جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ستمکش تو بہ قاصد اگر دہد کاغذ

ستمکش تو بہ قاصد اگر دہد کاغذ

بہ سیلِ اشک زند دست و سر دہد کاغذ

ترجمہ ستم زدہ (محبوب) اگر قاصد کو خط دے گا تو وہ آنسوؤں کے سیلاب میں ہاتھ پاؤں مارے گا اور سر دے کر ہی خط پہنچا پائے گا۔

ز نقطۂ تخمِ امیدم دماند ریشہ بہ خط

چہ دولت است کہ ناگہ ثمر دہد کاغذ

ترجمہ میرے خط میں امید کے بیج کے نقطے سے جڑیں پھوٹ پڑی ہیں، یہ کیسی خوش قسمتی ہے کہ کاغذ اچانک پھل دینے لگا ہے۔

چسان صفای بناگوشِ او کنم تحریر

اگر نہ مطلعِ فیضِ سحر دہد کاغذ

ترجمہ میں اس کے کان کے نیچے (بناگوش) کی صفائی کیسے لکھ سکتا ہوں، اگر کاغذ صبح کے فیض کا مطلع (آغاز) نہ بن جائے۔

سیاہ کرد فلک نامۂ امید مرا

برای آن کہ بہ ہر بی بصر دہد کاغذ

ترجمہ آسمان نے میری امید کا خط سیاہ کر دیا، اس لیے کہ وہ ہر بے نظر (نااہل) کو کاغذ (عزت) دیتا ہے۔

ز دودِ کلفتِ دل رنگِ نامہ ام ابری ست

مگر بہ او خبر از چشمِ تر دہد کاغذ

ترجمہ میرے دل کی کدورت کے دھویں سے میرے خط کا رنگ ابر آلود ہے، شاید یہ کاغذ اسے میری نم آنکھوں کی خبر دے دے۔

بہ ہر دلی رقمِ داغِ عشق مایل نیست

بگو بہ لالہ کہ خوش رنگتر دہد کاغذ

ترجمہ عشق کے داغ کی تحریر ہر دل پر مائل نہیں ہوتی، لالہ کے پھول سے کہو کہ وہ زیادہ خوش رنگ کاغذ (پنکھڑی) فراہم کرے۔

چہ دودِ دل کہ نپیچیدہ ای بہ پردۂ خط

عجب مدار کہ بوی جگر دہد کاغذ

ترجمہ یہ دل کا کیسا دھواں ہے جسے تو نے خط کے پردے میں نہیں لپیٹا ہے؟ تعجب نہ کر کہ کاغذ سے جگر کی بو آ رہی ہے۔

ہزار نقش ز ہر پردہ روشن است اما

بہ بی سواد چہ عرضِ ہنر دہد کاغذ

ترجمہ ہر پردے سے ہزاروں نقش واضح ہیں، لیکن ایک ان پڑھ کے سامنے کاغذ اپنا ہنر کیسے پیش کر سکتا ہے؟

نفس مسوز بہ پروازِ لافِ ما و منت

بہ شعلہ تا چقدر بال و پر دہد کاغذ

ترجمہ ہماری اور تمہاری ڈینگوں کی پرواز پر اپنی سانس مت جلاؤ، آخر کاغذ شعلے کو کب تک بال و پر دے سکتا ہے؟

بہ مفلسی نتوان لافِ اعتبار گرفت

کہ عرضِ قدر بہ افشانِ زر دہد کاغذ

ترجمہ مفلسی میں اعتبار کی ڈینگ نہیں ماری جا سکتی، کیونکہ کاغذ (ہنڈی) کی قدر سونے کے چھڑکاؤ سے ظاہر ہوتی ہے۔

تہی ز کینہ مدان طینتِ تنک رویان

ز سنگ عرضِ شرر بیشتر دہد کاغذ

ترجمہ کم ظرف لوگوں کی فطرت کو کینہ سے خالی مت سمجھو، کاغذ بھی پتھر (چقماق) سے ٹکرا کر زیادہ چنگاری دکھاتا ہے۔

بہ دستِ غیر تو آیینہ دادم و خجلم

چو قاصدی کہ بجای دگر دہد کاغذ

ترجمہ میں نے تمہارے غیر کے ہاتھ میں آئینہ دیا اور شرمندہ ہوں، اس قاصد کی طرح جو خط کسی اور جگہ دے آئے۔

قلم بہ حسرتِ دیدار عجزِ تحریر است

بیاضِ دیدہ بہ مژگان مگر دہد کاغذ

ترجمہ دیدار کی حسرت میں قلم لکھنے سے عاجز ہے، شاید آنکھوں کی سفیدی ہی پلکوں کے ذریعے کاغذ (لکھنے کی جگہ) فراہم کرے۔

سفینہ در دلِ دریا فکندہ ام بیدل

مگر ز وصلِ کناری خبر دہد کاغذ

ترجمہ اے بیدل! میں نے اپنی کشتی دریا کے دل میں ڈال دی ہے، شاید یہ کاغذ (کشتی) کسی کنارے سے وصل کی خبر لے آئے۔