تا ز پیدایی بہ گوشم خواند افسونِ احتیاج | روزِ اول چون دلم خواباند در خون احتیاج |
ترجمہ جب سے احتیاج نے ظہور کے سبب میرے کان میں اپنا افسوں پڑھا، پہلے ہی دن احتیاج نے میرے دل کو خون میں سلا دیا۔ | |
نغمۂ قانونِ این محفل صلای جودِ کیست | عالمی را از عدم آورد بیرون احتیاج |
ترجمہ اس محفل کے ساز کا نغمہ کس کی سخاوت کی صدا ہے، ایک عالم کو احتیاج ہی عدم سے باہر لائی۔ | |
حسن و عشقی نیست جز اقبال و ادبارِ ظہور | لیلیٔ این بزم استغناست مجنون احتیاج |
ترجمہ حسن و عشق ظہور کے اقبال و ادبار کے سوا کچھ نہیں، اس بزم کی لیلیٰ بے نیازی ہے اور مجنوں احتیاج۔ | |
تا نشد خاکستر از آتش سیاہی گم نشد | تیرہ بختیہا مرا ہم کرد صابون احتیاج |
ترجمہ جب تک آگ سے راکھ نہ ہوا سیاہی نہ مٹی، میری تیرہ بختیوں کے لیے بھی احتیاج ہی صابن بن گئی۔ | |
صیدِ نیرنگِ توہم را چہ ہستی کو عدم | پیش ازین خونم غنا می خورد اکنون احتیاج |
ترجمہ وہم کی نیرنگی کے شکار کے لیے کیا ہستی اور کہاں عدم، پہلے میرا خون بے نیازی پیتی تھی اور اب احتیاج۔ | |
در خورِ جا ہست ابرامِ فضولیہای طبع | سیم و زر چون بیش شد می گردد افزون احتیاج |
ترجمہ طبیعت کی فضولیوں کا اصرار جگہ کے مطابق ہوتا ہے، جب سیم و زر زیادہ ہو جائے تو احتیاج بھی بڑھ جاتی ہے۔ | |
با لئیمان گر چنین حرصِ گدا طبعت خوش است | بایدت زیرِ زمین بردن بہ قارون احتیاج |
ترجمہ اگر کمینوں کے ساتھ تیری گداگر طبیعت کی حرص یوں ہی خوش ہے تو تجھے اپنی احتیاج زمین کے نیچے قارون تک لے جانی ہوگی۔ | |
گر لب از اظہار بندی اشک مژگان می درد | تا کجا باید نہفت این نالہ مضمون احتیاج |
ترجمہ اگر تو اظہار سے لب بند کر لے تو آنسو پلکوں کو چیر دیتا ہے، نالے کے مضمون والی اس احتیاج کو کہاں تک چھپایا جائے۔ | |
صبحِ این ویرانہ با آن بی تعلق زیستن | می برد از یک نفس ہستی بہ گردون احتیاج |
ترجمہ اس ویرانے کی صبح، اپنی اس بے تعلق زندگی کے باوجود، احتیاج ہی کے سبب ایک سانس سے ہستی کو آسمان تک لے جاتی ہے۔ | |
عرضِ مطلب نرمیٔ گفتار انشا می کند | حرفِ ناموزونِ ما را کرد موزون احتیاج |
ترجمہ مطلب کی عرض گفتار میں نرمی پیدا کرتی ہے، ہمارے ناموزوں حرف کو احتیاج نے موزوں کر دیا۔ | |
ہمچو اہلِ قبر بیدل بی نفس باشی خوش است | تا نبندد رشتہ ات بر سازِ گردون احتیاج |
ترجمہ بیدل، اہلِ قبر کی طرح بے سانس رہے تو اچھا ہے، تاکہ احتیاج تیرا تار آسمان کے ساز سے نہ باندھے۔ | |
