|
شکست خاطری دارم مپرس از فکر تدبیرش |
کہ موی چینی آنسوی سحر بردہ ست شبگیرش |
|
ترجمہ میرا دل ٹوٹا ہوا ہے، اس کی تدبیر کا مت پوچھ، کہ اس کی زلفِ چینی کی ایک لٹ صبح سے پہلے ہی اس کی شام کو لے گئی ہے۔ |
|
|
مفہوم شاعر اپنی شدید دل شکستگی اور ناامیدی کا اظہار کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس کی حالت اس قدر بگڑ چکی ہے کہ کوئی تدبیر کارگر نہیں۔ محبوب کی زلف کا ایک معمولی خم ہی اس کی زندگی کی صبح کو رات میں بدلنے کے لیے کافی ہے، یعنی ایک ذرا سی بے اعتنائی بھی اس کے لیے تباہ کن ہے۔ |
|
|
غبار دل بہ تاراج تپشہای نفس دادم |
صدایی داشت این دیوانہ در آغوش زنجیرش |
|
ترجمہ میں نے اپنے دل کے غبار کو سانسوں کی تپش کے حوالے کر دیا، اس دیوانے نے زنجیروں کی آغوش میں بھی ایک شور بپا کر رکھا تھا۔ |
|
|
مفہوم شاعر کہتا ہے کہ اس نے اپنی داخلی بے چینی اور اضطراب کو اپنی تیز اور گرم سانسوں کے سپرد کر دیا ہے۔ اس کا دل ایک ایسے دیوانے کی طرح ہے جو قید و بند میں ہونے کے باوجود خاموش نہیں رہتا۔ یہ شعر باطنی کرب اور بے بسی کے عالم میں بھی زندہ رہنے کی ایک تڑپ کو ظاہر کرتا ہے۔ |
|
|
چہ امکانست نومیدی شہید تیغ الفت را |
چوگل دامان قاتل می دمد خون زمینگیرش |
|
ترجمہ محبت کی تلوار کے شہید کو ناامیدی کیسی؟ اس کا زمین پر گرا ہوا خون بھی پھول کی طرح قاتل کے دامن سے پھوٹ پڑتا ہے۔ |
|
|
مفہوم عشق کی راہ میں جان دینے والا کبھی مایوس نہیں ہوتا کیونکہ اس کی قربانی رائیگاں نہیں جاتی۔ اس کا خون بھی گلاب بن کر خود قاتل یعنی محبوب کے دامن کی زینت بن جاتا ہے۔ یہ شعر عشق میں فنا ہو کر بقا پانے کے فلسفے کو بیان کرتا ہے۔ |
|
|
نگارستان بیرنگی جمالی در نظر دارم |
کہ مینای پری دارد سفال رنگ تصویرش |
|
ترجمہ میری نظر میں بے رنگی کے نگارخانے کا ایک ایسا جمال ہے کہ اس کی تصویر کے مٹی کے رنگین پیالے بھی پریوں کے آئینے جیسے لطیف ہیں۔ |
|
|
مفہوم شاعر ایک ایسے حسنِ مطلق کا مشاہدہ کر رہا ہے جو ظاہری رنگوں اور شکلوں سے ماورا ہے۔ یہ ایک صوفیانہ خیال ہے جہاں حقیقی جمال بے رنگی اور سادگی میں پوشیدہ ہے۔ اس بے رنگ حسن کا معمولی سا عکس بھی اس قدر نازک اور حسین ہے جیسے پریوں کا آئینہ۔ |
|
|
سیہکاری نمی ماند نہان درکسوت پیری |
بہ رنگ مو کہ رسوایی ست وقف کاسۂ شیرش |
|
ترجمہ بڑھاپے کے لباس میں گناہ چھپے نہیں رہتے، جس طرح دودھ کے پیالے میں ایک بال بھی رسوائی کا سبب بن جاتا ہے۔ |
|
|
مفہوم اس شعر میں بیدل کہتے ہیں کہ انسان کے برے اعمال بڑھاپے میں ظاہر ہو ہی جاتے ہیں، چاہے وہ انہیں چھپانے کی کتنی ہی کوشش کرے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے دودھ کے سفید پیالے میں ایک کالا بال فوراً نظر آ کر اس کی پاکیزگی کو داغدار کر دیتا ہے۔ |
|
|
نم تہمت چہ امکانست بر صیاد ما بستن. |
کہ با آب گہر شستہ ست حیرت خون نخجیرش |
|
ترجمہ ہمارے شکاری (محبوب) پر ظلم کی تہمت لگانا کیسے ممکن ہے؟ کہ اس کی حیرت نے شکار کے خون کو موتیوں کے پانی سے دھو دیا ہے۔ |
|
|
مفہوم شاعر اپنے محبوب کو ہر الزام سے بری قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبوب کے حسن کی حیرت نے عاشق کے خون کے دھبوں کو آنسوؤں (موتیوں کا پانی) سے دھو دیا ہے۔ لہٰذا، محبوب کی خوبصورتی ہی اس کے ہر ستم کا جواز بن جاتی ہے اور اس پر کوئی الزام قائم نہیں ہوتا۔ |
|
|
علاجی نیست جرم غفلت آیینۂ ما را |
مگر حیرت شود فردا شفاعت خواہ تقصیرش |
|
ترجمہ ہمارے آئینے (دل) کی غفلت کے جرم کا کوئی علاج نہیں، سوائے اس کے کہ کل (روزِ قیامت) حیرت ہی اس کی خطا کی سفارش کرے۔ |
|
|
مفہوم شاعر کہتا ہے کہ اس کا دل، جو آئینے کی مانند ہے، غفلت کے گناہ سے آلودہ ہو چکا ہے اور اس کا کوئی علاج نہیں۔ بس ایک ہی امید ہے کہ روزِ محشر، حسنِ حقیقی کو دیکھ کر طاری ہونے والی شدید حیرت ہی اس کی تمام کوتاہیوں اور گناہوں کا کفارہ بن جائے گی۔ |
|
|
نہ حرف رنگ می دانم نہ سطر جلوہ می خوانم |
کتابی در نظر دارم کہ حیرانی ست تفسیرش |
|
ترجمہ نہ میں رنگ کا حرف جانتا ہوں اور نہ ہی جلوے کی سطر پڑھ سکتا ہوں، میری نظر میں ایک ایسی کتاب ہے جس کی تفسیر صرف حیرت ہے۔ |
|
|
مفہوم یہ ایک عارفانہ شعر ہے جہاں شاعر کائنات کی ظاہری حقیقتوں سے اپنی لاعلمی کا اظہار کرتا ہے۔ اس کے نزدیک یہ کائنات ایک ایسی پراسرار کتاب ہے جسے سمجھا نہیں جا سکتا۔ اس کے مطالعے سے صرف ایک دائمی حیرت کی کیفیت طاری ہوتی ہے، اور یہی حیرت اس کی اصل تفہیم ہے۔ |
|
|
نگاہش تا سر مژگان بہ چندین ناز می آید |
بہ این تمکین چہ امکانست از دل بگذرد تیرش |
|
ترجمہ اس کی نگاہ پلکوں کے سرے تک کئی ناز کے ساتھ آتی ہے، اس تمکنت کے ساتھ اس کا تیر دل سے پار کیسے ہو سکتا ہے؟ |
|
|
مفہوم شاعر محبوب کی نگاہ کے ناز و انداز اور اس کی بے نیازی کو بیان کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبوب کی نگاہِ التفات اتنی محتاط اور ناز و ادا سے آتی ہے کہ وہ پلکوں سے آگے بڑھتی ہی نہیں۔ جب تیر میں اتنی کاہلی اور تمکنت ہو تو بھلا وہ عاشق کے دل کے پار کیسے ہو سکتا ہے۔ |
|
|
جہان کیمیا تاثیر استعداد می خواہد |
چو تخمت قابل افتد ہرکف خاکی ست اکسیرش |
|
ترجمہ دنیا کیمیا جیسی تاثیر کے لیے صلاحیت چاہتی ہے، اگر تمہارا بیج قابل ہو تو ہر مٹھی بھر خاک اس کے لیے اکسیر ہے۔ |
|
|
مفہوم اس شعر میں صلاحیت اور قابلیت کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ کامیابی کے لیے بیرونی وسائل سے زیادہ اندرونی استعداد ضروری ہے۔ اگر کسی میں حقیقی صلاحیت (بیج) ہو تو معمولی سے وسائل (مٹھی بھر خاک) بھی اس کے لیے اکسیر یعنی سونا بنانے والی شے ثابت ہو سکتے ہیں۔ |
|
|
بہ این طاقت سرا تا چند مغرورت کند غفلت |
نفس دارد بنایی کز ہوا کردند تعمیرش |
|
ترجمہ اس طاقت کے گھر (جسم) پر غفلت تجھے کب تک مغرور رکھے گی؟ سانس کی ایک ایسی عمارت ہے جسے ہوا سے تعمیر کیا گیا ہے۔ |
|
|
مفہوم شاعر انسانی زندگی اور جسم کی ناپائیداری کو بیان کر رہا ہے۔ وہ انسان کو خبردار کرتا ہے کہ اپنی جسمانی طاقت پر غرور نہ کرے۔ یہ زندگی محض سانسوں پر قائم ایک ایسی کمزور عمارت ہے جس کی بنیاد ہوا پر ہے اور کسی بھی لمحے ڈھے سکتی ہے۔ |
|
|
بہ چندین نالہ یکدل محرم رازم نشد بیدل |
خوشا آہی کہ از آیینہ ہم بردند تاثیرش |
|
ترجمہ اے بیدل! اتنے نالوں کے باوجود ایک بھی دل میرا محرمِ راز نہ بن سکا، مبارک ہو وہ آہ جس کا اثر آئینے سے بھی مٹا دیا گیا ہو۔ |
|
|
مفہوم بیدل اپنی تنہائی اور اپنے درد کے ناقابلِ بیان ہونے کا شکوہ کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی فریاد کو کوئی سمجھ نہیں سکا۔ پھر وہ اس آہ کو خوش قسمت قرار دیتے ہیں جس کا کوئی نشان باقی نہ رہے، کیونکہ ایسی آہ مکمل رازداری کے ساتھ اپنے حقیقی مقام تک پہنچتی ہے۔ |
|
