تا چند حسرتِ چمن و سایہ ہای ابر | کو گریہ ای کہ خندہ کنم بر ہوای ابر |
ترجمہ چمن اور بادل کے سایوں کی حسرت کب تک؛ کہاں ہے وہ گریہ کہ میں بادل کی ہوا پر ہنسوں۔ | |
افراطِ عیشِ دہر ز کلفت گران ترست | دوشِ ہوا پر آبلہ شد از ردای ابر |
ترجمہ زمانے کے عیش کی زیادتی رنج سے بھی زیادہ بھاری ہے؛ بادل کی چادر سے ہوا کا کندھا چھالوں سے بھر گیا۔ | |
باید بہ روزِ عشرتِ مستان گریستن | مژگان اگر بہ نم نرسانند جای ابر |
ترجمہ مستوں کی عشرت کے دن رونا چاہیے، اگر پلکیں بادل کی جگہ نمی نہ پہنچائیں۔ | |
زاہد مباش منکرِ تردامنانِ عشق | رحمت بہانہ جوست در این لکہ ہای ابر |
ترجمہ اے زاہد، عشق کے تر دامنوں کا منکر نہ بن؛ بادل کے ان دھبوں میں رحمت بہانہ ڈھونڈتی ہے۔ | |
چندین ہزار تخمِ اجابت فراہم است | در سایۂ بلندیٔ دستِ دعای ابر |
ترجمہ بادل کے دعا کے لیے اٹھے ہوئے ہاتھ کی بلندی کے سائے میں قبولیت کے ہزاروں بیج جمع ہیں۔ | |
یارب در این چمن بہ چہ اقبال می رسد | چترِ بہار و سایۂ بالِ ہمای ابر |
ترجمہ یارب، اس چمن میں بہار کا چتر اور بادل کے ہما کے پر کا سایہ کس اقبال مند کو نصیب ہوتا ہے۔ | |
توفان بہ این شکوہ نبودہ ست موجزن | چشمی کہ پاک کرد بہ دامن ہوای ابر |
ترجمہ طوفان کبھی اس شان سے موجزن نہ ہوا تھا؛ یہ کس آنکھ کا کام ہے جس نے بادل کی ہوا کو دامن سے پونچھ ڈالا۔ | |
از اعتبار دست بشستن قیامت است | افتادہ است آب چو آتش قفای ابر |
ترجمہ اعتبار سے ہاتھ دھو لینا قیامت ہے؛ پانی آگ کی طرح بادل کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ | |
جیبِ جنون مباد ز خشکی بہ ہم درّد | زین چشمِ تر کہ دوختہ ام بر قبای ابر |
ترجمہ خدا نہ کرے کہ جنون کا گریبان خشکی سے پھٹ جائے؛ اسی لیے میں نے یہ بھیگی آنکھ بادل کی قبا پر سی رکھی ہے۔ | |
جایی کہ ظرفِ ہمتِ مستان طلب کنند | ماییم و کاسۂ می و دستِ گدای ابر |
ترجمہ جہاں مستوں کی ہمت کا ظرف مانگا جائے، وہاں ہم ہیں، شراب کا پیالہ ہے اور بادل کا گدا ہاتھ۔ | |
صبحِ بہار یادِ تو در خاطرم گذشت | چندان گریستم کہ تہی گشت جای ابر |
ترجمہ بہار کی صبح تیری یاد میرے دل سے گزری؛ میں اتنا رویا کہ بادل کی جگہ خالی ہو گئی۔ | |
عمری ست می کنم عرق و می چکم بہ خاک | بیدل سرشتہ اند گلم از حیای ابر |
ترجمہ مدت سے میں پسینے میں ڈوب کر خاک پر ٹپک رہا ہوں؛ بیدل، میری مٹی بادل کی حیا سے گوندھی گئی ہے۔ | |
