثر آن غیر صحیح است و در اسناد آن نظر است۔

روایت کرے اس پر بھی اعتماد نہ کرنا چاہئے کہ جب وہ رسول ہی کی طرف جھوٹی روایت کو نہیں سمجھتا تو اوروں کی طرف کس طرح جھوٹ کو سمجھے گا۔ محدث دہلوی مولوی شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے فوزِ کبیر میں جو اصولِ تفسیر میں ہے کہا ہے کہ یہ جاننا چاہئے کہ پچھلے نبیوں کے قصے حدیث میں بہت کم مذکور ہوئے ہیں۔ یہ بڑے لمبے چوڑے قصے کہ مفسرین اُن کے لکھنے کی تکلیف اُٹھاتے ہیں، یہ سب اہلِ کتاب سے منقول ہیں اور صحیح بخاری میں یہ حدیثِ مرفوع منقول ہے کہ اہلِ کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب، پس ان قصوں کی بھی نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب۔

اور پھر کہا ہے کہ محمد ابن اسحاق اور واقدی نے اس باب میں بہت زیادتی کی ہے اور ہر آیت کی ذیل میں قصہ بیان کیا ہے۔ محدثوں کے نزدیک اکثر وہ صحیح نہیں ہے اور اس کی اسناد میں تامّل ہے۔

المقدمة العاشره قال التفتازانی فی شرح العقاید النسفیه ذیل شرح قول المصنف والاولی ان لا نقتصر علی عدد فی الایمان

دسواں مقدمہ علامہ تفتازانی نے شرحِ عقایدِ نسفی میں مصنف کے اس قول کی ذیل میں کہ بہتر یہ ہے کہ نبیوں پر ایمان لانے میں کسی

بالانبیاء (الخ) ان خبرالواحد علی تقدیر اشتماله علی جمیع الشرایط المذکورة فی اصول الفقه لا یفید الا الظن ولا عبرة بالظن فی باب الاعتقادات خصوصاً اذا اشتمل علی اختلاف الروایات وکان بموجبه مما یفضی الی مخالفة ظاهر الکتاب وهو ان بعض الانبیاء لم یذکر للنبی علیه السلام و یحتمل مخالفة الواقع وهو عد النبی من الانبیاء (انتهی کلامه بلفظه) وقال الخیالی فی حاشیة قوله علی تقدیر اشتماله علی جمیع الشرائط مثل العقل والضبط والعدالة والاسلام وعدم الطعن انتهی کلامه بلفظه۔

عددِ خاص پر اکتفا نہ کرے کہ اس معاملہ میں جو حدیث آئی ہے وہ خبرِ احاد ہے اور وہ حدیث جس کا راوی حضرت سے ایک ہی ہو اگر اُس میں وہ ساری شرائط بھی پائی جائیں جو اصولِ فقہ میں مذکور ہیں تو اس سے صرف ظن حاصل ہوتا ہے اور درباب اعتقاد کے ظن کا کچھ اعتبار نہیں، خاص کر جبکہ اُس میں اختلافِ روایات کا ہو اور اُس کے مطلب سے مخالفتِ ظاہرِ قرآن کی لازم آتی ہو اور وہ یہ ہے کہ بعض نبیوں کا ذکر حضرت سے نہیں کیا گیا اور نیز اس روایت میں احتمال مخالفتِ واقع کا بھی ہے کہ کوئی نبی غیر نبیوں میں نہ داخل ہو جائے یا غیر نبی نبیوں میں شُمار ہو جائے۔

اور خیالی نے اپنے حاشیہ میں کہا ہے کہ وہ شرائط جو حدیث میں معتبر ہیں، یہ ہیں۔ عقل اور حافظہ کا درست ہونا اور عادل ہونا اور اسلام اور اس میں کسی نے طعن نہ کیا ہو۔

خاتمہ پر ان لوگوں کی مہریں ہیں

(1) عبدالرحمٰن بن عبدالله سراج الحنفی مفتی بمکة المکرمه۔

(2) رحمت اللہ۔ یہ ہندوستان کے معروف و مشہور مولوی رحمت اللہ صاحب ہیں۔

(3) احمد بن زینی دحلان مفتی الشافعیه بمکة لمحمیه۔

(4) محمد بن عبدالله بن حمید مفتی الحنابله بمکة المشرفه۔

(5) حسین بن ابراهیم مفتی المالکیه بلید الله المحمیه۔

(6) ابراهیم بن محمد سعید۔

(7) السید محمد الکتبی الحنفی الخطیب و الام والمدرس بالمسجد الحرام۔

(8) محمد الحسینی الطندنائی الحنفی بالازهر۔

(9) عبدالقادر الدنیشانی الحنفی بالازهر۔

(10) محمد سالم العباسی العابدی الشافعی بالازهر۔

(11) محمد مطاع الشحیمی الشافعی الحسنی بالازهر۔

(12) السید محمد الطیب الشافعی بالازهر۔

(13) علی بن قاسم بن العباس الیمنی احد مجاورین الازهر۔

(14) محمد صادق مدراسی الحنفی القادری۔

اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 84 تا 89 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔