تحقیق را بہ ما و من افتادہ اختلاف | در ہیچ حال با نفس آیینہ نیست صاف |
ترجمہ تحقیق میں ’’ہم‘‘ اور ’’میں‘‘ کے سبب اختلاف پڑ گیا ہے؛ سانس کے ہوتے آئینہ کسی حال میں صاف نہیں رہتا۔ | |
ہم صحبتان بہ بازیٔ شطرنج سرخوشند | تا نگذرد مزاجِ نفاق از سرِ مصاف |
ترجمہ ہم نشین شطرنج کی بازی میں مگن ہیں، تاکہ نفاق کا مزاج جنگ کے ارادے سے باز نہ آئے۔ | |
یاران اگر لبی بہ تامل رساندہ اند | خمیازہ خوردہ است گرہ در کمینِ لاف |
ترجمہ یار اگر ذرا تامل تک لب لائے ہیں تو سمجھو کہ لاف کی گھات میں گرہ نے جمائی لی ہے۔ | |
لطفِ معانی از لبِ ہذیان نوا مخواہ | چون پاسِ آبرو ز دمِ تیغِ بی غلاف |
ترجمہ ہذیان بکنے والے لب سے معانی کا لطف نہ چاہ، جیسے بے نیام تلوار کی دھار سے آبرو کا پاس نہیں چاہا جاتا۔ | |
پیوندہا بہ روی گسستن گشودہ اند | گو وہم تار و پودِ خیالات ننگ باف |
ترجمہ رشتے ٹوٹنے ہی کے رخ پر کھولے گئے ہیں؛ کہہ دو کہ وہم خیالات کے تانے بانے سے ننگ بُنے۔ | |
چون مو سپید شد سرِ دعوا بہ خاک دزد | این برف پنبہ ای ست اشارتگرِ لحاف |
ترجمہ جب بال سفید ہو گئے تو دعوے کا سر خاک میں چھپا لے؛ یہ برف وہ روئی ہے جو لحاف کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ | |
دیدی ہزار رنگ و نشد رمزی آشکار | ای صاحبِ دماغ نہ ای شخصِ موشکاف |
ترجمہ تو نے ہزار رنگ دیکھے اور کوئی رمز آشکار نہ ہوا؛ اے صاحبِ دماغ! تو موشگاف آدمی نہیں ہے۔ | |
آخر ہمہ بہ نشئۂ تحقیق می رسیم | پیداست تا دماغ پس و پیش و درد و صاف |
ترجمہ آخرکار ہم سب تحقیق کے نشے تک پہنچتے ہیں؛ جب تک دماغ ہے، آگے پیچھے اور تلچھٹ و صاف کا فرق ظاہر ہے۔ | |
بی یار زیستن ز تو بیدل قیامت است | جرمی نکردہ ای کہ توان کردنت معاف |
ترجمہ بیدل! یار کے بغیر تیرا جینا قیامت ہے؛ تو نے ایسا جرم نہیں کیا جسے معاف کیا جا سکے۔ | |
