اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

شدہ فہم مقصد عالمی زتلاش ہرزہ قدم غلط

شدہ فہمِ مقصدِ عالمی ز تلاشِ ہرزہ قدم غلط

تہِ پاست کعبہ و دیر اگر نکنیم راہِ عدم غلط

ترجمہ بے ہودہ تلاش میں قدم غلط پڑنے سے ایک عالم کا مقصد سمجھنا غلط ہو گیا ہے، اگر ہم عدم کی راہ غلط نہ کریں تو کعبہ اور دیر پاؤں تلے ہیں۔

بہ غبارِ مرحلۂ ہوس اثرِ نفس نشکافت کس

بہ کجا رسد پیِ لشکری کہ کند نشانِ علم غلط

ترجمہ ہوس کی منزل کے غبار کو کسی نے سانس کے اثر سے نہیں چیرا، اس لشکری کا نقشِ قدم کہاں پہنچے گا جو علم کا نشان غلط کر دے۔

نرسید محضرِ زندگی بہ ثبوتِ محکمۂ یقین

کہ گواہِ دعویٔ باطلِ تو دروغ بود و قسم غلط

ترجمہ زندگی کا محضر یقین کی عدالت میں ثبوت تک نہ پہنچا، کہ تیرے باطل دعوے کا گواہ جھوٹا تھا اور قسم غلط تھی۔

ز صفای شیشہ طلب پری کہ رہِ یقین بہ گمان بری

تو بر آب می فکنی تری من و تست ہر دو بہم غلط

ترجمہ تو شیشے کی صفائی سے پری طلب کرتا ہے تاکہ یقین کی راہ گمان سے طے کرے، تو پانی پر تری ڈالتا ہے، میں اور تو دونوں ایک ساتھ غلط ہیں۔

بہ نمودِ شخصِ معینت درِ عکس زد دمِ امتحان

چہ خطی کہ شد ز تاملِ تو کتابِ آینہ ہم غلط

ترجمہ تیرے معین وجود کی نمود کے لیے عکس کے دروازے نے امتحان کا دم بھرا، یہ کیسی خطا ہے کہ تیرے تامل سے آئینے کی کتاب بھی غلط ہو گئی۔

ز تمیزِ جادہ و منزلت المِ ترددِ نیک و بد

خطِ پا بہ دایرہ می رسد سر اگر شود بہ قدم غلط

ترجمہ راستے اور منزل کی تمیز سے تجھے نیک و بد کے تردد کا غم ہے، اگر سر قدم سے بدل کر غلط ہو جائے تو پاؤں کی لکیر دائرہ بن جاتی ہے۔

من و مای مکتبِ آب و گل ستم است اگر کندت خجل

بہ ندامتِ ابدی مکش سبقی کہ گشتہ دو دم غلط

ترجمہ آب و گل کے مکتب کی میں اور ہم اگر تجھے شرمندہ کرے تو یہ ستم ہے، جو سبق دو گھڑی غلط ہو گیا اس کے لیے ابدی ندامت نہ اٹھا۔

خطِ سرنوشتِ من آب شد ز تراوشِ عرقِ حیا

چو نقوشِ معنیٔ روشنی کہ شود بہ کاغذِ نم غلط

ترجمہ حیا کے پسینے کے رسنے سے میری تقدیر کی تحریر پانی ہو گئی، کسی روشن معنی کے نقوش کی طرح جو نم کاغذ پر بگڑ جاتے ہیں۔

اگر آبم آبِ رخِ گہر و گر آتش آتشِ سنگ زر

بہ تو آشنا نی ام آنقدر کہ دویی کند بہ خودم غلط

ترجمہ اگر میں پانی ہوں تو موتی کے چہرے کی آب ہوں اور اگر آگ ہوں تو سنگ و زر کی آگ، میں تجھ سے اتنا آشنا نہیں کہ دوئی مجھے اپنے بارے میں غلطی میں ڈال دے۔

منِ بیدل اینقدر از جنون بہ خیالِ ہرزہ تنیدہ ام

رقمِ جریدۂ مدعا غلط است اگر نکنم غلط

ترجمہ میں بیدل جنون کے سبب بے ہودہ خیال میں اس قدر الجھ گیا ہوں کہ اگر مدعا کے دفتر کی تحریر کو غلط نہ کروں تو وہی غلط ہے۔