اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

شب زندگی سر آمد بہ نفس شماری آخر

شبِ زندگی سر آمد بہ نفس شماری آخر

بہ ہوا رساند خاکم سحر انتظاری آخر

ترجمہ زندگی کی رات آخرکار سانسیں گنتے گنتے تمام ہو گئی؛ صبح کے انتظار نے آخر میری خاک ہوا میں اڑا دی۔

طربِ بہارِ غفلت عرقِ خجالت آورد

نگذشت بی گلابم گلِ خندہ کاری آخر

ترجمہ غفلت کی بہار کا طرب شرمندگی کا پسینہ لے آیا؛ ہنسی کاشت کرنے کا پھول آخر میرے گلاب (پسینے) کے بغیر نہ گزرا۔

المِ وداعِ طفلی بہ چہ دردِ دل سرایم

بہ غبارِ نالہ بردم غمِ نی سواری آخر

ترجمہ بچپن کے رخصت ہونے کا دکھ کس دردِ دل سے بیان کروں؛ آخر میں سرکنڈے کی سواری کا غم نالے کی گرد میں لے گیا۔

تپشی بہ باد دادم دگر از نمو مپرسید

چو سحر چہ گل دماند نفسِ آبیاری آخر

ترجمہ میں نے ایک تڑپ ہوا کو سونپ دی، اب نشوونما کا حال نہ پوچھو؛ صبح کی طرح آبیاری کرنے والی سانس آخر کون سا پھول اگاتی۔

سرِ راہِ وحشتِ رنگ ز غبارِ منع پاکست

ز چہ پر نمی فشانی قفسی نداری آخر

ترجمہ رنگ کی وحشت کا راستہ روک ٹوک کی گرد سے پاک ہے؛ تو پر کیوں نہیں جھاڑتا، آخر تیرے پاس کوئی قفس تو نہیں۔

گلِ باغِ اعتبارت اثرِ وفا ندارد

بگذار از اول او را کہ فروگذاری آخر

ترجمہ تیرے اعتبار کے باغ کا پھول وفا کا اثر نہیں رکھتا؛ جسے آخر چھوڑنا ہی ہے اسے شروع ہی سے چھوڑ دے۔

بہ غرورِ تقوی ای شیخ مفروش وعظِ بیجا

من اگر ورع ندارم تو بہ من چہ داری آخر

ترجمہ اے شیخ، تقوے کے غرور میں بے جا وعظ نہ بیچ؛ اگر مجھ میں پرہیزگاری نہیں تو آخر تجھے مجھ سے کیا غرض۔

بہ فسانۂ تغافل ستم است چشم بستن

نگہی کزین گلستان بہ چہ گل دچاری آخر

ترجمہ تغافل کے افسانے میں آنکھ بند کر لینا ستم ہے؛ ایک نگاہ ڈال کہ اس گلستان میں آخر تو کس پھول سے دوچار ہے۔

عدم و وجود و امکان ہمہ در تو محو و حیران

ز برت کجا رود کس کہ تو بی کناری آخر

ترجمہ عدم، وجود اور امکان سب تجھ میں محو اور حیران ہیں؛ کوئی تیرے پہلو سے کہاں جائے کہ آخر تو بے کنار ہے۔

چو چراغِ کشتہ بیدل ز خیالِ گریہ مگذر

مژہ ات نمی ندارد ز چہ می فشاری آخر

ترجمہ بیدل، بجھے ہوئے چراغ کی طرح گریے کا خیال نہ چھوڑ؛ تیری پلک میں نمی نہیں تو آخر کیا نچوڑ رہا ہے۔