اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

صبحدم سیارہ بال افشاند از دامان شب

صبحدم سیارہ بال افشاند از دامانِ شب

وقتِ پیری ریخت از ہم عاقبت دندانِ شب

ترجمہ صبح دم ستاروں نے رات کے دامن سے پر جھاڑ لیے؛ بڑھاپے میں آخرکار رات کے دانت جھڑ گئے۔

اشکِ حسرت لازم ساز رحیل فتادہ است

شبنمِ صبح است آثارِ نمِ مژگانِ شب

ترجمہ حسرت کا آنسو کوچ کے سامان کا لازمہ بن گیا ہے؛ صبح کی شبنم رات کی پلکوں کی نمی کے آثار ہیں۔

برنمی آید بیاضِ چشمِ آہو از سواد

صبحِ اقبالِ جنونم نشکند پیمانِ شب

ترجمہ ہرن کی آنکھ کی سفیدی سیاہی پر غالب نہیں آتی؛ میرے جنون کے اقبال کی صبح رات کا پیمان نہیں توڑتی۔

در ہوای دودِ سودا ہوشم از سر رفتہ است

آشیان از دست داد این مرغ در طیرانِ شب

ترجمہ جنون کے دھوئیں کی ہوا میں میرا ہوش سر سے جا چکا ہے؛ اس پرندے نے رات کی اڑان میں اپنا آشیانہ کھو دیا۔

در خمِ آن زلف خون شد طاقتِ دلہای چاک

صبحِ ما آخر شفق گردید در زندانِ شب

ترجمہ اس زلف کے خم میں چاک دلوں کی طاقت خون ہو گئی؛ رات کے زندان میں ہماری صبح آخرکار شفق بن گئی۔

با جمالش داد ہرجا دستِ بیعت آفتاب

طرۂ مشکین او ہم تازہ کرد ایمانِ شب

ترجمہ جہاں کہیں سورج نے اس کے جمال کے ہاتھ پر بیعت کی، اس کی مشکیں زلف نے بھی رات کا ایمان تازہ کر دیا۔

از حوادث فیضِ معنی می برند اہلِ صفا

می فروزد شمعِ صبح از جنبشِ دامانِ شب

ترجمہ اہلِ صفا حادثوں سے معنی کا فیض پاتے ہیں؛ صبح کی شمع رات کے دامن کی جنبش سے روشن ہوتی ہے۔

مژدہ ای ذوقِ گرفتاری کہ بازم می رسد

نکہتِ زلفِ کسی از دشتِ مشک افشانِ شب

ترجمہ اے ذوقِ گرفتاری! خوش خبری ہو کہ رات کے مشک بکھیرنے والے صحرا سے پھر کسی کی زلف کی خوشبو مجھ تک پہنچ رہی ہے۔

خطِ او بر صبح پنداری شبیخون نامہ ای ست

روی او فردی ست گویی در شکستِ شانِ شب

ترجمہ اس کا خط گویا صبح پر شب خون کا فرمان ہے، اور اس کا چہرہ گویا رات کی شان توڑنے کا ایک پروانہ ہے۔

لمعۂ صبحی کہ می گویند در عالم کجاست

اینقدرہا خوابِ غفلت نیست جز برہانِ شب

ترجمہ صبح کی وہ چمک جس کی باتیں کرتے ہیں، دنیا میں کہاں ہے؟ غفلت کی اتنی گہری نیند رات کی دلیل کے سوا کچھ نہیں۔

گوشہ گیرِ وسعت آبادِ غبارِ جہل باش

پردہ پوشِ یک جہان عیب است ہندستانِ شب

ترجمہ جہالت کی گرد کے وسیع آباد خطے میں گوشہ نشین ہو جا؛ رات کا ہندوستان ایک جہان بھر عیبوں کی پردہ پوشی کرتا ہے۔

بیدل از پیچ و خمِ زلفش رہایی مشکل است

بر کریمان سہل نبود رخصتِ مہمانِ شب

ترجمہ بیدل! اس کی زلف کے پیچ و خم سے رہائی مشکل ہے؛ کریموں پر رات کے مہمان کو رخصت کرنا آسان نہیں ہوتا۔