شب کہ شد جوشِ فغانم ہمنوای عندلیب | در عرق گم گشت چون شبنم صدای عندلیب |
ترجمہ رات جب میری فریاد کا جوش بلبل کا ہمنوا ہوا تو بلبل کی آواز شبنم کی طرح پسینے میں گم ہو گئی۔ | |
خلقِ معشوقان کمندِ صیدِ مشتاقان بس است | نیست غیر از بوی گل زنجیرِ پای عندلیب |
ترجمہ معشوقوں کا اخلاق ہی مشتاقوں کو شکار کرنے کی کمند کے لیے کافی ہے؛ بلبل کے پاؤں کی زنجیر پھول کی خوشبو کے سوا کچھ نہیں۔ | |
زیرِ نقشِ پای او ما ہم سری دزدیدہ ایم | سایۂ گل گر بود بالِ ہمای عندلیب |
ترجمہ اس کے نقشِ پا کے نیچے ہم نے بھی سر چھپا رکھا ہے، جیسے پھول کا سایہ بلبل کے لیے ہما کا پر ہو۔ | |
جلوۂ گل گر چنین طاقت گدازیہا کند | بعد از این خاکستری یابی بہ جای عندلیب |
ترجمہ اگر پھول کا جلوہ یوں ہی طاقت کو پگھلاتا رہا تو اس کے بعد بلبل کی جگہ تجھے راکھ کی ایک مٹھی ملے گی۔ | |
کاروانِ رنگ و بو را ہیچ جا آرام نیست | صد جرس می دارد اینجا ہای ہای عندلیب |
ترجمہ رنگ و بو کے کارواں کو کہیں قرار نہیں؛ یہاں بلبل کی ہائے ہائے سو گھنٹیوں کا کام دیتی ہے۔ | |
عجز ہم ما را در این گلشن بہ جایی می برد | نیست کم از نالہ بالِ نارسای عندلیب |
ترجمہ اس گلشن میں عجز بھی ہمیں کہیں نہ کہیں پہنچا دیتا ہے؛ بلبل کا نارسا پر اس کی فریاد سے کم نہیں۔ | |
بر جبینِ برگِ گل چین می طرازد موجِ رنگ | پر بہ سامان است محرابِ دعای عندلیب |
ترجمہ رنگ کی موج پھول کی پتی کی پیشانی پر شکنیں سجاتی ہے؛ بلبل کی دعا کا محراب خوب آراستہ ہے۔ | |
ای کہ خواہی پاسِ ناموسِ محبت داشتن | شرم دار از دیدنِ گل بی رضای عندلیب |
ترجمہ اے وہ جو محبت کی ناموس کا پاس رکھنا چاہتا ہے، بلبل کی رضا کے بغیر پھول کو دیکھنے سے شرم کر۔ | |
حسن مستغنی ست از شہرت نواییہای عشق | ہیچکس گل را نمی خواہد برای عندلیب |
ترجمہ حسن عشق کی شہرت انگیز نواؤں سے بےنیاز ہے؛ کوئی بھی پھول کو بلبل کی خاطر نہیں چاہتا۔ | |
یک سرِ مویم تہی از صنعتِ منقار نیست | نالہ اندود است از سر تا بہ پای عندلیب |
ترجمہ میرا ایک بال بھی چونچ کی کاریگری سے خالی نہیں؛ بلبل سر سے پاؤں تک فریاد میں لپٹی ہوئی ہے۔ | |
بیدل از غفلت تلاشِ بسترِ گل می کنم | ورنہ زیرِ بال دارد گرم جای عندلیب |
ترجمہ بیدل، میں غفلت کے سبب پھولوں کا بستر ڈھونڈتا ہوں، ورنہ بلبل اپنے پروں تلے ہی گرم جگہ رکھتی ہے۔ | |
