(از ’’آخری مضامینِ سرسید‘‘)
لوگ تعجب کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اتنی قسمیں کیوں کھائیں، مگر اس شبہ کے پیدا ہونے کا سبب یہ ہے کہ اُنہوں نے قرآنِ مجید کے طرزِ کلام پر غور نہیں کیا۔
اول یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ قرآنِ مجید بلا شبہ خدا کا کلام ہے، مگر وہ انسانوں کی زبان اور محاورہ میں نازل ہوا ہے اور اُس کا طرزِ کلام بعینہ ایسا ہے، جیسے کہ ایک نہایت فصیح شخص عربی زبان میں کلام کرتا ہو اور اس کی فصاحت بے مثل ہو۔
جس طرح کہ انسان کی زبانوں میں استعارہ اور کنایہ اور مجاز اور حقیقت پایا جاتا ہے، اسی طرح کلام اللہ میں بھی موجود ہے، یہاں تک کہ عربی زبان میں غیر قوموں کے جو الفاظ شامل ہو گئے تھے وہ بھی قرآنِ مجید میں ہیں۔ زمانۂ نبوت میں جو طرزِ کلام عرب میں تھا اور جس طرح کہ وہ بات چیت کرتے تھے یا اپنے کلام کے استحکام اور اس کے سچ ہونے پر زور دیتے تھے اور جس قدر الفاظ غیر قوموں کے اُن کی زبان میں مل گئے تھے اسی طرزِ کلام پر قرآنِ مجید نازل ہوا ہے۔
مثلاً لفظ سرادق جو قرآن میں ہے عربی کا لفظ نہیں ہے، بلکہ لفظ سرا پردہ جو فارسی زبان کا ہے اس کو معرب کر کے سرادق کر لیا ہے۔
ابریق کا لفظ بھی قرآنِ مجید میں موجود ہے، حالانکہ وہ عربی کا لفظ نہیں ہے، بلکہ فارسی لفظ آبریز کو معرب کر کے آبریق بنا لیا ہے۔
استبرق کا لفظ بھی قرآنِ مجید میں موجود ہے، وہ بھی عربی زبان کا لفظ نہیں ہے، بلکہ فارسی زبان کے لفظ استبرہ سے معرب کیا گیا ہے۔
کنز کا لفظ بھی قرآنِ مجید میں ہے اور وہ بھی عربی زبان کا لفظ نہیں ہے، بلکہ فارسی لفظ کنج سے معرب ہوا ہے۔
فردوس کا لفظ بھی قرآنِ مجید میں موجود ہے جو عربی زبان کا لفظ نہیں ہے، بلکہ آرین خاندان کی زبانوں سے لیا گیا ہے اور جو سنسکرت میں پردیشن1 ہے جس کے معنی اجنبی ملک کے ہیں۔ یہی لفظ ہے جس کی شکل انگریزی زبان میں پیراڈائز ہو گئی ہے۔
اسی طرح بہت سے لفظ قرآنِ مجید میں ہیں جو عربی زبان کے لفظ نہیں ہیں، بلکہ عبرانی، سریانی، قبطی، فارسی، لاطینی اور یونانی زبانوں سے معرب ہو کر عربی زبان میں شامل ہو گئے ہیں۔ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب ’’القان فی علوم القران‘‘ میں ایک مستقل باب ان الفاظ کے لئے باندھا ہے جو غیر زبانوں سے معرب ہو کر عربی زبان میں شامل ہو گئے ہیں اور قرآنِ مجید میں موجود ہیں۔
غرضیکہ قرآنِ مجید ایسی زبان میں نازل ہوا ہے جو اُس زمانہ کے اہلِ عرب کی زبان تھی۔
طرزِ کلام قرآنِ مجید کا بھی اسی زمانہ کے طرزِ کلام پر ہے۔ اُس زمانہ میں کاہنوں کی جو عرب میں مقدس گنے جاتے تھے، یہ عادت تھی کہ عموماً فصیح کلام کرتے تھے اور اکثر مقفیٰ کلام بولتے تھے اور قسموں کا استعمال بھی کرتے تھے اور جس بات کو وہ کہانت، یعنی اخبار بالغیب کے سچ سمجھتے تھے اور دوسروں کو اس کے سچ ہونے کا یقین دلانا چاہتے تھے، اس کو قسموں کے ساتھ بیان کرتے تھے۔ اسی طرزِ کلام پر جو عربوں کو عام طور پر مرغوب اور دل پسند تھا اور جو نہایت فصیح طرزِ کلام سمجھا جاتا تھا، قرآنِ مجید نازل ہوا ہے اور اُس میں بھی جن باتوں کا یقین دلانا منظور ہے ان کو قسموں کے ساتھ بیان کیا ہے اور اسی طرزِ کلام کے سبب سے عرب کے لوگ آنحضرتؐ کو کاہن خیال کرتے تھے جس کی قرآنِ مجید میں تردید کی گئی ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں خدا فرماتا ہے: فَلَا اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ اِنَّہ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ وَّمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِیْلًا مَّا تُوْمِنُوْنَ وَلَا بِقَوْلِ کَاھِنٍ قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ، یعنی جو چیز تم کو دکھائی دیتی ہے اور جو نہیں دکھائی دیتی، ہم کو اُس کی قسم ہے کہ یہ قرآنِ مجید ایک بڑے پیغمبر کا کلام ہے اور کسی شاعر کا کلام نہیں ہے، مگر تم بہت کم یقین کرتے ہو اور نہ وہ کسی کاہن کا قول ہے، مگر تم بہت کم غور کرتے ہو۔ یہ پروردگارِ عالم کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ (الحاقہ - 43 - 38)
اس تردید کو بھی خدا نے قسم ہی کے ساتھ بیان کیا ہے اور قسم بھی ایسی جو انہی کی سمجھ کے موافق تھی۔ دوسری جگہ خدا نے پیغمبر سے خطاب کر کے فرمایا ہے: فَذَکِّرْ فَمَا اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِکَاھِنٍ وَّلَا مَجْنُوْنٍ، یعنی اے پیغمبر تو نصیحت کئے جا۔ خدا کے فضل سے نہ تو کاہن ہے نہ مجنون ہے۔ (طور - 29)
زمانۂ جاہلیت کا کلام ہم تک بہت کم پہنچا ہے، مگر ابن اثیر نے اپنی کتاب کامل میں قبیلۂ بنی خزاعہ کے ایک کاہن کا قول ہاشم کی فضیلت اور امیّہ کے منقصت میں نقل کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے کس قدر قسمیں کھائی ہیں اور وہ قول یہ ہے: والقمر الباھر والکوکب الزاھر والغمام الماطر وما بالجو من طائر ما اھتدی بعلم مسافر من تنجد و غائر لقد بلق ھاشم امیہ فی الماثر اول منہ و اخر و ابو ھمھمہ بذلک خابر۔ یعنی قسم ہے روشن چاند کی، قسم ہے روشن ستاروں کی، قسم ہے برستے بادلوں کی، قسم ہے آسمان میں اڑنے والے پرندوں کی، قسم ہے اونچے اونچے راستوں میں چلنے والے مسافروں کے نشانوں سے ہدایت پانے کی ہاشم اُمیہ پر اگلی اور پچھلی نیکیوں میں سبقت لے گیا ہے اور ابو ہمہمہ کو اس بات کی خبر ہے (کاملِ ابن اثیر مطبوعہ مصر جلد دوم صفحہ 8)
اسی طرح قرآنِ مجید میں فرمایا گیا ہے۔ ’’وَالشَّمْسِ وَضُحٰھَا وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰھَا وَالنَّھَارِ اِذَا جَلّٰھَا وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشٰھَا وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰھَا وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰھَا۔‘‘ یعنی قسم ہے سورج کی اور اُس کی دھوپ کی، قسم ہے چاند کی جب وہ سورج کے پیچھے نکلتا ہے، قسم ہے دن کی جب کہ سورج اُس کو روشن کرتا ہے، قسم ہے رات کی جب سورج کو چھپا لیتی ہے، قسم ہے آسمان کی اور اُس کے بنانے والے کی۔ قسم ہے زمین کی اور اُس کے بنانے والے کی۔
پس یہ قسمیں اسی طرزِ کلام پر واقع ہوئی ہیں جو عرب کا طرزِ کلام تھا۔ ہاں اس طرح قسمیں کھانے پر اس بات کا شبہ پیدا ہوتا ہے کہ ہرگاہ خدا کے سوا اور کسی کی قسم کھانی منع کی گئی ہے تو خود خدا نے غیرِ خدا کی قسمیں کیوں کھائی ہیں، مگر غیرِ خدا کی قسمیں کھانے کا امتناع اس سبب سے ہے کہ غیرِ خدا کی قسمیں کھانے سے اس میں شانِ الوہیت کا شائبہ پایا جاتا ہے، مگر جب کہ تسلیم کر لیا جائے جیسا کہ قرآنِ مجید میں جا بجا بتایا گیا ہے کہ تمام چیزیں مخلوق ہیں اور خدا ان سب کا خالق ہے تو خدا اگر اپنی مخلوق کی قسم کھائے تو کسی طرح شائبۂ الوہیت اس مخلوق میں نہیں سمجھا جا سکتا اور اگر کچھ سمجھا جاتا ہے تو اسی قدر سمجھا جاتا ہے کہ وہ چیزیں اپنی خلقت میں یا انسان کے لئے مفید ہونے میں عظیم الشان اور عظیم القدر ہیں، لیکن اگر انسان ان میں سے کسی کی قسم کھائے، خصوصاً ایسی چیزوں کی جن کو مشرکین پوجتے تھے تو ان میں شائبۂ الوہیت کے ماننے کا شبہ ہو جاتا ہے اور اس لئے انسانوں کو غیرِ خدا کی قسم کھانا منع کیا گیا ہے۔
عرب کے لوگوں میں جو یہ عادت تھی کہ باتوں میں بہت سی قسمیں کھایا کرتے تھے اور بعضے ایسے تھے کہ قسم کھانا ان کا تکیۂ کلام ہو گیا تھا اور ہر بات پر ’’لا واللہ بلی واللہ2‘‘ بطور تائید کے و توثیق اپنی کلام کے کہا کرتے تھے اور ان کو ہرگز یہ خیال نہیں ہوتا تھا کہ ہم نے کوئی قسم کھائی ہے، اسی کی نسبت خدا نے فرمایا ہے: ’’لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْ اَیْمَانِکُمْ وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ۔‘‘ یعنی تمہاری قسموں میں جو لغو قسمیں ہیں ان پر خدا تم سے مواخذہ نہیں کرنے کا، لیکن جو قسمیں تم نے دل کے ارادے سے کھائی ہیں، اُن پر مواخذہ کرے گا۔
دوسری آیت میں ’’بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ‘‘ کی جگہ ’’بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ‘‘ ہے۔ اس کے معنی بھی یہی ہیں کہ خدا انہی قسموں پر پکڑے گا، جن کو تم نے سمجھ بوجھ کر پختہ کیا ہے۔
اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 104 تا 109 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔ یہ تحریر کتاب «آخری مضامینِ سر سید» سے ماخوذ ہے۔

