عام طور پر اخبارات کے ایڈیٹر اور مدیرانِ جرائد کا قاعدہ ہے کہ جو خطوط اور مراسلات ان کی تعریف و توصیف اور ان کے کاموں کی مدح و ستایش میں ناظرینِ رسالہ یا قاریینِ اخبار کی طرف سے آتے ہیں ان کو بڑے طمطراق اور شان کے ساتھ شائع کرتے ہیں۔ بعض جرائد میں تو ہم نے خود ستائی کا یہ سلسلہ اس عنوان کے ساتھ شائع ہوتے دیکھا ہے کہ:
|
’’عالم ہمہ افسانۂ ما دارد و ما ہیچ‘‘ |
|
|
ترجمہ سارا عالم ہماری داستان لیے ہوئے ہے اور ہم کچھ بھی نہیں |
ایسے برخود غلط ایڈیٹروں کے لیے سرسید کا ذیل کا مضمون خاص طور سے اور نہایت توجہ کے ساتھ پڑھنے کے قابل ہے جس میں سرسید اپنے رسالے تہذیب الاخلاق کے ناظرین کو اطلاع دیتے ہیں کہ جو مضمون یا مراسلے خاص طور پر میری ذاتی تعریف میں آئیں گے وہ شائع نہیں ہو سکیں گے۔
یہ مضمون سرسید کی بلند خیالی، خودداری اور صاف بیانی کی عادت کو نہایت نمایاں طور سے ظاہر کرتا ہے اور جو بزرگ سرسید کو ان کے زمانے میں اور بعض لوگ آج بھی نام و نمود کا بندہ اور شہرت کا بھوکا سمجھتے تھے یا سمجھتے ہیں ان کے سامنے نہایت واضح طور پر سرسید کے اخلاص اور اخلاق کو ظاہر کرتا ہے۔
اس مضمون سے یہ بات بھی عمدہ طور پر معلوم ہوتی ہے کہ سرسید اپنے رسالے تہذیب الاخلاق کو مرتب کرنے میں کن کن امور کا خاص طور پر خیال رکھتے تھے اور یہ کہ بزرگ سید کے دل میں قوم کا حقیقی درد تھا یا جو کچھ وہ کرتا تھا وہ محض بطور ریاء اور دکھاوے کے ہوتا تھا؟
اگر سرسید کی نیت پر حملہ کرنے والے اور انہیں بدنام کرنے والے حضرات اب بھی انصاف کے ساتھ غور فرمائیں تو وہ یقیناً اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور ہوں گے۔
(محمد اسماعیل پانی پتی)
اطلاع
(تہذیب الاخلاق یکم رجب 1290ھ)
ہمارے پاس بہت سے خطوط اور مضامین بے نام و نشان آتے ہیں۔ خطوط میں تو بعض سوالات ہوتے ہیں اور کبھی مسائلِ شرعی پوچھے جاتے ہیں اور یہ درخواست ہوتی ہے کہ تہذیب الاخلاق میں مع جواب چھاپ دیے جائیں اور مضامین بھی جو آتے ہیں وہ ہماری اور ہمارے مدرسۃ العلوم کی حمایت اور ہمارے مخالفین اور ہمارے ذاتی افعال سے الزاماتِ مخالفین کی تردید میں ہوتے ہیں اور یہ درخواست ہوتی ہے کہ تہذیب الاخلاق میں چھاپ دیے جائیں۔ ان سب بزرگوں کا جنھوں نے اس قسم کے خطوط، خواہ مضامین بھیجے ہیں، ہم دل سے شُکر ادا کرتے ہیں اور چونکہ بہ سبب نہ معلوم ہونے نام و نشان کے ہم ان کو جواب نہیں بھیج سکتے، اس لیے عدمِ تحریرِ جواب کا عذر کرتے ہیں۔ باقی رہا ان کا مندرج ہونا تہذیب الاخلاق میں، اُس میں بھی ہم کو چند عذر ہیں۔ ہمارا دستور نہیں ہے کہ کوئی بے نام مضمون تہذیب الاخلاق میں چھاپیں اور نیز کوئی ایسا مضمون جو ہمارے ذاتی افعال کی حمایت میں ہو، ہم کو اپنے پرچے تہذیب الاخلاق میں چھاپنا پسند نہیں ہے، اس لیے کہ ’’من آنم کہ من دانم‘‘۔ جو باتیں ہمارے مخالف ہماری نسبت منسوب کرتے ہیں ہم اس سے زیادہ الزام کے لائق ہیں۔ فرض کرو کہ وہ باتیں ہم میں نہ ہوں، مگر اور باتیں ان سے بھی زیادہ بدتر ہم میں موجود ہیں۔ پس ہمارے ذاتی افعال کی حمایت سے کیا فائدہ ہے۔ ہماری تو وہی مثل ہے کہ ’’اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔‘‘ باقی رہے مسائلِ شرعی، اس بات سے ہر کوئی واقف ہے کہ میں ایک جاہل آدمی ہوں، جس طرح اور عام لوگ شُدبُد جانتے ہیں، میں بھی جانتا ہوں۔ جو لوگ کہ میرے نام کے ساتھ مولوی کا لفظ لکھتے ہیں وہ محض غلطی کرتے ہیں اور غلط صفت میری نسبت لگاتے ہیں۔ هذا بهتان عظيم۔ بعض مسائلِ شرعی کی نسبت جو میں بحث کرتا ہوں، میری واقفیت یا میرا اجتہاد انہیں مسئلوں پر محدود ہے، ابھی مجتہدِ عام ہونے کا رتبہ میرا نہیں ہوا۔ خدا کا یہ بھی شکر ہے کہ نہ میں مولوی ہوں، نہ قاضی، نہ مفتی، پس میں مسائلِ شرعی مستفرہ کا جواب نہیں دے سکتا۔ شرعی مسائل کے جواب دینے کو بہت سے مولوی موجود ہیں۔
علاوہ اس کے ہمارا تہذیب الاخلاق اس لیے موضوع نہیں ہوا ہے کہ ہر قسم کے سوالوں کا جواب اور ہر قسم کے مسائل کی بحث اس میں مندرج ہو، بلکہ وہ پرچہ ہم نے اپنی دانست میں اپنی قومی تہذیب کے لیے جاری کیا ہے۔ پس جن مسائلِ مذہبی سے بحث کرنی ہم مناسب سمجھتے ہیں اور اس بحث کو تہذیبِ قومی سے کچھ تعلق جانتے ہیں اس کو مندرج کرتے ہیں اور ایسا ہی مضامین کا حال ہے کہ عام مضامین اس میں مندرج نہیں ہوتے اور مضامینِ خاص بھی وہی مندرج ہوتے ہیں جن سے اس کے بانیوں کی رائے میں لوگوں میں کسی قسم کی تہذیب کی ترقی متصور ہو اور اگر ہم اپنے تئیں عموماً لوگوں کے سوالوں یا استفتاؤں کے جوابوں کے لکھنے پر مصروف کریں تو ہمارا وقت بالکل ضائع ہو جائے اور ہمارے پرچے تہذیب الاخلاق کا جو منشاء ہے وہ باقی نہ رہے۔ پس ہم ان بزرگوں سے جنھوں نے ہمارے پاس ایسے خطوط اور مضامین بھیجے ہیں، ان کو تہذیب الاخلاق میں مندرج نہ ہونے کی معافی چاہتے ہیں۔
(تہذیب الاخلاق بابت یکم رجب 1290)
اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ پنجم (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 300 تا 304 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔
