خط (1) — مئی 1903ء (جلد اوّل، خط 8)
ڈیر سید تقی۔ السّلام علیکم آج مقام مغل کوٹ میں پہنچے گھوڑے کا سفر اور گھوڑے سے اکتائے تو اونٹ کا سفر۔ خدا کی پناہ پہلے روز 37 میل کا سفر گھوڑے پر کیا۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ مجھے کس قدر تکلیف ہوئی ہوگی لیکن جو تکلیف محبت کی وجہ سے پیدا ہوئی ہو وہ لذیذ ہو جاتی ہے۔ فورٹ سنڈیمن ابھی یہاں سے 50 میل کے فاصلے پر ہے۔ پرسوں پہنچیں گے۔ بشرطیکہ کوئی بارش نہ ہوئی آج مغل کوٹ پہنچے ہیں۔ بھائی صاحب کے متعلق خبر ملی ان کو رائل انجینیر کوئٹہ کے تار پر تار دینے کی وجہ سے حراست سے نکال دیا ہے۔ اُس نے متواتر تاریں دیں کہ ایک معزز افسر کو بغیر منظوری شملہ کیوں حراست میں دیا گیا ہے۔ اسی متواتر تاروں کے دوران میں وہاں کے پولیٹکل ایجنٹ کی تبدیلی بھی ہو گئی۔ سنا ہے کہ اس مقدمے میں اس کی ہی شرارت تھی۔ خدا انجام بخیر کرے گا آپ مطمئن رہیں۔ امید ہے اس مقدمے کا نتیجہ بھائی صاحب کے حق میں اچھا ہوگا۔ معلوم ہوتا ہے کوئٹہ کے حکام کو ان کی دیانت وغیرہ کا ثبوت کافی مل گیا ہے۔ ایجنٹ کوئٹہ نے فورٹ سنڈیمن کے ایجنٹ کی فوراً تبدیلی کر دی ہے۔ اس مقدمے کی ساری بنا عداوت پر ہے مجھے سارے حالات ابھی معلوم نہیں ہوئے تاہم جو کچھ معلوم ہوئے اُن سے یہی اندازہ کر سکا کہ اس کی تہ میں عداوت محض ہے۔ باقی خیریت ہے۔
امیر3 کہاں ہے، خدا کے لیے وہاں ضرور جایا کریں۔ مجھے بہت اضطراب ہے خدا جانے اس میں کیا راز ہے جتنا دور ہو رہا ہوں۔ اتنا ہی اس سے قریب ہو رہا ہوں والسلام۔ شیخ صاحب کی خدمت میں یہ تمام حالات عرض کر دیں والسلام
آپ کا مخلص محمد اقبال
(شاعر اقبال نمبر 1988ء بمبئی)
اردو جریدہ نے یہ خط «کلیاتِ مکاتیبِ اقبال» (مرتبہ سید مظفر حسین برنی، اردو اکادمی، دہلی)، جلد اوّل (نومبر 1989ء)، صفحہ 77 تا 79 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔

