صبحدم سیارہ بال افشاند از دامانِ شب | وقتِ پیری ریخت از ہم عاقبت دندانِ شب |
ترجمہ صبح دم ستاروں نے رات کے دامن سے پر جھاڑ لیے؛ بڑھاپے میں آخرکار رات کے دانت جھڑ گئے۔ | |
اشکِ حسرت لازم ساز رحیل فتادہ است | شبنمِ صبح است آثارِ نمِ مژگانِ شب |
ترجمہ حسرت کا آنسو کوچ کے سامان کا لازمہ بن گیا ہے؛ صبح کی شبنم رات کی پلکوں کی نمی کے آثار ہیں۔ | |
برنمی آید بیاضِ چشمِ آہو از سواد | صبحِ اقبالِ جنونم نشکند پیمانِ شب |
ترجمہ ہرن کی آنکھ کی سفیدی سیاہی پر غالب نہیں آتی؛ میرے جنون کے اقبال کی صبح رات کا پیمان نہیں توڑتی۔ | |
در ہوای دودِ سودا ہوشم از سر رفتہ است | آشیان از دست داد این مرغ در طیرانِ شب |
ترجمہ جنون کے دھوئیں کی ہوا میں میرا ہوش سر سے جا چکا ہے؛ اس پرندے نے رات کی اڑان میں اپنا آشیانہ کھو دیا۔ | |
در خمِ آن زلف خون شد طاقتِ دلہای چاک | صبحِ ما آخر شفق گردید در زندانِ شب |
ترجمہ اس زلف کے خم میں چاک دلوں کی طاقت خون ہو گئی؛ رات کے زندان میں ہماری صبح آخرکار شفق بن گئی۔ | |
با جمالش داد ہرجا دستِ بیعت آفتاب | طرۂ مشکین او ہم تازہ کرد ایمانِ شب |
ترجمہ جہاں کہیں سورج نے اس کے جمال کے ہاتھ پر بیعت کی، اس کی مشکیں زلف نے بھی رات کا ایمان تازہ کر دیا۔ | |
از حوادث فیضِ معنی می برند اہلِ صفا | می فروزد شمعِ صبح از جنبشِ دامانِ شب |
ترجمہ اہلِ صفا حادثوں سے معنی کا فیض پاتے ہیں؛ صبح کی شمع رات کے دامن کی جنبش سے روشن ہوتی ہے۔ | |
مژدہ ای ذوقِ گرفتاری کہ بازم می رسد | نکہتِ زلفِ کسی از دشتِ مشک افشانِ شب |
ترجمہ اے ذوقِ گرفتاری! خوش خبری ہو کہ رات کے مشک بکھیرنے والے صحرا سے پھر کسی کی زلف کی خوشبو مجھ تک پہنچ رہی ہے۔ | |
خطِ او بر صبح پنداری شبیخون نامہ ای ست | روی او فردی ست گویی در شکستِ شانِ شب |
ترجمہ اس کا خط گویا صبح پر شب خون کا فرمان ہے، اور اس کا چہرہ گویا رات کی شان توڑنے کا ایک پروانہ ہے۔ | |
لمعۂ صبحی کہ می گویند در عالم کجاست | اینقدرہا خوابِ غفلت نیست جز برہانِ شب |
ترجمہ صبح کی وہ چمک جس کی باتیں کرتے ہیں، دنیا میں کہاں ہے؟ غفلت کی اتنی گہری نیند رات کی دلیل کے سوا کچھ نہیں۔ | |
گوشہ گیرِ وسعت آبادِ غبارِ جہل باش | پردہ پوشِ یک جہان عیب است ہندستانِ شب |
ترجمہ جہالت کی گرد کے وسیع آباد خطے میں گوشہ نشین ہو جا؛ رات کا ہندوستان ایک جہان بھر عیبوں کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ | |
بیدل از پیچ و خمِ زلفش رہایی مشکل است | بر کریمان سہل نبود رخصتِ مہمانِ شب |
ترجمہ بیدل! اس کی زلف کے پیچ و خم سے رہائی مشکل ہے؛ کریموں پر رات کے مہمان کو رخصت کرنا آسان نہیں ہوتا۔ | |
