شبِ زندگی سر آمد بہ نفس شماری آخر | بہ ہوا رساند خاکم سحر انتظاری آخر |
ترجمہ زندگی کی رات آخرکار سانسیں گنتے گنتے تمام ہو گئی؛ صبح کے انتظار نے آخر میری خاک ہوا میں اڑا دی۔ | |
طربِ بہارِ غفلت عرقِ خجالت آورد | نگذشت بی گلابم گلِ خندہ کاری آخر |
ترجمہ غفلت کی بہار کا طرب شرمندگی کا پسینہ لے آیا؛ ہنسی کاشت کرنے کا پھول آخر میرے گلاب (پسینے) کے بغیر نہ گزرا۔ | |
المِ وداعِ طفلی بہ چہ دردِ دل سرایم | بہ غبارِ نالہ بردم غمِ نی سواری آخر |
ترجمہ بچپن کے رخصت ہونے کا دکھ کس دردِ دل سے بیان کروں؛ آخر میں سرکنڈے کی سواری کا غم نالے کی گرد میں لے گیا۔ | |
تپشی بہ باد دادم دگر از نمو مپرسید | چو سحر چہ گل دماند نفسِ آبیاری آخر |
ترجمہ میں نے ایک تڑپ ہوا کو سونپ دی، اب نشوونما کا حال نہ پوچھو؛ صبح کی طرح آبیاری کرنے والی سانس آخر کون سا پھول اگاتی۔ | |
سرِ راہِ وحشتِ رنگ ز غبارِ منع پاکست | ز چہ پر نمی فشانی قفسی نداری آخر |
ترجمہ رنگ کی وحشت کا راستہ روک ٹوک کی گرد سے پاک ہے؛ تو پر کیوں نہیں جھاڑتا، آخر تیرے پاس کوئی قفس تو نہیں۔ | |
گلِ باغِ اعتبارت اثرِ وفا ندارد | بگذار از اول او را کہ فروگذاری آخر |
ترجمہ تیرے اعتبار کے باغ کا پھول وفا کا اثر نہیں رکھتا؛ جسے آخر چھوڑنا ہی ہے اسے شروع ہی سے چھوڑ دے۔ | |
بہ غرورِ تقوی ای شیخ مفروش وعظِ بیجا | من اگر ورع ندارم تو بہ من چہ داری آخر |
ترجمہ اے شیخ، تقوے کے غرور میں بے جا وعظ نہ بیچ؛ اگر مجھ میں پرہیزگاری نہیں تو آخر تجھے مجھ سے کیا غرض۔ | |
بہ فسانۂ تغافل ستم است چشم بستن | نگہی کزین گلستان بہ چہ گل دچاری آخر |
ترجمہ تغافل کے افسانے میں آنکھ بند کر لینا ستم ہے؛ ایک نگاہ ڈال کہ اس گلستان میں آخر تو کس پھول سے دوچار ہے۔ | |
عدم و وجود و امکان ہمہ در تو محو و حیران | ز برت کجا رود کس کہ تو بی کناری آخر |
ترجمہ عدم، وجود اور امکان سب تجھ میں محو اور حیران ہیں؛ کوئی تیرے پہلو سے کہاں جائے کہ آخر تو بے کنار ہے۔ | |
چو چراغِ کشتہ بیدل ز خیالِ گریہ مگذر | مژہ ات نمی ندارد ز چہ می فشاری آخر |
ترجمہ بیدل، بجھے ہوئے چراغ کی طرح گریے کا خیال نہ چھوڑ؛ تیری پلک میں نمی نہیں تو آخر کیا نچوڑ رہا ہے۔ | |
