سادگی باغی ست طبعِ عافیت آہنگ را | وقفِ طاووسانِ رعنا کن گلِ نیرنگ را |
ترجمہ عافیت کی طرف مائل طبیعت کے لیے سادگی ایک باغ ہے؛ نیرنگ کے پھول کو خوش رنگ طاؤسوں کے لیے وقف کر دو۔ | |
دل چو خون گردد بہارِ تازہ رویی صیدِ تست | موجِ صہبا دامِ پروازست مرغِ رنگ را |
ترجمہ جب دل خون ہو جائے تو تازہ روئی کی بہار تیرا شکار ہے؛ شراب کی موج رنگ کے پرندے کے لیے پرواز کا جال ہے۔ | |
طبعِ ظالم را قوی سرمایہ سازد دستگاہ | سختی افزونتر کند الماس گشتن سنگ را |
ترجمہ دستگاہ ظالم کی طبیعت کو اور سرمایہ دار بنا دیتی ہے؛ الماس بن جانا پتھر کی سختی کو اور بڑھا دیتا ہے۔ | |
از کواکب چشم نتوان داشت فیضِ تربیت | ناتوان بینی ست لازم دیدہ ہای تنگ را |
ترجمہ ستاروں سے پرورش کے فیض کی امید نہیں رکھی جا سکتی؛ تنگ آنکھوں کے لیے کم بینی لازم ہے۔ | |
مانعِ جولانِ شوقم پای خواب آلود نیست | تار نتواند دہد افسردگی آہنگ را |
ترجمہ خواب آلود پاؤں میرے شوق کی جولانی میں مانع نہیں؛ تار نغمے کو افسردگی نہیں دے سکتا۔ | |
خارِ شوق از پای مجنونِ غمت نتوان کشید | شیر کی خواہد جدا بیند ز ناخن چنگ را |
ترجمہ تیرے غم کے مجنون کے پاؤں سے شوق کا کانٹا نہیں نکالا جا سکتا؛ شیر کب چاہے گا کہ اپنے پنجے کو ناخن سے جدا دیکھے؟ | |
با نسیمِ خندۂ گل غنچہ از خود می رود | دل صدا باشد شکستِ شیشہ ہای رنگ را |
ترجمہ پھول کی ہنسی کی نسیم کے ساتھ غنچہ آپے سے نکل جاتا ہے؛ رنگ کے شیشوں کی شکست کی صدا دل ہے۔ | |
می کند دل را غبارِ درد تعلیمِ خروش | طوطیٔ مینای ما آیینہ داند سنگ را |
ترجمہ درد کا غبار دل کو خروش سکھاتا ہے؛ ہماری مینا کا طوطا پتھر کو آئینہ سمجھتا ہے۔ | |
گر نداری طاقت از اظہارِ دعوی شرم دار | شوخیٔ رفتار رسوایی ست پای لنگ را |
ترجمہ اگر طاقت نہیں رکھتے تو دعوے کے اظہار سے شرم کرو؛ لنگڑے پاؤں کے لیے چال کی شوخی رسوائی ہے۔ | |
زندگی در بند و قیدِ رسم عادتِ مردن است | دست دستِ تست بشکن این طلسمِ ننگ را |
ترجمہ رسم کی قید و بند میں زندگی مرنے کی عادت ہے؛ ہاتھ تیرا اپنا ہے، اس ننگ کے طلسم کو توڑ دے۔ | |
ز آمد و رفتِ نفس آیینۂ دل تیرہ شد | موجِ صیقل آبیاری کرد بیدل زنگ را |
ترجمہ سانس کی آمد و رفت سے دل کا آئینہ دھندلا گیا؛ اے بیدل! صیقل کی موج نے زنگ ہی کی آبیاری کی۔ | |
