رستن چہ ممکنست ز قیدِ جہانِ لاف | واماندہ ایم ہمچو الف در میانِ لاف |
ترجمہ لاف کے جہان کی قید سے چھٹکارا کیسے ممکن ہے؟ ہم الف کی طرح لاف کے بیچ میں درماندہ کھڑے ہیں۔ | |
از انفعالِ کوششِ معذورِ ما مپرس | پر می زنیم چون مژہ در آشیانِ لاف |
ترجمہ ہماری معذور کوشش کی شرمندگی کا حال نہ پوچھ؛ ہم پلک کی طرح لاف کے آشیانے ہی میں پر مارتے ہیں۔ | |
گردِ نفس چو صبح بہ گردون رساندہ ایم | زہ کردہ است تیرِ ہوایی کمانِ لاف |
ترجمہ ہم نے صبح کی طرح سانس کی گرد آسمان تک پہنچا دی ہے؛ لاف کی کمان نے ہوائی تیر چلّے پر چڑھا رکھا ہے۔ | |
آخر ز خودفروشیٔ اجناسِ ما و من | لب بستن است تختہ نمودنِ دکانِ لاف |
ترجمہ آخر ’’ہم‘‘ اور ’’میں‘‘ کی جنسوں کی خود فروشی سے لب بند کر لینا ہی لاف کی دکان بڑھا دینا ہے۔ | |
در عالمی کہ دعویٔ تحقیق باطل است | صدقِ مقالِ ماست ہمان ترجمانِ لاف |
ترجمہ جس عالم میں تحقیق کا دعویٰ باطل ہے وہاں ہماری بات کی سچائی ہی لاف کی ترجمان ہے۔ | |
خجلت متاع ما و من از خویش می رویم | دارد ہمین صدای جرس کاروانِ لاف |
ترجمہ ہم اور میں شرمندگی کا سامان ہیں اور اپنے آپ سے گزرے جاتے ہیں؛ لاف کا کارواں بس یہی گھنٹی کی صدا رکھتا ہے۔ | |
زحمت مبر در آرزوی امتدادِ عمر | فرصت چہ لازم است کفیلِ زمانِ لاف |
ترجمہ عمر کی درازی کی آرزو میں زحمت نہ اٹھا؛ لاف کے زمانے کی ضمانت کے لیے فرصت کی کیا ضرورت ہے؟ | |
این است اگر سواد و بیاضِ کتابِ دہر | بی خاتم است تا بہ ابد داستانِ لاف |
ترجمہ اگر زمانے کی کتاب کا سیاہ و سفید یہی ہے تو لاف کی داستان ابد تک بے انجام ہے۔ | |
ما را ترددِ نفس از شرم آب کرد | تا کی شود کسی طرفِ امتحانِ لاف |
ترجمہ سانس کی آمد و شد نے ہمیں شرم سے پانی پانی کر دیا؛ کوئی کب تک لاف کے امتحان کا حریف بنے؟ | |
از آفت ایمن است سپردارِ خامشی | مفکن بہ لب محرف تیغِ زبانِ لاف |
ترجمہ خاموشی کی ڈھال رکھنے والا آفت سے محفوظ ہے؛ لاف کی زبان کی ٹیڑھی تلوار لب پر نہ لا۔ | |
شورِ غبارِ ما بہ فنا نیز کم نشد | دیگر کسی چہ خاک کند در دہانِ لاف |
ترجمہ ہمارے غبار کا شور فنا میں بھی کم نہ ہوا؛ اب کوئی لاف کے منہ میں اور کیا خاک ڈالے؟ | |
بیدل بہ خوانِ دعویٔ ہستی نشستہ ایم | اینجا بہ جز قسم چہ خورد میہمانِ لاف |
ترجمہ بیدل! ہم ہستی کے دعوے کے دسترخوان پر بیٹھے ہیں؛ یہاں لاف کا مہمان قسم کے سوا کیا کھائے؟ | |
