شد لبِ شیرین ادایش با من از ابرام تلخ | از تقاضای ہوس کردم میِ این جام تلخ |
ترجمہ میرے اصرار سے اس کا شیریں ادا لب مجھ پر تلخ ہو گیا؛ ہوس کے تقاضے سے میں نے اس جام کی شراب خود ہی تلخ کر لی۔ | |
پختگی در طبعِ ناقص بی دماغِ تہمت است | دود می آید برون از چوبہای خام تلخ |
ترجمہ ناقص طبیعت میں پختگی تہمت کی بے دماغی ہے؛ کچی لکڑیوں سے دھواں کڑوا ہی نکلتا ہے۔ | |
امتدادِ عمر برد از چشمِ ما ذوقِ نگاہ | کہنگی ہا کرد آخر مغزِ این بادام تلخ |
ترجمہ عمر کی درازی نے ہماری آنکھ سے دیکھنے کا ذوق چھین لیا؛ پرانے پن نے آخر اس بادام کا مغز کڑوا کر دیا۔ | |
دشمنِ امن است موقع ناشناسی دم زدن | زندگی بر خود مکن چون مرغِ بی ہنگام تلخ |
ترجمہ موقع ناشناسی سے دم مارنا امن کا دشمن ہے؛ بے وقت بانگ دینے والے مرغ کی طرح اپنی زندگی خود پر تلخ نہ کر۔ | |
حرصِ زر آنگہ حلاوت اختراعِ وہمِ کیست | کامہا در جوشِ صفرا می شود ناکام تلخ |
ترجمہ سونے کی حرص اور پھر اس میں حلاوت، یہ کس کے وہم کی ایجاد ہے؟ صفرا کے جوش میں تو مزے بھی ناکام اور تلخ ہو جاتے ہیں۔ | |
بی صداعی نیست شہرتہای اقبالِ جہان | موجِ چین زد بسکہ شد آبِ عقیق از نام تلخ |
ترجمہ دنیا کے اقبال کی شہرتیں دردِ سر سے خالی نہیں؛ نام کھدنے سے عقیق کی آب اتنی تلخ ہوئی کہ اس پر شکن کی موج پڑ گئی۔ | |
جوہرِ فطرت مکن باطل بہ تمہیدِ غرض | ای بسا مدحی کہ شد زین شیوہ چون دشنام تلخ |
ترجمہ غرض کی تمہید سے فطرت کے جوہر کو ضائع نہ کر؛ بہت سی مدحیں اسی روش سے گالی کی طرح تلخ ہو گئیں۔ | |
بسکہ دارد طبعِ خلق از حق گذاری انفعال | دادنِ جان نیست اینجا چون ادای وام تلخ |
ترجمہ خلق کی طبیعت حق ادا کرنے سے اس قدر شرمندہ رہتی ہے کہ یہاں جان دینا بھی قرض ادا کرنے جتنا تلخ نہیں۔ | |
انتظارِ صیدِ مطلب سخت راحت دشمن است | خواب نتوان یافت جز در دیدہ ہای دام تلخ |
ترجمہ مطلب کے شکار کا انتظار سخت راحت دشمن ہے؛ جال کی آنکھوں میں بھی نیند ملتی ہے تو تلخ ہی ملتی ہے۔ | |
گر ز ادبار آگہی بگذر ز اقبالِ ہوس | ترکِ آغازِ حلاوت نیست چون انجام تلخ |
ترجمہ اگر تو ادبار سے آگاہ ہے تو ہوس کے اقبال سے گزر جا؛ حلاوت کا آغاز چھوڑ دینا اتنا تلخ نہیں جتنا اس کا انجام۔ | |
می کند بیدل تبسم زہرِ چشمش را علاج | پستہ اش خواہد نمک زد گر شود بادام تلخ |
ترجمہ اے بیدل، اس کا تبسم اس کی آنکھ کے زہر کا علاج کرتا ہے؛ اگر بادام تلخ ہو جائے تو اس کا پستہ اس پر نمک چھڑک دے گا۔ | |
