تحقیقِ معنی من تشبہ بقوم فہو منہم1
(تہذیب الاخلاق جلدِ ششم بابت یکم شعبان 1292ھ صفحہ 130)
امیر الامراء افتخار العلماء سید خیر الدین احمد وزیرِ سلطنتِ ٹیونس نے جو نہایت عمدہ کتاب اقوام المسالک عربی زبان میں لکھی ہے جس پر وہاں کے بڑے بڑے علما کی تقریظیں چھپی ہیں اور اس کا ترجمہ حال میں جناب خلیفہ سید محمد حسن خاں بہادر وزیرِ ریاستِ پٹیالہ کی عالی ہمتی اور فیاضی کی وجہ سے اردو میں مسمی بہ نظم المسالک چھپا ہے، اس میں ہم ایک مختصر تقریر سید خیر الدین احمد مصنفِ اصل کتاب کی جو تشابہ کے باب میں انہوں نے لکھی ہے، نقل کرتے ہیں اور وہ یہ ہے:-
دوسری بات جو اس تالیف کا باعث ہے ان غافل لوگوں کا ہوشیار کرنا اور متنبہ کرنا ہے جو ایک اچھی بات کو صرف اس خیال سے اختیار نہیں کرتے کہ وہ ظاہر ان کی شریعت میں نہیں ہے اور اس غلط خیال کا منشاء یہ ہے کہ وہ دوسرے مذہب کے لوگوں کی جملہ باتوں کو اسی قابل سمجھتے ہیں کہ ان کو ترک کیا جائے، خواہ وہ باتیں کسی قوم کی عادات میں سے ہوں، خواہ تدابیرِ ملکیہ سے متعلق ہوں، یہاں تک کہ وہ غافل لوگ غیر مذہب والے کی تالیفات کو بھی پڑھنا برا سمجھتے ہیں اور اگر کوئی شخص ان کے سامنے غیر مذہب کی تالیفات یا عمدہ باتوں کی تعریف کرے تو وہ اس شخص کو برا بھلا کہنے پر مستعد ہو جاتے ہیں، حالانکہ یہ بات بالکل حماقت کی ہے، اور سراسر خطا ہے، اس لئے کہ جو کام فی نفسہ اچھا ہو اور ہماری عقل بھی اُس کو تسلیم کرے خصوصاً وہ کام جس کو کبھی ہم لوگ ہی کیا کرتے تھے اور غیروں نے اس کو ہم سے ہی اوڑا لیا ہے تو ایسے کام سے انکار کرنے یا اس کے چھوڑ دینے کی وجہ کوئی نہیں ہے بلکہ جب وہ کسی زمانہ میں ہماری ہی قوم کی عمل در آمد میں تھا تو ہم کو ایسے کام کے پھر حاصل کرنے میں نہایت شوق اور تمنا ظاہر کرنی چاہئے اور گو یہ بات مسلم ہے کہ ہر اہلِ مذہب اپنے مذہب کے سامنے دوسرے کے مذہب کو ضلالت خیال کرتا ہے، لیکن اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ غیر مذہب والے کی دنیوی باتیں بھی بری ہو جائیں یا جو کام کہ مصلحتِ ملکی کے لحاظ سے اس نے کیا ہے وہ بھی ضلالت ہو جائے اور ہم کو ان کاموں میں غیر مذہب والی قوم کا اتباع ممنوع ہو۔ دیکھو فرنگیوں کا ہمیشہ سے یہ دستور ہے کہ جب وہ کسی قوم کا کوئی کام اچھا دیکھتے ہیں، فوراً اس کے کرنے پر مستعد ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی ایسی ہی باتوں کے سبب سے آج اپنی ترقی اور بلندی کے اس رتبہ پر ہیں جس کو سب لوگ آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور حقیقت میں ایک پرکھیے دانش مند کا کام بھی یہی ہے کہ جو بات اس کے سامنے پیش آئے، خواہ وہ کسی کا قول ہو یا فعل ہو اس کو نظرِ امتیاز سے تاڑ کر جانچے اور اگر اس کو اچھا دیکھے تو فوراً اخذ کر لے اور دل سے اس کو بہتر سمجھے، گو اس کا موجد دین میں سچا ہو یا جھوٹا اس لئے کہ حق بات کچھ لوگوں سے نہیں پہچانی جاتی، بلکہ لوگ بات سے پہچانے جاتے ہیں اور حکمت مسلمانوں کے لئے بمنزلہ گم شدہ چیز کے ہے، جہاں کہیں اس کو پائے فوراً لے لے۔
ایک مرتبہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جناب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور مشورہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ اہلِ فارس محاربہ کے وقت اپنے شہروں کے گرد خندقیں کھود لیتے ہیں، تاکہ دشمن کے مقابلہ اور حملہ سے محفوظ رہیں۔ حضرت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رائے کو پسند فرما کر غزوۂ احزاب میں مدینہ کے گرد خندقیں کھودیں تاکہ مسلمان بھی اس تدبیر پر عمل کیا کریں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ قول کی خوبی کی طرف دیکھو، قائل کے حال کی طرف مت دیکھو اور جب کہ ہمارے متقدمین نے غیر ملت کے لوگوں سے علومِ منطق کو نفع کی چیز سمجھ کر اپنی زبان میں ترجمہ کر لیا اور اس کے رواج کو مستحسن جانا یہاں تک کہ امام غزالی علیہ الرحمہ نے لکھا ہے کہ جو شخص منطق نہ جانتا ہو گویا علم اس کا کچا ہے تو پھر ہم کو کس چیز نے منع کر دیا ہے کہ ہم اس زمانہ میں غیر ملت قوم کی جن باتوں کو اپنے حق میں نافع اور کارآمد دیکھیں ان کو نہ یاد کر لیں اور جن باتوں کی طرف ہم کو مکایدِ اعدا سے محفوظ رہنے اور صدہا منفعتوں کے حاصل کرنے میں نہایت حاجت ہو، ان کو اختیار نہ کریں۔ کتاب سنن المہتدین میں شیخ المراق المالکی نے صاف لکھا ہے کہ غیر قوم کے ساتھ جن باتوں میں مشابہت ممنوع ہے وہ صرف وہی باتیں ہیں جو ہماری شریعت کے خلاف ہیں اور جن باتوں کو غیر ملت کے لوگ موافق طریقۂ مندوبہ یا مباح یا واجب کے کرتے ہوں ان کو ہم صرف اس خیال سے نہیں چھوڑ سکتے کہ غیر ملت کے لوگوں کا بھی ان پر عمل درآمد ہے، اس واسطے کہ ہماری شریعت نے ہم کو غیر قوم کے ساتھ ان باتوں میں مشابہ ہونے سے منع نہیں کیا جن کو وہ قوم بھی کارخانۂ قدرت کی اجازت سے کرتی ہو اور حاشیۂ در مختار میں علامہ شیخ محمد بن عابد بن الحقی نے تو یہاں تک بہ تصریح لکھا ہے کہ جن باتوں میں مخلوقِ خدا کی بہتری اور ترقی ہو اگر ان کے کرنے میں ہم کسی غیر ملت قوم کے ساتھ مشابہ ہو جائیں تو کچھ خرابی نہیں ہے اور بڑے تعجب کی بات یہ ہے کہ جو لوگ فرنگیوں کی باتوں کے اتباع سے سخت انکار کرتے ہیں۔ وہ اپنی بھلائی کی باتوں میں تو ان کا انکار کرتے ہیں اور جو باتیں ان کے حق میں مضر ہیں ان میں ان کی مشابہت سے کچھ ان کو انکار نہیں ہے، کیوں کہ وہ لوگ صریح فرنگیوں کا بنا ہوا کپڑا پہن کر خوش ہوتے ہیں اور انہیں کا اسباب گھروں میں رکھتے ہیں اور انہیں کے ہتیار اور ضرورت کی چیزیں استعمال میں لاتے ہیں، مگر ان چیزوں کو ان کی تدبیروں سے کام میں لانے سے بڑا پرہیز کرتے ہیں، حالانکہ ان باتوں سے پرہیز کرنے میں ان کے ملکی انتظام اور ملکی ترقی دونوں میں بڑا نقصان اور خرابی پڑتی ہے اور وہ خرابی کچھ پوشیدہ نہیں، بلکہ ظاہر ہے اور گویا اس سبب سے ہی ان میں ایک عیب رہتا ہے، اس لئے کہ جب وہ اپنی ذاتی ضرورتوں کے سامان میں دوسری قوم کے محتاج ہیں تو گویا علم میں وہ اس قوم سے پست درجہ ہیں اور ان کی ملکی ترقی میں یہ نقصان رہتا ہے کہ وہ اپنے ملک کی پیداوار وغیرہ کے ثمرہ سے نفع نہیں اُٹھا سکتے، حالانکہ ترقیٔ ملک کی یہی علامت اور اس سے یہی مقصود ہے اور تصدیق اس کی ہمارے اس مشاہدے سے ہوتی ہے کہ ہماری قوم کے صناع لوگ اپنی صنعت اور دستکاری سے کچھ فائدہ حاصل نہیں کرتے۔ مثلاً جو لوگ روئی بوتے ہیں یا بکریوں کی اون تراش کر درست کرتے ہیں اور سال بھر اس پر جان مارتے ہیں، وہ اپنی سال بھر کی محنت کی پیداوار، یعنی روئی اور اون وغیرہ کو تھوڑی سی قیمت پر فرنگیوں کے ہاتھ بیچ ڈالتے ہیں اور جب اسی روئی اور اون سے وہ لوگ تھوڑے عرصے میں اپنی صناعی کی بدولت طرح طرح کے کپڑے بُن کر لاتے ہیں تو پھر وہی ہماری قوم کے لوگ جنہوں نے ان کو روئی دی تھی انہی کو چوگنی قیمت دے کر کپڑا خریدتے ہیں۔ غرض یہ کہ ہم کو اپنے ملک کی اصلی پیداوار کی قیمت مل جاتی ہے اور کسی قسم کی ہنر مندی یا صناعی سے ہم اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ پس جب ہم یہ بات دیکھیں کہ ہمارے ملک میں سے یہ چیز جاتی ہے اور یہ چیز آتی ہے اور اس بات کا اندازہ کریں کہ آنے والی چیز کا خرچ اور جانے والی چیز کی آمدنی مساوی ہے تو یہاں تک تو گویا خیریت ہے، تھوڑا ہی سا ضرر ہے اور جب ہم کو جانے والی چیز کی قیمت کم ملی اور آنے والی چیز کی قیمت چہار چند دینی پڑی تو یقین کر لو کہ ایسا ملک آج نہ تباہ ہوا کل تباہ ہوگا۔
اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 90 تا 94 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔

