شوق اگر بی پردہ سازد حسرتِ مستور را | عرضِ یک خمیازہ صحرا می کند مخمور را |
ترجمہ اگر شوق چھپی ہوئی حسرت کو بے پردہ کر دے تو خمار زدہ کے لیے ایک انگڑائی کا اظہار بھی صحرا بن جاتا ہے۔ | |
دردِ دل در پردۂ محویتم خون می خورد | از تحیر خشک بندی کردہ ام ناسور را |
ترجمہ دل کا درد میری محویت کے پردے میں خون پیتا ہے؛ میں نے حیرت سے ناسور کی خشک بندش کر رکھی ہے۔ | |
چارہ سازان در صلاحِ کارِ خود بیچارہ اند | بہ نسازد موم، زخمِ خانۂ زنبور را |
ترجمہ چارہ ساز اپنے ہی کام کی درستی میں بے بس ہیں؛ موم شہد کی مکھی کے چھتے کے زخم کو اچھا نہیں کرتا۔ | |
ما ضعیفان را ملایم طینتی دامِ بلاست | مشکل است از روی خاکستر گذشتن مور را |
ترجمہ ہم کمزوروں کے لیے نرم طبیعتی بلا کا جال ہے؛ چیونٹی کے لیے راکھ پر سے گزرنا مشکل ہے۔ | |
زندگانی شیوۂ عجز است باید پیش برد | نیست سر دزدیدن از پشتِ دوتا مزدور را |
ترجمہ زندگی عاجزی کا شیوہ ہے، اسے نبھانا ہی ہے؛ مزدور کے لیے اپنی دوہری پیٹھ سے سر چرانا ممکن نہیں۔ | |
عشرتی گر نیست می باید بہ کلفت ساختن | درد ہم صاف است بہرِ سرخوشیٔ مخمور را |
ترجمہ اگر عیش نہیں تو رنج ہی سے نباہ کرنا چاہیے؛ خمار زدہ کی سرخوشی کے لیے تلچھٹ بھی صاف شراب ہے۔ | |
غفلتِ سرشار مستغنی ست از اسبابِ جہل | خواب گو مژگان نبندد دیدہ ہای کور را |
ترجمہ بھرپور غفلت جہالت کے اسباب سے بے نیاز ہے؛ نیند اندھی آنکھوں کی پلکیں بند نہ بھی کرے تو کیا۔ | |
در نظر داریم مرگ و از امل فارغ نہ ایم | پیشِ پا دیدن نشد مانعِ خیالِ دور را |
ترجمہ موت ہماری نظر میں ہے پھر بھی ہم امید سے فارغ نہیں؛ پاؤں کے آگے دیکھنا دور کے خیال کو روک نہ سکا۔ | |
اعتبارِ دردِ عشق از وصل برہم می خورد | زنگ باشد التیام آیینۂ ناسور را |
ترجمہ عشق کے درد کی ساکھ وصل سے بگڑ جاتی ہے؛ ناسور کے آئینے کے لیے زخم کا بھر جانا زنگ ہے۔ | |
زندگی وحشی ست از ضبطِ نفس غافل مباش | بوی آرامیدہ دارد در قفس کافور را |
ترجمہ زندگی وحشی ہے، سانس کے ضبط سے غافل نہ رہو؛ پنجرے میں کافور کی خوشبو ٹھہری رہتی ہے۔ | |
در تنعم ذکرِ احسانہا بلند آوازہ نیست | چینیٔ خالی مگر یادی کند فغفور را |
ترجمہ خوش حالی میں احسانوں کا ذکر بلند آواز نہیں ہوتا؛ خالی چینی کا برتن ہی شاید فغفور کو یاد کرے۔ | |
بیدل از اندیشۂ اوہامِ باطل سوختم | بر سرِ داغم فشان خاکسترِ منصور را |
ترجمہ اے بیدل! میں باطل وہموں کی فکر میں جل گیا؛ میرے داغ پر منصور کی راکھ چھڑک دو۔ | |
