اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

شوق اگر بی پردہ سازد حسرت مستور را

شوق اگر بی پردہ سازد حسرتِ مستور را

عرضِ یک خمیازہ صحرا می کند مخمور را

ترجمہ اگر شوق چھپی ہوئی حسرت کو بے پردہ کر دے تو خمار زدہ کے لیے ایک انگڑائی کا اظہار بھی صحرا بن جاتا ہے۔

دردِ دل در پردۂ محویتم خون می خورد

از تحیر خشک بندی کردہ ام ناسور را

ترجمہ دل کا درد میری محویت کے پردے میں خون پیتا ہے؛ میں نے حیرت سے ناسور کی خشک بندش کر رکھی ہے۔

چارہ سازان در صلاحِ کارِ خود بیچارہ اند

بہ نسازد موم، زخمِ خانۂ زنبور را

ترجمہ چارہ ساز اپنے ہی کام کی درستی میں بے بس ہیں؛ موم شہد کی مکھی کے چھتے کے زخم کو اچھا نہیں کرتا۔

ما ضعیفان را ملایم طینتی دامِ بلاست

مشکل است از روی خاکستر گذشتن مور را

ترجمہ ہم کمزوروں کے لیے نرم طبیعتی بلا کا جال ہے؛ چیونٹی کے لیے راکھ پر سے گزرنا مشکل ہے۔

زندگانی شیوۂ عجز است باید پیش برد

نیست سر دزدیدن از پشتِ دوتا مزدور را

ترجمہ زندگی عاجزی کا شیوہ ہے، اسے نبھانا ہی ہے؛ مزدور کے لیے اپنی دوہری پیٹھ سے سر چرانا ممکن نہیں۔

عشرتی گر نیست می باید بہ کلفت ساختن

درد ہم صاف است بہرِ سرخوشیٔ مخمور را

ترجمہ اگر عیش نہیں تو رنج ہی سے نباہ کرنا چاہیے؛ خمار زدہ کی سرخوشی کے لیے تلچھٹ بھی صاف شراب ہے۔

غفلتِ سرشار مستغنی ست از اسبابِ جہل

خواب گو مژگان نبندد دیدہ ہای کور را

ترجمہ بھرپور غفلت جہالت کے اسباب سے بے نیاز ہے؛ نیند اندھی آنکھوں کی پلکیں بند نہ بھی کرے تو کیا۔

در نظر داریم مرگ و از امل فارغ نہ ایم

پیشِ پا دیدن نشد مانعِ خیالِ دور را

ترجمہ موت ہماری نظر میں ہے پھر بھی ہم امید سے فارغ نہیں؛ پاؤں کے آگے دیکھنا دور کے خیال کو روک نہ سکا۔

اعتبارِ دردِ عشق از وصل برہم می خورد

زنگ باشد التیام آیینۂ ناسور را

ترجمہ عشق کے درد کی ساکھ وصل سے بگڑ جاتی ہے؛ ناسور کے آئینے کے لیے زخم کا بھر جانا زنگ ہے۔

زندگی وحشی ست از ضبطِ نفس غافل مباش

بوی آرامیدہ دارد در قفس کافور را

ترجمہ زندگی وحشی ہے، سانس کے ضبط سے غافل نہ رہو؛ پنجرے میں کافور کی خوشبو ٹھہری رہتی ہے۔

در تنعم ذکرِ احسانہا بلند آوازہ نیست

چینیٔ خالی مگر یادی کند فغفور را

ترجمہ خوش حالی میں احسانوں کا ذکر بلند آواز نہیں ہوتا؛ خالی چینی کا برتن ہی شاید فغفور کو یاد کرے۔

بیدل از اندیشۂ اوہامِ باطل سوختم

بر سرِ داغم فشان خاکسترِ منصور را

ترجمہ اے بیدل! میں باطل وہموں کی فکر میں جل گیا؛ میرے داغ پر منصور کی راکھ چھڑک دو۔