(تہذیب الاخلاق بابت 15 - محرم 1288ھ)
ہم خیال کرتے ہیں کہ اس زمانہ میں جو مسلمان بعض مسائلِ مذہبی کی تدقیقات کو دیکھ کر متعجب ہوتے ہیں اور اس تدقیق کو خلافِ جمہور اور خرقِ اجماع سمجھتے ہیں، غالباً اس کا سبب یہ ہے کہ وہ علومِ دین کے طبقات سے واقف نہیں، اس لئے مناسب ہے کہ کچھ اُن کا ذکر کیا جائے۔
شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں طبقاتِ علوم الدین کی تفصیل اس طرح پر بیان کی ہے:-
طبقۂ اول۔ حدیثوں کے پہچاننے کا علم کہ کون سی صحیح ہے اور کون سی ضعیف؟ اور کون سی معتبر ہے اور کون سی نامعتبر؟ چنانچہ اس کام کو علمائے محدثین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے اختیار کیا اور حدیث کی کتابیں اُس میں تالیف کیں۔
طبقۂ دوم۔ کلامِ الٰہی اور اُن حدیثوں کے معنی بیان کرنے کا علم کہ مطابق محاورہ استعمال زبانِ عرب کے اس کے کیا معنی ہیں؟ چنانچہ اس کام کو علمائے علمِ ادب نے اختیار کیا۔
طبقۂ سوم۔ کلامِ الٰہی اور حدیثوں کے معنوں کو بطور اصطلاحاتِ شرعیہ قرار دینے اور اُن سے احکامِ شرعیہ کے نکالنے اور ایک حکم سے دوسرے پر قیاس کرنے اور اشارات و کنایاتِ عبارت سے حکم نکالنے اور ناسخ منسوخ قرار دینے اور راجح مرجوح ٹھہرانے کا علم۔ چنانچہ اس کام کو فقہاء نے اختیار کیا۔
طبقۂ چہارم۔ مذہبِ اسلام کے اسرار جاننے کا علم اور یہ وہ علم ہے جس میں مذہبِ اسلام میں جو کچھ ہے اُس کی حقیقت اور اصلیت اور جو حکمت کہ شارع نے اس میں رکھی ہے وہ بیان کی جاتی ہے۔
شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ یہی علم ہے جس سے آدمی پکا مسلمان ہوتا ہے اور اُس کا ایمان مثل ایسے شخص کے کامل یقین کے پختہ ہو جاتا ہے جس کو کسی نہایت سچے شخص نے یہ بات کہی ہو کہ سنکھیا زہرِ قاتل ہے، اُس کے کھانے سے آدمی مر جاتا ہے اور اس شخص نے بسبب اُس قائل کی سچائی اور معتبری کے اُس کی تصدیق کی اور پھر قواعدِ علمِ حکمت سے یہ بات بھی جانی کہ زہر میں حرارت اور یبوست بے انتہا ہے اور وہ دونوں خاصیتیں انسان کے مزاج کے برخلاف ہیں اور اس لئے اُس کو مار ڈالتی ہیں اور اس بات کے جاننے سے اُس کا یقین اُس قائل پر اور اُس کی بات پر اور زیادہ پختہ ہو جاتا ہے۔ پس اسرارِ دین کے علم کا یہی نتیجہ ہے کہ وہ انسان کے ایمان کو ایسا پختہ کر دیتا ہے کہ کسی طرح ڈگمگا ہی نہیں سکتا۔
شاہ صاحب یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگرچہ عام عالموں نے فقہ کو لبِ لبابِ علومِ دین کا سمجھا ہے، مگر اُن کے نزدیک علمِ اسرارِ دین ہی سب کا سرتاج ہے۔ پھر وہ قسمیہ بیان کرتے ہیں کہ یہی علم اس لائق ہے کہ بعد ادائے فرائض کے آدمی اسی علم میں اپنے تمام اوقاتِ عزیز صرف کرے اور ذخیرۂ آخرت لے جائے۔
شاہ صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ جبکہ اس قسم کے مطالب پر لوگ غور کرتے آئے ہیں اور مسائل اور مطالب نکالتے رہے ہیں تو اب علمِ اسرارِ دین پر گفتگو کرنا اور بحث کرنا خرقِ اجماع ہی نہیں رہا۔ میں کہتا ہوں کہ خرقِ اجماع کیسا، اب اس پر بحث کرنا فرضِ عین ہو گیا ہے۔
حال یہ ہے کہ جو حالات کہ انسان کی روح سے متعلق ہیں اور جو انکشافات کہ انسان کی روح پر ہوتے ہیں اور اعمالِ صالح اور غیر صالح سے جو کیفیت انسان کی روح میں پیدا ہوتی ہے اور جو حالات کہ اُس پر بعد موت کے طاری ہوتے ہیں جس کو معاد کہتے ہیں، وہ بدون تمثیل کے انسان کے خیال میں نہیں آ سکتے، کیوں کہ جو چیز کہ ہماری آنکھ سے دکھائی نہیں دیتی، نہ ہم اُس کو چھو سکتے ہیں تو اُس کا خیال ہمارے دل میں بجز ایسی چیزوں کی تمثیل کے جن کو ہم جانتے ہیں اور دیکھتے ہیں اور کسی طرح پر نہیں آ سکتا۔ مثلاً اگر عذابِ قبر میں گنہگاروں کی نسبت سانپوں کا چمٹنا اور کاٹنا بیان کیا جائے تو اُس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ در حقیقت سچ مچ کے یہ سانپ جن کو ہم دنیا میں دیکھتے ہیں مردے کو چمٹ جاتے ہیں، بلکہ جو کیفیت کہ گناہوں سے روح کو حاصل ہوتی ہے اُس کا حال انسانوں میں اس رنج و تکلیف و مایوسی کی مثال سے پیدا کیا جا سکتا ہے جو دنیا میں سانپوں کے کاٹنے سے انسان کو ہوتی ہے۔ عام لوگ اور کٹ مُلّا اُس کو واقعی سانپ سمجھتے ہیں اور عارف باللہ اُس کی حقیقت اور اصلیت پر پے لے جاتے ہیں اور اسی اصلیت کے جاننے اور بیان کرنے کو علمِ اسرارِ دین کہتے ہیں اور یہ وہی علم ہے جس سے انسان کا ایمان تصدیق کے درجہ سے بھی بڑھ کر علم الیقین اور حق الیقین، بلکہ عین الیقین کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے۔
اگلے زمانہ میں علماء کی رائے تھی کہ علمِ اسرار الدین کو عام لوگوں میں پھیلانے سے جو اُن کی سمجھ سے باہر ہے، کچھ فائدہ نہیں، بلکہ اُن کی تصدیق کو تشکیک میں ڈالنا ہے، مگر اب وہ زمانہ نہیں رہا۔ حال کے زمانہ میں ہر چہار طرف علوم کی ترقی بہت زیادہ ہو گئی اور اُس کی شعاعیں تمام دنیا میں پھیل گئیں اور پھیلتی جاتی ہیں اور پھیلتی جائیں گی۔ بعض ملکوں میں تو عام و عوام اور خاص و خواص سب کے خیالات کو وسعت ہو گئی اور بعض ملکوں میں شاید ابھی عوام کے خیالات کو وسعت نہ ہوئی ہو الا عام کے خیالات کو تو ضرور وسعت ہو گئی ہے اور اس لئے اب دین کی تمثیلی باتوں کا بیان کرنا کافی نہیں رہا بلکہ اسرارِ دین کے علانیہ بیان کرنے کا وقت ہے اور جو بات کہ اگلے زمانہ میں کسی عالم کے دو چار شاگردِ رشید جانتے تھے اُس کو عموماً ہر ایک کو بتلانا چاہئے، تاکہ حقائقِ مسائل اور اسرارِ دین سے لوگ واقف ہو کر اپنے مذہب کی سچائی پر مطمئن ہوں اور کٹ ملاؤں کے اس فتویٰ کفر سے کہ عذابِ قبر سے انکار کیا اور معراج سے منکر ہوئے اور شیطان کے وجود کو حیزِ جداگانہ میں نہ ماننے سے نصِ قرآنی کا انکار کیا کچھ ڈرنا نہیں چاہئے۔ اگلے لوگوں نے جن میں سب کے سرتاج امام حجۃ الاسلام غزالیؒ ہیں اور سب کے آخر شاہ ولی اللہ صاحبؒ ہیں اُن کی نسبت بھی ان کٹ ملاؤں نے اسرارِ دین کے بیان کرنے کے سبب سے بہت سے کفر کے فتوے دئے ہیں۔ اُن فتووں سے اُن کا تو کچھ نہیں بگڑا، مگر ان کٹ ملاؤں کی ہنڈیا میں جو تھا وہی اُن کے چمچوں میں نکل آیا۔
اس علم، یعنی علمِ اسرارِ دین میں احیاء العلوم امام حجۃ الاسلام غزالیؒ کی اور حجۃ اللہ البالغۃ شاہ ولی اللہ صاحبؒ کی نہایت عمدہ کتابیں ہیں، مگر زمانۂ حال کے مطابق اُن کو بھی کامل نہ سمجھنا چاہئے، اس لئے کہ اس زمانہ میں بہت سی چیزیں اب معلوم یا مروج ہوئی ہیں جو اُس زمانہ میں نہ تھیں اور یہ کہ طرزِ تحریر و طریقِ تقریر اور مناطِ استدلال اور طریقۂ ایراد اس زمانہ میں نئے طور پر شروع ہوا ہے جو اُن زمانوں میں نہ تھا اور یہ کہ حال کے زمانہ کے لوگوں کے خیالات کو بہ نسبت اُس زمانہ کے بہت زیادہ وسعت ہو گئی ہے اور یہ کہ اُن کتابوں میں بہت باتیں بر بنیاد اموراتِ مسلمہ مذہبی بیان کی گئیں ہیں جو صرف معتقدینِ اسلام کے لئے بلاشبہ مفید ہیں، مگر بلحاظِ شان و قدر و منزلت اُس علم کے اُس کے بیان کا ایسا عام ہونا چاہئے جو معتقدین اور غیر معتقدین سب کے لئے مفید اور برابر موثر ہو۔
پس وہ مطالب اس لائق ہیں کہ اُن کو حال کے پیرایۂ تقریر کے موافق از سر نو بیان کیا جائے، مگر یہ کام اُسی سے ہو سکتا ہے جس پر خدا کی مہربانی ہوئی ہو اور اُس کے دل کو نورِ ایمان سے منور کیا ہو اور کچھ حصہ علمِ لدنی سے عطا فرمایا ہو، و ان من اعظم نعم اللہ علی ان اتانی منہ حظاً و جعل لی منہ نصیباً وما انفک اعترف بتقصیری و ابرء وما ابرء نفسی ان النفس لا مارۃ بالسوء۔1
اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 36 تا 40 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔

