تا محرمِ طبیعتِ بلبل نمی شوی | رنگ آشنای خاصیتِ گل نمی شوی |
ترجمہ جب تک تو بلبل کی طبیعت کا محرم نہیں بنتا، پھول کی خاصیت کا رنگ آشنا نہیں ہو سکتا۔ | |
تا نیست وقفِ ہر سرِ مویت محرفی | جوہر شناسِ تیغِ تغافل نمی شوی |
ترجمہ جب تک تیرے ہر بال کی نوک کسی ترچھے وار کے لیے وقف نہ ہو، تو تغافل کی تلوار کا جوہر شناس نہیں بن سکتا۔ | |
پست است نردبانِ عروجِ تعینت | تا سرنگونِ فہمِ تنزل نمی شوی |
ترجمہ تیرے تعین کی بلندی کی سیڑھی پست ہے، جب تک تو تنزل کو سمجھ کر سرنگوں نہیں ہوتا۔ | |
زین کشمکش کہ خاصیتِ فہمِ نارساست | آسودہ جز بہ کسبِ تجاہل نمی شوی |
ترجمہ اس کشمکش سے، جو نارسا فہم کی خاصیت ہے، تو تجاہل اختیار کیے بغیر آسودہ نہیں ہو سکتا۔ | |
ہر غنچہ ای تأملی ای دودِ پرفشان | آخر درین چمن رگِ سنبل نمی شوی |
ترجمہ اے پر پھیلاتے دھوئیں، ہر غنچہ ایک تامل ہے؛ آخر تو اس چمن میں سنبل کی رگ کیوں نہیں بن جاتا۔ | |
دوشِ حباب و بارِ نفس یک نفس بس است | زین بیشتر حریفِ تحمل نمی شوی |
ترجمہ حباب کے کندھے اور سانس کے بوجھ کے لیے ایک سانس ہی کافی ہے؛ اس سے زیادہ تو برداشت کا حریف نہیں بن سکتا۔ | |
تا از کفت عنان نبرد ترکِ اختیار | موصولِ بارگاہِ توکل نمی شوی |
ترجمہ جب تک ترکِ اختیار تیرے ہاتھ سے باگ نہ چھین لے، تو توکل کی بارگاہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ | |
بر طاق نہ، ترددِ مینای قسمتت | صد بار اگر گداز خوری مل نمی شوی |
ترجمہ اپنی قسمت کی صراحی کی فکر طاق پر رکھ دے؛ سو بار بھی پگھلے تو شراب نہیں بن سکتا۔ | |
تا نیستی بہ صیقلِ اجزا نمی رسد | آیینہ دارِ انجمنِ کل نمی شوی |
ترجمہ جب تک نیستی اجزا کی صیقل تک نہیں پہنچتی، تو کُل کی انجمن کا آئینہ دار نہیں بن سکتا۔ | |
از سجدۂ فناست بقای حقیقتت | زین وضع گر چراغ شوی گل نمی شوی |
ترجمہ تیری حقیقت کی بقا فنا کے سجدے سے ہے؛ اس انداز سے اگر تو چراغ بنے تو کبھی گُل نہ ہوگا۔ | |
با پیکرِ خمیدہ مخواہ امتدادِ عمر | کم نیست گر بہ گردنِ خود غل نمی شوی |
ترجمہ جھکے ہوئے بدن کے ساتھ عمر کی درازی نہ مانگ؛ یہی کیا کم ہے کہ تو اپنی گردن کا طوق نہیں بنتا۔ | |
آخر از این محیطِ خیالت گذشتن است | بیدل چرا چو موجِ گہر پل نمی شوی |
ترجمہ آخر تجھے خیال کے اس سمندر سے گزرنا ہے؛ بیدل، تو موتی کی موج کی طرح پل کیوں نہیں بن جاتا۔ | |
