(از قسطنطنیہ)
خط 1۔ 25 مئی 1892ء
سیدی!
تسلیم، میں 22؍ مئی کو یہاں پہنچا، لیکن ترددات کی وجہ سے خط لکھنے کی مہلت نہ مل سکی، یہ خط بھی مختصر اور پرائیویٹ ہے، کچھ کچھ باتیں آپ انتخاب فرما کر چھاپ دیں تو ممکن ہے، میں نے سردست ایک مختصر سا حجرہ 11؍ روپیہ مہینہ کرایہ کا لے لیا ہے، لیکن کھانے کا صرف یہاں بہت زیادہ ہے۔
سب سے ضروری بات یہ ہے کہ آپ دو تین سو یا اس سے زیادہ روپے بھیج دیں کہ جو کتاب جس وقت ہاتھ آئے لے لی جائے، یا نقل و کتابت کا انتظام کیا جا سکے، کتابیں یہاں بہت ہیں اور نادر ہیں، لیکن کہاں تک لکھوائی جا سکتی ہیں، امام غزالی کی تصنیفیں یہاں موجود ہیں اور بوعلی سینا کی تو شاید کل تصنیفات مل سکتی ہیں، امام غزالی کے خطوط بھی موجود ہیں، خیر جو ممکن ہوگا کیا جائے گا، یہاں اکثر لوگوں سے ملاقات ہو سکتی ہے، لیکن مشکل زبان کی ہے، بعض بڑے کالج دیکھے مگر زبان کی اجنبیت کی وجہ سے حالات معلوم کرنے میں نہایت دقت ہوتی ہے، میں نے ترکی پڑھنی شروع کی ہے اور ان شاء اللہ کچھ نہ کچھ بقدرِ ضرورت واپسی کے وقت تک سیکھ لوں گا، اس وقت تمام کالجوں وغیرہ کی رپورٹ تیار کر سکوں گا۔
حالات دلچسپ ہیں اور سفرنامہ کے لیے بہت سامان مل جائے گا، لیکن اس وقت بلکہ زمانۂ قیام تک مطلق فرصت نہیں مل سکتی، ہر روز تین چار میل کا چکر کرنا پڑتا ہے، بہت بڑا شہر ہے اور تمام کتب خانے وغیرہ دور دور واقع ہیں۔
روپیہ بھیجنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کک کمپنی کے ہاں سے نوٹ منگوا کر میرے یہاں رجسٹرڈ بھیج دیجیے، میں بھی کک کے نوٹ ساتھ لایا ہوں اور وہ یہاں کک کے کارخانے میں بے تکلف چل سکتے ہیں۔
یہاں آج کل عینی کی شرحِ بخاری چھپ رہی ہے، 9 جلدیں چھپ چکی ہیں، بہت بڑی کتاب ہے، حنفیوں کو اس کی تلاش تھی، وہاں کسی متصلب حنفی کو درکار ہو تو منگوا سکتے ہیں۔
بیروت کے علما نے تمام نصارائے عرب خواہ جاہلیت کے ہوں خواہ اسلام کے، ان سب کے اشعار کا ایک مجموعہ تیار کر کے چھاپنا شروع کیا ہے، ایک جلد چھپ چکی ہے، اسی میں اخطل کا دیوان بھی ہے، لیکن وہ مستقل تین جلدوں میں چھپ چکا ہے، یہ آج تک کہیں نہیں مل سکا تھا، یورپ میں بھی اس کی تلاش تھی۔
معتزلہ کی کتابیں یہاں بھی نہیں ہیں۔
وہاں کے حالات جس قدر تحریر فرمائیے گا میری تشفی کا باعث ہوگا، لڑکوں کو میں حضور کے بھروسہ پر چھوڑ آیا ہوں، میاں حمید کو نگرانی کی تاکید فرمائیے گا۔
یہ خط والد قبلہ کو بھیج دیا جائے، یا اس کی نقل، متعدد خطوط لکھنے کی فرصت نہیں، حالاتِ سفر میں ایک قصیدہ موزوں ہو گیا ہے، وہ خط کے ساتھ شامل ہے، مطبع مفید عام میں چھاپ کر علی گڑھ گزٹ کے ساتھ شائع کر دیا جائے تو مناسب ہوگا، اس کی چند کاپیاں والد قبلہ کو بھی بھیج دیجیے گا۔
یہاں کا اخبار اختر جو فارسی زبان میں ہے اور جس کی اشاعت دو ہزار ہے، میں نے آپ کے نام روانہ کرنے کے لیے کہہ دیا ہے، اس کی ششماہی قیمت 6؍ روپے ہے، وہ انہی روپیوں کے ساتھ بھیج دیجیے گا، ممکن ہے کہ اس اخبار میں ہمارے کالج کے حالات چھپتے رہیں اور وہ ضرور کچھ نہ کچھ فائدہ دیں گے، یہاں اکثر لوگ ہندوستان کے نام سے بھی واقف نہیں، ورنہ اگر مسلمانوں کے تمام حالات اور ضرورتیں معلوم ہوں تو کالج کو مدد ملنا یقیناً مشکل نہیں، ہزاروں میل تک یہاں کے اوقاف کا فائدہ پہنچتا ہے۔
شبلی نعمانی
25؍ مئی 1892ء
قسطنطنیہ، مقام تختہ خان، قریب خان محمود پاشا
خط 2۔ 15 جون 1892ء
سیدی ومولائی!
یہ تیسرا خط ہے جو استنبول سے لکھ رہا ہوں، آپ کو اور بزرگانِ وطن کو میرے خطوط کا انتظار نہ کرنا چاہئے، یعنی سکوت کی حالت میں قیاس بلکہ یقین کر لیجئے کہ میں بخیریت ہوں، باقی حالاتِ سفر اس کی نسبت میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ یہاں سے کچھ نہ لکھوں گا۔
قلمی کتابیں یہاں نہیں ملیں، مصر میں کبھی کبھی ہاتھ آ جاتی ہیں، اس لیے صرف مطبوع کتابیں خریدی جا سکتی ہیں، لیکن ان کی تعداد بھی معتد بہ ہے، یہاں امام غزالی کی تمام کتابیں اور رسالے موجود ہیں، مکاتبات کا نسخہ بھی ہے، بوعلی سینا کی اس قدر تصنیفات ہیں کہ کہیں نہ ہوں گی، ارسطو وغیرہ کی کتابوں کے اصلی ترجمے نہایت قدیم خط میں موجود ہیں، لیکن کیا حاصل؟ کتابت کی شرح 4؍ روپے جز سے کسی حال میں کم نہیں، معتزلہ کی کتابیں البتہ ناپید ہیں، عبد القاہر جرجانی کی تفسیر ہے مگر اس میں کوئی نئی بات نہیں۔
پرسوں میں عثمان پاشا سے ملا، نہایت اخلاق سے ملے، عربی سمجھ لیتے ہیں اور دو چار معمولی باتیں بھی کر سکتے ہیں، میں نے ان کے ہاتھ کا بوسہ دینا چاہا لیکن راضی نہ ہوئے بلکہ الٹے خود میری تقلید کرنی چاہی، رخصت کے وقت فرمایا کہ آپ جب چاہیں تشریف لائیں، بہت خوشی سے ملوں گا، تمام اور بڑے بڑے پاشاؤں سے بھی ملاقات ہو سکتی ہے، لیکن اول تو زبان کی اجنبیت ثانیاً مجھ کو اور کسی کی ملاقات کا شوق بھی نہیں۔
یہاں کا ٹائپ بے انتہا عمدہ ہے، تمام دنیا میں اس کا نظیر نہیں، علی گڈھ گزٹ کے لیے یا مستقل مطبع کے لیے ضرور خریدنا چاہئے، بیروت و ہالینڈ کے حروف میں بھی یہ نوک پلک نہیں۔
افسوس ہے کہ عربی تعلیم کا پیمانہ یہاں بہت ہی چھوٹا ہے اور جو قدیم طریقۂ تعلیم تھا اس میں یورپ کا ذرا پرتو نہیں، جدید تعلیم وسعت کے ساتھ ہے، لیکن دونوں کے حدود جدا رکھے گئے ہیں اور جب تک یہ دونوں ڈانڈے نہ ملیں گے اصلی ترقی نہ ہو سکے گی، یہی کمی تو ہمارے ملک میں ہے، جس کا رونا ہے۔
میں نے کالج کا نتیجہ اکمل الاخبار میں دیکھا اور بے انتہا خوش ہوا بلکہ سچ یہ ہے کہ اسی عالم میں خط لکھنے بیٹھ گیا، ورنہ معمولی باتیں روز روز کیا لکھوں۔
روپے فوراً جس قدر کتاب کے لیے بھیجنے ہوں بھیجئے، یہاں سے میں اٹھا تو پھر مجھ کو خط وغیرہ کوئی چیز نہ مل سکے گی، یہاں کی جو چیزیں مشہور ہیں وہ آپ کو معلوم ہیں، اگر کوئی چیز مطلوب ہو تو تحریر فرمائیے کہ میں لیتا آؤں، میں چاہتا ہوں کہ کالج کے لیے چند ترکی زبان کی عمدہ کتابیں خریدی جائیں جن سے یہاں کی علمی ترقی کا اندازہ ہو سکے گا۔
یہ خط والد قبلہ کے پاس بھیج دیا جائے، میاں حمید کو تاکید فرمائیے کہ مجھ کو نہایت مفصل خط لکھیں اور عزیزوں کے امتحانات کے نتیجے بھی لکھیں۔
میری تصنیفات تیار ہو جائیں تو چند نسخے یہاں کے لیے چاہئیں، لیکن دیر ہوگی تو مجھ کو نہ مل سکیں گی، میں ان شاء اللہ 15؍ اگست تک یہاں رہوں گا۔
ہاں آج میں حسین حبیب آفندی سے جو بمبئی میں سفیر تھے اور اب یہاں پولیس جنرل ہیں، ملا۔ بے انتہا مہربانی کی، گھر کے تمام کمرے دکھائے، دعوت کی اور بہت سی مہربانیاں کیں، وہ اردو بخوبی بولتے ہیں، آپ فوراً سیرۃ النعمان کا ایک نسخہ جو وہاں میں دیکھ آیا ہوں اور اس پر کالج کی مہر نہیں لگی ہے بھیج دیجیے، ضرور میں ان کو ہدیہ دوں گا، وہ اسی مذاق کے آدمی ہیں۔
والسلام
شبلی، قسطنطنیہ
15؍ جون 1892ء
باب عالی، ادارۂ اختر
خط 3۔ 12/1895ء
مطاعی!
افسوس ہے سفر کی رواداری میں اب تک عریضہ نہیں لکھ سکا، علی گڑھ گزٹ مہینہ بھر کے لیے میرے نام جاری کر دیا جائے کہ کالج کے حالات معلوم ہوتے رہیں۔
اگست کی تنخواہ بھیج دی جائے۔
غبن کا معاملہ خدا کرے بخیر انجام ہو۔
ہم لوگ بایمان و یقین جانتے ہیں کہ اور صیغوں میں بھی نہایت ابتری ہے، مگر جرأتِ اظہار نہ تھی، کم سے کم سال میں قاعدے کے موافق جانچ تو ہونی چاہئے۔
والتسلیم
شبلی، اعظم گڑھ
12/1895ء1
