اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

طریقۂ تناولِ طعام

(تہذیب الاخلاق بابت 20۔ محرم 1289ھ‌30 مارچ 1872ء)

ضد اور نفسانیت انسان کے بہت بڑے دشمن ہیں۔ کسی اچھی بات کو ضد سے نہ ماننا اور اُس کی نیک و بد پر غور نہ کرنا درحقیقت انسان کا کام نہیں ہے۔

اس وقت ہم کو نہ انگریزوں کی طرح چھری کانٹے سے میز کرسی لگا کر کھانے پر بحث ہے اور نہ ہم کو ترکوں کی تقلید کی ہوس ہے، بلکہ ہم کو نہایت سیدھی طرح سے کھانے کے طریق پر غور کرنی ہے اور بلاتبدیلِ وضع جس قدر کہ اُس کے نقصان رفع ہو سکتے ہیں اسی پر بحث کرنے سے غرض ہے۔

ہندو چوکے میں چھوٹی چھوٹی پیالیوں یا تشتریوں یا پتلوں میں تھوڑا تھوڑا سب قسم کا کھانا چُن کر آگے رکھ لیتے ہیں اور ہر ایک میں سے کچھ کچھ کھاتے جاتے ہیں اور جو بچتا ہے وہ اسی برتن میں دھرا رہتا ہے جس میں انہوں نے کھایا تھا اور اس سبب سے کھانے کے وقت ان کے سامنے جھوٹے برتن اور نیم خوردہ کھانا سب دھرا رہتا ہے اور کھا چکنے کے بعد وہ سب اٹھ جاتا ہے۔

ہندوستان میں مسلمانوں کے کھانا کھانے کا بھی یہی طریق ہے جو ہندوؤں کا ہے، صرف اتنا فرق ہے کہ ہندو چوکے میں بیٹھتے ہیں، مسلمان دسترخوان بچھا کر بیٹھتے ہیں۔ جس طرح ہندو سب طرح کا کھانا ایک ساتھ اپنے آگے رکھ لیتے ہیں اسی طرح مسلمان بھی قابوں اور رکابیوں اور غوریوں اور تشتریوں اور پیالوں میں سب طرح کا کھانا اور سب قسم کی روٹی اور ہر طرح کے کباب اور فیرنی کے خوانچے اور بورانی1 کے پیالے اور اچار مربے کی پیالیاں سیتلا کے پوجاپے2 کی طرح سب اپنے آگے رکھ لیتے ہیں اور اس ایک دسترخوان پر کوئی تو فیرینی کلمۂ شہادت کی اُنگلی سے اور کوئی دست بخیر چاروں اُنگلیوں سے چاٹ رہا ہے، کوئی پلاؤ میں اروی کا سالن ملا ملا کر کھا رہا ہے، کسی نے سالن ملا ہوا پلاؤ کھا کر نان ابی3 سے لتھڑا ہوا پنجۂ مبارک پونچھ کر روٹی کو سالن میں ڈبو ڈبو کر کھانا شروع کیا ہے۔ کسی نے بورانی کے پیالے کو منہ سے لگا کر سڑپا بھر یہ کہہ کر واللہ بڑی تیز ہے آوہ آوہ کرنا شروع کیا ہے۔ تمام جھوٹے برتن اور نیم خوردہ کھانا اور چچوڑی ہوئی ہڈیاں اور روٹی کے ٹکڑے اور سالن میں کی نکالی ہوئی مکھیاں4 سب آگے رکھی ہوئی ہیں۔ اس عرصے میں جو شخص پہلے کھا چکا ہے اس نے ہاتھ دھونا، کھنکار کھنکار کر گلا صاف کرنا اور بیسن سے دانت رگڑنے اور زبان پر دو اُنگلیاں رگڑ رگڑ کر زبان صاف کرنا شروع کیا ہے اور اور بے تکلف بیٹھے کھانا نوش فرماتے ہیں۔ نہ ان ہاتھ منہ دھونے والوں کو خیال ہے کہ ہم کھانا کھانے والوں کے قریب کیسی حرکات ناشائستہ کرتے ہیں اور نہ کھانا کھانے والوں کو ان لوگوں کی کریہ آواز سننے اور زرد زرد ہلدی کے ملے ہوئے رنگ کا لعاب نکلنے اور بلغم کے لوتھڑے تھوہ کر کر چلمچی یا تاش میں تھوک دینے اور بتاشے کی طرح اس کے پانی پر تیرتے پھرنے کی پروا ہے۔ نعوذ باللہ منہا‌ہم اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

انگریز جس طرح کھانا کھاتے ہیں وہ سب پر روشن ہے اور اس کا بیان بھی کچھ ضرور نہیں ہے، کیونکہ ہمارے نیک متبعِ سنت ہموطن اس پر تو حدیث ’من تشبہ بقوم فہو منہم‌جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ اُنہی میں سے ہے‘ کا چھرا ماریں گے۔

عرب میں کھانا کھلانے کا یہ دستور ہے کہ ایک چوکی پر چھوٹا سا دسترخوان بچھایا جاتا ہے اور ایک برتن میں ایک قسم کا کھانا آتا ہے اور جو لوگ چوکی کے گرد بیٹھتے ہیں وہ سب اس میں کھانا شروع کرتے ہیں۔ چند لقمے کھانے پر وہ برتن اٹھ جاتا ہے اور دوسری قسم کا کھانا دوسرے برتن میں آتا ہے اور چند لقمے کے بعد وہ بھی اٹھ جاتا ہے اور اسی طرح آتا جاتا رہتا ہے۔ اس طرح پر کھانے میں یہ فائدہ ہے کہ جھوٹے برتن اور جھوٹا کھانا سامنے نہیں رہتا۔

مگر جو غچلی5 پن ہندوستان کے مسلمانوں میں کھانے کی مجلس میں ہوتا ہے نعوذ باللہ منہا‌ہم اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، کسی ملک کے کھانے کی مجلس میں نہیں ہوتا۔ پس نہایت شرم اور افسوس کی بات ہے کہ ہم اپنی ضد و نفسانیت سے اس غچلی پن میں پڑے رہیں اور اس کی درستی و تہذیب پر متوجہ نہ ہوں۔

ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ خواہ نخواہ میز کرسی پر بیٹھ کر چھری کانٹے سے کھانا کھاؤ یا عرب کی طرح چھوٹی چوکی پر ایک خوان بچھاؤ، بلکہ شوق سے بسم اللہ کر کے دسترخوان پر کھانا تناول فرماؤ اور گو بہت سی سننِ ہدی کے ادا کی فکر نہ ہو زمین پر بیٹھ کر کھانا کھانے ہی کی سنتِ عادی کی پیروی کرو، مگر برائے خدا یہ غچلی پن چھوڑو اور سب طرح وضع پر کھانا کھانے میں جہاں تک اصلاح و صفائی ہو سکے اس کو اختیار کرو۔ صفائی و پاکیزگی اختیار کرنا تو شریعت میں ممنوع نہیں ہے۔

مگر یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جب تک کسی کام کے لیے کوئی قاعدہ اور طریقہ مقرر نہیں ہوتا اور بخوبی اس کی پابندی نہیں کی جاتی اس وقت تک وہ چلتا نہیں اور جب وہ قاعدہ عمدہ ہوتا ہے تو رفتہ رفتہ از خود اس کا رواج ہو جاتا ہے اور سب لوگ اس کو کرنے لگتے ہیں اور چند عرصہ بعد اسی کی ایسی عادت ہو جاتی ہے کہ طبیعتِ ثانی گنی جاتی ہے۔

پس ہمارا مقصد یہ ہے کہ طریقۂ تناولِ طعام کے کچھ قواعد سوچے جائیں اور یہی طریقہ جو دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھانے کا ہے اسی میں ایسی اصلاح کی جائے جس کو لوگ موردِ طعن من تشبہ بقوم‌جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے بھی نہ کریں اور اس غچل پنے سے بھی نجات پائیں۔ چنانچہ ہم نے اس باب میں کچھ قواعد تجویز کیے ہیں اور ہم ان کو آیندہ کسی پرچے میں لکھیں گے۔

اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ پنجم (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 263 تا 266 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔