جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

سمندر میں چاند

ایک سفر نامے کا ایک ورق

بمبئی۔ 24 ستمبر 1907ء سہ شنبہ۔ صبح سے صفر کی تیاری تھی۔ دس بجے پرنس ڈاک بندریر آئے۔ جہاز تیار کھڑا تھا۔ مسافر آ رہے تھے اور ٹکٹ لے رہے تھے۔ ہم نے کل شام ہی کو ٹکٹ منگا لیا تھا اس لیے اطمینان سے بیٹھ گئے۔ گیارہ بجے معائنہ ڈاکٹری شروع ہوا۔ ایک چھپر میں داخل کیا گیا۔ تھڑد کلاس کے مسافر قطار باندھ کر فرش خاک پر بیٹھ گئے۔ ہم چند آدمیوں کو جن کے ٹکٹ سکنڈ اور فرسٹ تھے بنچیں ملیں۔ ڈاکٹر صاحب آئے، اول جہازی ملازموں کا معائنہ کیا۔ اس کے بعد تھڑد کلاس کے مسافروں کا۔ عجب مضحکہ خیز نظارہ تھا۔ بیچارے کُرتے اور صدریاں اُٹھائے پسلیاں اور کمر کھولے ہوئے ڈاکٹر صاحب کے انتظار میں کھڑے تھے۔ ڈاکٹر نے بغلوں اور رانوں کو خوب دبا دبا کر اور رگڑ رگڑ کر دیکھا۔ اس کے بعد ہمارا وار آیا۔ مگر صرف نبض پر خیر گذری۔

جہاز پر آئے۔ سامان پہلے آ چکا تھا۔ تھڑد کلاس میں نہایت ابتری اور شور و غل ہے، عورت، مرد، بوڑھے، بچے اپنے میلے کچیلے اسباب کے انبار میں پڑے ہوئے تھے۔ ہم لوگوں کو بالائی حصہ میں جگہ دی گئی۔ ایک طرف مسٹر امیرالدین طیب جی اور سیٹھ سلیمان مالک جہاز کمپنی ہیں اور دوسری طرف ہم اور مسٹر نظام الدین قریشی ایڈیٹر اخبار خبردار بمبئی اور ایک ہندو سیٹھ ہیں۔ پورے بارہ بجے جہاز چل دیا۔ جو کنارہ کے دیر سے جہازی تختوں کے سینے سے لگا ہوا تھا، جُدا ہو گیا اور آہستہ آہستہ دور ہونے لگا۔ تماشائی لوگ آخری نظریں ہم پر ڈال رہے تھے۔ اب اتنی دوری ہو گئی کہ چہرے صاف نہیں معلوم ہوتے۔ اب کنارے کی عمارتیں چھوٹی ہونے لگیں۔ اب اُن پر دھندلے غبار کا پردہ پڑ گیا۔ اب آنکھوں کو ان کی دید سے تکلیف ہونے لگی، اس لیے بلند اور اونچی عمارتوں پر نظریں اُٹھ گئیں اور ان پست عمارتوں کو چھوڑ دیا۔ تاج محل ہوٹل کی بلند دیواریں بہت دیر تک مقابلے میں جمی رہیں۔ آخر میں یہ شکلیں بھی فنا ہو گئیں اور بمبئی ایک ہستی موہوم اور نشان خیالی کی طرح نگاہ سے غائب ہو گئی۔ ہر چند دوربین سے مدد لی گئی مگر مقام مقصود کا پتہ نہ لگا۔ جب تک یہ نظارہ قائم رہا اور زمینی منزل نظر آتی رہی، دل پر قُرب اور بُعد کی باطنی منزل کا لطف طاری رہا۔ اس کے بعد نیستی اور فنا کی تاثیر پیدا ہوئی۔ پھر وہ بھی جاتی رہی۔

سمندر درمیانی حالت میں ہے۔ تا ہم چونکہ ہمارا پہلا دریائی سفر ہے، دوران سر کی کیفیت محسوس ہوئی۔ رفیق سفر مسٹر قریشی نے کچھ تُرشی کھلا دی جس سے عارضی نشہ جاتا رہا۔ مطالعہ کتب شروع ہوا، یہاں تک کہ شام ہو گئی۔ غروب آفتاب کی دریائی سیر کا مدت سے اشتیاق تھا۔ مگر ابر کے سبب محرومی رہی۔ سورج دیوتا پردے ہی پردے میں چھپ گئے۔ شام کے وقت زمین میں ایک دلگیر خاموشی طاری ہوا کرتی ہے۔ جانور آخری درد انگیز بولیاں بول کر گھونسلوں میں جاتے ہیں۔ ہر چیز دن بھر کی تکلیف اور کش مکش سے تھکی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس وقت بعض دفعہ اندرون احساس کو شام کا وقت تکلیف دیتا ہے۔ خیال تھا کہ سمندر میں یہ نظارے کہاں، اس لیے بڑے مزے کی شام ہو گی۔ مگر یہاں زمین سے بڑھ کر دلگیری تھی۔ آسمان سے لے کر پانی تک اداسی کی سیاہ چادر تنی ہوئی تھی۔ پانی جنبش کرتا تھا۔ جہاز تیزی سے بہا چلا جاتا تھا، جانور کا پتہ نہ تھا۔ تا ہم اس بلا کی خاموشی اور غمگینی منظر میں تھی کہ دیکھی نہ گئی اور آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ کھایا اور سو گئے۔ یکایک زور کے جھٹکے اور ہچکولے سے آنکھ کھل گئی۔ دیکھا کہ بارہ بجے کا عمل ہے اور صاف آسمان پر پندرھویں شب کا چاند چمک رہا ہے۔ اُٹھ بیٹھے۔ دوربین ہاتھ میں لی اور کنارہ جہاز پر کھڑے ہو کر آب و ماہتاب کا عالم دیکھنے لگے۔ سمندر میں تلاطم زیادہ ہے۔ جہاز جھونٹے لے رہا ہے اور ہمارے قدم جمنے نہیں دیتا۔ آسمان جگمگاتے چاند سے روشن ہے۔ تمام کرۂ ہوا نورانی ہے۔ اور سمندر کی نا ہموار سطح چمک رہی ہے۔ ٹھنڈی سُہانی شعاعیں ہلکا ہلکا نور برسا رہی ہیں۔ کیا ہی مزہ آتا ہے جب کہ ماہتابی نور سمندر میں غوطے لگاتا ہے اور موجوں کے گلے لگ کر آبی چادر میں چھپ جاتا ہے۔ میاں سمندر کی ہوس کو دیکھو۔ چاند کو آغوش میں لینے کی خاطر کیا کیا نشیب و فراز دکھا رہے ہیں۔ بیچاری بھولی بھالی چاندنی دم میں آ کر قریب آتی ہے تو ایک لمبا سانس لے کر پکڑنے کو لپکتے ہیں۔ وہ بچ کر بھاگتی ہے تو آپ جوش میں بھرے ہوئے پیچھے دوڑتے ہیں مگر وہ ہاتھ نہیں آتی اور چمکتی جھلکتی صاف نکل جاتی ہے۔ اُس وقت کوئی سمندر خان کا غصہ دیکھے۔ گرجتے ہیں، مُنہ میں کف لاتے ہیں، دوڑتے اور مایوس ہو کر رہ جاتے ہیں۔ یہ رات کا چُپ چاپ وقت آسمان کے کنارے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ سوائے جہاز کی آواز کے کوئی صدا نہیں آتی۔ مگر دل کہتا ہے کہ نہیں، اصل ہنگامہ، واقعی آبادی، حقیقی آواز یہی ہے جو پیش نظر ہے۔ نمود ازل کے زمانے میں بھی یہی عالم تھا۔ پانی تھا اور اس پر نور ذات جنبش کرتا تھا۔ انتہائے ابد میں بھی یہی صورت پیش آئے گی۔ یہ شکلیں جو نظر آتی ہیں مٹ جائیں گی، مگر پھر ایک چشم پیدا ہو گی، جو ان مٹی ہوئی شکلوں کو دیکھ سکے گی پھر چاند کے جہاز میں سفر جاری ہو گا اور آبِ سمندر پر عرش رکھا جائے گا۔ دل کی سروپا باتیں ختم نہ ہوئی تھیں کہ کانوں میں رفتار جہاز کی صدا ان الفاظ میں آئی۔ پتہ نہیں۔ پتہ نہیں۔ پتہ نہیں۔ یہ الفاظ سُن کر دل بگڑا اور بولا۔ تو کیا جانے، جو عیاں نظر آتا ہے تو اُس کو لا پتہ کہتا ہے۔

نیند آنے لگی، سو گئے۔ ہماری منزل مقصود یعنی بلاول بندر صبح دس بجے جہاز پہنچے گا۔ وہاں سے سومنات کا مندر صرف 4 میل ہے۔ یہ درشن کر کے آگے روانہ ہوں گے۔ مانگرول، پوربندر پر جہاز ٹھہرتا ہوا دوارکاجی جا پہنچے گا۔ دوارکاجی کا تیرتھ دیکھ کر ہماری تیرتھ جاترا کی منزلیں تمام ہو جائیں گی۔