اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

تا محرم طبیعت بلبل نمی شوی

تا محرمِ طبیعتِ بلبل نمی شوی

رنگ آشنای خاصیتِ گل نمی شوی

ترجمہ جب تک تو بلبل کی طبیعت کا محرم نہیں بنتا، پھول کی خاصیت کا رنگ آشنا نہیں ہو سکتا۔

تا نیست وقفِ ہر سرِ مویت محرفی

جوہر شناسِ تیغِ تغافل نمی شوی

ترجمہ جب تک تیرے ہر بال کی نوک کسی ترچھے وار کے لیے وقف نہ ہو، تو تغافل کی تلوار کا جوہر شناس نہیں بن سکتا۔

پست است نردبانِ عروجِ تعینت

تا سرنگونِ فہمِ تنزل نمی شوی

ترجمہ تیرے تعین کی بلندی کی سیڑھی پست ہے، جب تک تو تنزل کو سمجھ کر سرنگوں نہیں ہوتا۔

زین کشمکش کہ خاصیتِ فہمِ نارساست

آسودہ جز بہ کسبِ تجاہل نمی شوی

ترجمہ اس کشمکش سے، جو نارسا فہم کی خاصیت ہے، تو تجاہل اختیار کیے بغیر آسودہ نہیں ہو سکتا۔

ہر غنچہ ای تأملی ای دودِ پرفشان

آخر درین چمن رگِ سنبل نمی شوی

ترجمہ اے پر پھیلاتے دھوئیں، ہر غنچہ ایک تامل ہے؛ آخر تو اس چمن میں سنبل کی رگ کیوں نہیں بن جاتا۔

دوشِ حباب و بارِ نفس یک نفس بس است

زین بیشتر حریفِ تحمل نمی شوی

ترجمہ حباب کے کندھے اور سانس کے بوجھ کے لیے ایک سانس ہی کافی ہے؛ اس سے زیادہ تو برداشت کا حریف نہیں بن سکتا۔

تا از کفت عنان نبرد ترکِ اختیار

موصولِ بارگاہِ توکل نمی شوی

ترجمہ جب تک ترکِ اختیار تیرے ہاتھ سے باگ نہ چھین لے، تو توکل کی بارگاہ تک نہیں پہنچ سکتا۔

بر طاق نہ، ترددِ مینای قسمتت

صد بار اگر گداز خوری مل نمی شوی

ترجمہ اپنی قسمت کی صراحی کی فکر طاق پر رکھ دے؛ سو بار بھی پگھلے تو شراب نہیں بن سکتا۔

تا نیستی بہ صیقلِ اجزا نمی رسد

آیینہ دارِ انجمنِ کل نمی شوی

ترجمہ جب تک نیستی اجزا کی صیقل تک نہیں پہنچتی، تو کُل کی انجمن کا آئینہ دار نہیں بن سکتا۔

از سجدۂ فناست بقای حقیقتت

زین وضع گر چراغ شوی گل نمی شوی

ترجمہ تیری حقیقت کی بقا فنا کے سجدے سے ہے؛ اس انداز سے اگر تو چراغ بنے تو کبھی گُل نہ ہوگا۔

با پیکرِ خمیدہ مخواہ امتدادِ عمر

کم نیست گر بہ گردنِ خود غل نمی شوی

ترجمہ جھکے ہوئے بدن کے ساتھ عمر کی درازی نہ مانگ؛ یہی کیا کم ہے کہ تو اپنی گردن کا طوق نہیں بنتا۔

آخر از این محیطِ خیالت گذشتن است

بیدل چرا چو موجِ گہر پل نمی شوی

ترجمہ آخر تجھے خیال کے اس سمندر سے گزرنا ہے؛ بیدل، تو موتی کی موج کی طرح پل کیوں نہیں بن جاتا۔