اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

شیرین فرہاد

عرصہ ہوا کہ کسی نامہ نگار نے ’’مخزن‘‘ میں ’’قصر شیریں‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھتا تھا اس دن سے مجھے یہ خیال برابر رہا کہ جیسے بعض لوگوں نے قیس و لیلیٰ کے حالات لکھتے ہیں۔ ’’شیریں فرہاد‘‘ کے واقعات بھی مختصر طور پر اسی انداز سے کوئی نہ کوئی ضرور لکھے گا۔ جب کسی صاحب نے قلم نہ اٹھایا تو ناچار میں نے ہی کچھ جرات کی۔ واقعات کا سلسلہ اصلی تاریخی حالات اور نظامی اور امیر خسرو کی تصانیف کی پلاٹ کو ملا کر لکھا گیا ہے۔ (خضر)

تاریخ ایران میں لکھا ہے ہُرمُز بن نوشیروان کا بیٹا خسرو پرویز جب سن بلوغت کو پہنچا۔ تو ایک شخص شا پور نے اس سے کہا ’’ولی عہد بہادر آپ خدا کے فضل سے اب اس قابل ہو گئے ہیں کہ آپ کی مبارک شادی ہو۔ مگر کیاابھی تک کوئی ہم درجہ عروس انتخاب نہیں کی گئی۔ آپ کے ملک کی سرحد کے برابر ایک دوسری سلطنت آرمینا ہے جہاں مہین بانو ایک عورت حکمران ہے۔ اس کی بھتیجی (شیریں) نہایت خوبصورت ہے اور آپ کے لائق ہے‘‘۔ شہزادہ نادیدہ عاشق ہو گیا۔ اور پھر شاپور کو ہی اس کام پر لگایا کہ جس طرح ہو شیریں کو میرے ساتھ شادی کرنے پر آمادہ کرے۔ چنانچہ وہ آرمنیا گیا۔ اور خسرو کی ایک نہایت عمدہ تصویر ایسی جگہ راہ میں آویزاں کی جس کو وہ با آسانی دیکھ سکے۔ شیریں کی جب اس پر نظر پڑی تو اِس سے اُس کو ایک قسم کا اُنس پیدا ہوا۔ اس کی سہیلیوں نے کیفیت دیکھی تو سمجھیں کہ شیرین اس تصویر پر مائل ہے۔ فوراً اس کو چھپا دیا۔ پھر جو اس نے مانگی تو کہا ’’یہ جنّوں کی بستی ہے کوئی اڑا لے گیا۔ چلو یہاں سے چل دیں‘‘۔ فوراً بھولی بھالی شہزادی اس بات کو صحیح سمجھی۔ شاپور نے پھر ایک اور تصویر وہاں آویزاں کر دی۔ جس کو دیکھ کر وہ بولی ’’دیکھو تو سہی یہ بات کیا ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی چند لونڈیاں تلاش میں دوڑ یں۔ اور شاپور کو کوہستانی عابدوں کے لباس میں ایک جگہ بیٹھا پایا۔ پھر اس سے جو تصویر کی نسبت سوال کیا۔ کہا ’’کہ یہ سوال تمہارا نہیں جس نے پوچھا ہے وہ خود آ کے دریافت کرے‘‘ کنیزوں نے یہ بات شیریں سے جا کہی وہ خود شاپور کے پاس آئی۔ شاپور نے دل خوش کن باتوں سے خسرو کا ذکر کیا۔ جس سے اسے دیکھنے کا شوق  پیدا ہوا۔ ساتھ ہی اس کے یہ بھی کہا ’’اگر تمہیں خود جانا ہو(انگشتری دے کر)  یہ لو اگر کوئی روکے تو دکھلا دینا۔ بغیر روک ٹوک کے ولی عہد بہادر سے ملاقات ہو جائے گی‘‘۔ ادھر سے یہ تنہا نکلی ادھر سے شہزادہ خسرو بھی تنہا چلا۔ راستے میں ایک تالاب پر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو سہی مگر کوئی بات چیت نہ ہوئی اس لیے کہ اپنی اپنی منزل مقصود کو روانہ ہوئے۔ مصاحبین خسرو نے شیریں کی اور کارکنان مہین بانو نے خسرو کی خاطر مہمانداری کی۔ خسرو شیریں کے انتظار میں مہین بانو کے ہاں ٹھہرا رہا۔ اور شیریں نے خسرو کے انتظار میں ایک خاص مکان پہاڑ پر بنوایا۔ ایک عرصہ کے بعد دونوں اپنے اپنے وطن پہنچے۔

خسرو کو وطن پہنچ کر پتہ لگا۔ کہ اتنے عرصہ سے وہ اس کے ہاں ٹھہری تھی۔ باپ سے ناراض ہو کر پھر مہین بانو کے ہاں گیا۔ شیریں سے ملاقات ہوئی۔ ادھر  باپ فراق میں اندھا ہو کر مر گیا۔ اس واقعہ کی اطلاع امیروں نے دی یہ چل کھڑا ہوا۔  جب اس کو واپس آنے میں تاخیر ہوئی تو بہرام چوبین نے غنیمت سمجھ کر سب اہل دربار کو اپنے ساتھ گانٹھا۔ خسرو شکست کھا کر مہین بانو کے یہاں آ رہا۔ اس واقعہ کو کچھ عرصہ نہ گزرا تھا   کہ ایک دن خسرو اور شیریں بزم طرب جمائے بیٹھے تھے۔ خسرو نے کچھ بات کہی جس کے جواب میں شیریں بولی ’’آپ بھی کوئی بات کرنے کے قابل ہیں پہلے اپنے باپ دادا کے تخت کے لینے کی ٹھہرائے پھر کچھ بولئے‘‘ عورت کا یہ طعنہ مردانگی نے گوارا نہ کیا۔ اور انتقام پر آمادہ ہوا۔ فوراً مہین بانو سے امداد کی درخواست کی۔ وہ یہ دل ہی سے چاہتی تھی۔ جو مانگا دیا۔ قسمت سے پانسہ بھی سیدھا پڑ گیا۔ بہرام بھاگ گیا۔ تخت پر بیٹھے۔ اور مریم (ایک اور شہزادی) کو بادشہ بیگم بنایا۔ اور اس کے  پیٹ سے ایک لڑکا شیرویہ نامی بھی ہو چکا  تھا۔ اور اس وقت کوئی بارہ تیرہ برس کا تھا۔ پھر خسرو نے مریم سے شیریں کی محبت کا اظہار کر کے ایک دن کہا۔ میں چاہتا ہوں  وہ بھی یہاں آ جائے اور تیری کنیز کی طرح رہے۔ مریم یہ سنتے ہی آگ  ہو کر کہنے لگی ’’واہ! کیا خوب! ایک میان میں دو تلواریں چاہے ادھر کی دنیاادھر کیوں نہ ہو جائے۔  میں کبھی نہ مانوں گی کیا تم میری چھاتی پر مونگ دلا چاہتے ہو۔ اپنے ہاتھ سے اپنی موت کو بلواؤں اور ہمیشہ کے لیے زندگی تلخ کر دوں۔ نہ صاحب! ایسا نہ ہوگا‘‘۔خیر! خسرو چپ ہو رہا اور کبھی کبھی خود دس پندرہ دن کے لیے ارمن چلا جاتا۔ کچھ عرصہ کے بعد مہین بانو نے آنکھیں بند کیں اور دنیا کو الوداع کہا۔ اور شیریں کے تخت نے پاؤں چومے۔ اور ملک کا ایسا انتظام کیا کہ سب غش و عش کرنے لگے۔ شیریں کو تازہ دودھ بہت مرغوب تھا۔ ایک دن شاپور سے کہا ’’ہماری گائے بکری دور ہوتی ہیں میں چاہتی ہوں کہ کوئی تدبیر ایسی ہو جس سے دودھ دوہنے کے ساتھ ہی مجھے گرما گرم مل جایا کرے‘‘ شاپور نے سوچ کر کہا ’’کہ ایک چھوٹی سی نہر بن جائے تو ہو سکتا ہے‘‘ چنانچہ پھر اس نے شیریں کے حکم سے چند تجربہ کار کاریگر بلوائے جن میں سے ایک شخص فرہاد (بن شمشاد) کو انتخاب کر کے  کام دیا گیا۔ جس نے  کوئی دو ایک مہینے میں ایک مختصر سی نہر اور ایک چھوٹا سا حوض تیار کیا جس کو دیکھ کر شیریں از حد خوش ہوئی اور اپنے کانوں سے ایک موتی کی جوڑی اتار کر انعام دی۔ مگر فرہاد نے وہی موتی نچھاور کر دیے۔ اور اس وقت جو دو چار باتیں شیریں نے فرہاد سے کیں وہ اس کے دل میں بجلی کااثر کر گئیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا۔ بیچارہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر صحرا کو چل دیا۔ ادھر خسرو کو بھی جاسوسوں نے خبر دی ’’کہ ایک آہن گر شہزادی پر عاشق ہو گیا ہے۔ یوں تو وہ جنگل میں رہتا ہے۔ مگر کبھی کبھی ایوان شیریں کے نیچے آ کر اسے دیکھ جاتا ہے‘‘ سچ ہے  لاگ کی آگ بری ہوتی ہے۔ دل میں سوچا۔ جس طرح ہو اس رقیب کا فیصلہ کیا جائے۔ پھر فرہاد کو ایک حکمت عملی سے طلب کر کے کہا ’’دیکھو مفت کی رقابت اچھی نہیں۔ مجھے بھی شیریں سے محبت ہے اور تمہیں بھی۔ اس لیے میں تمہارے خیال سے اتنا کرتا ہوں۔ کہ اگر تم اس بے ستون پہاڑ کا راستہ ٹھیک کر دو تو شیریں اپنی سمجھو‘‘ فرہاد  اس مشکل کو مشکل نہ سمجھا اتنا کہا۔ ’’بات پر رہنا۔‘‘ اور ہمت کر کے تیشہ ہاتھ میں لے چل نکلا۔ اور منزل مقصود پر پہنچ کر اس خیال سے کہ شاید کام کرتے کرتے جی اکتا جائے اور مقصد دل سے محروم رہ جاؤں اس نے ایک درخت کے نیچے پتھر پر شیریں کی تصویر بنائی۔ اور پہاڑ کاٹنے لگا۔ جب کام کرتے کرتے تھک جاتا تو تصویر کو دیکھ لیتا اور پھر تازہ دم ہو کر اپنے کام میں لگ جاتا۔ مولانا نظامی لکھتے ہیں کہ ایک دن شیریں اس خیال سے کہ دیکھیں فرہاد کیا کچھ کر رہا ہے۔ گھوڑے پر سوار ہو کر اس طرف کو آ نکلی۔ گھوڑا بے خود ہو گیا اور ایسی منہ زوری کی کہ قابو میں آنے کی  امید باقی نہ رہی۔ فرہاد نے دور سے دیکھا دوڑتا ہوا آیا اور بصد مشکل گھوڑے کو چمکار کر ایوان شاہی تک لے گیا۔ ادھر خسرو کو پرچہ نویسوں نے اطلاع دی کہ اگر چند ے  یہی حالت رہی تو  ع

تواند بے ستوں را بے ستوں کرد

ترجمہ وہ بے ستوں (پہاڑ) کو بغیر ستونوں کے کر سکتا ہے

پھر اپنے اہل دربار سے اس کے متعلق مشورہ کیا۔ سب نے بالاتفاق یہ صلاح دی کہ اس کو کہلوا بھیجو مرد آدمی کیوں بے فائدہ جان کھو رہے ہو۔ شیریں تو چل بسی۔

گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر

’’وہ سنتے ہی ضرورجان پر کھیل جائے گا‘‘ آخر ایک مکار عورت کو اس کام پر مقرر  کیا چنانچہ جب وہ فرہاد کے پاس پہنچی تو اس نے ایسے زمین و آسمان کے قلابے ملائے کہ سننے والے کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ اور پھر جب اسے شیریں کی موت کی خبر دی تو ناشاد فرہاد۔ 

ز طاقِ کوہ  چون کُوہے  درافتاد

ترجمہ پہاڑ کے طاق سے جب وہ ایک پہاڑ کی مانند نیچے آ گرا

خسرو نے شیریں کو تیسرے دن فرہاد کی کیفیت سے اطلاع دی۔ چند یوم کے بعد مریم بھی مر گئی۔ اور خسرو نے شیریں کو کہلا بھیجا۔ اب تو محل سرائے شاہی میں آؤ۔ ادھر شیرویہ بن خسرو نے کہا ’’کاش! شیریں میرے عقد میں آتی‘‘ باپ نے یہ بات دل میں رکھی۔ ولی عہد بہادر کی اس قسم کی شوخیاں دیکھ کر خسرو نے اپنے وزیر (بزرگ امید) سے مشورہ کیا۔ اس نے کہا ’’بہتر یہ ہے اب تخت ان کے حوالے کر کے آتش خانہ میں جا بیٹھے‘‘ چنانچہ یہی کیا۔ اس پر بھی بدبخت بیٹے کی بدگمانیاں بڑھتی ہی چلی گئیں۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ باپ کے قتل کی ٹھہرائی۔ جنہوں نے ایک دن بے خبر آدھی رات کو جبکہ خسرو میٹھی نیند سو رہا تھا اپنے خونخوارخنجر سے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔ پھر شیرویہ نے میدان خالی پا کر سوتیلی ماں کو کہلا بھیجا ’’جب ایک ہفتہ کے بعد میرے عقد میں آ جاؤں  گی تو تمہاری عزت خسرو سے وہ چند کروں  گا۔ تم کچھ خوف نہ کرو۔‘‘ شیریں کی غیرت نے گوارا نہ کیا۔ آخر آتش خانہ کا دروازہ بند کر اور شاہ مرحوم کا کفن کھول کر ٹھیک اسی جگہ جہاں خسرو کے خنجر لگا تھا۔

ہمان جادشنہ زد۔ اوبر تن خویش

ترجمہ وہی خنجر جس سے بادشاہ کو مارا، (اس نے) اپنے ہی جسم پر مارا