اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

او سپہر و من کف خاک اوکجا و من کجا

او سپہر و من کفِ خاک او کجا و من کجا

داغم از سودای خام غفلت و وہمِ رسا

ترجمہ وہ آسمان ہے اور میں مٹھی بھر خاک؛ کہاں وہ اور کہاں میں! میں اپنے خام سودے، غفلت اور دور رس وہم سے داغ داغ ہوں۔

عجز را گر در جنابِ بی نیازیہا رہی ست

اینقدرہا بس کہ تا کویت رسد فریادِ ما

ترجمہ اگر بے نیازی کی بارگاہ میں عاجزی کی کوئی راہ ہے تو اتنا ہی کافی ہے کہ ہماری فریاد تیرے کوچے تک پہنچ جائے۔

نیست برقِ جانگدازی چون تغافلہای ناز

بیش از این آتش مزن در خانۂ آیینہ ہا

ترجمہ ناز کے تغافل جیسی جان گداز کوئی بجلی نہیں؛ اس سے زیادہ آئینوں کے گھر میں آگ نہ لگا۔

ہرکہ را الفت شہیدِ چشمِ مخمورت کند

نشئہ انگیزد ز خاکش گرد تا روزِ جزا

ترجمہ جسے محبت تیری مخمور آنکھ کا شہید بنا دے، اس کی خاک سے قیامت کے دن تک نشے کی گرد اٹھتی رہتی ہے۔

از نمودِ خاکسارِ عشق نتوان داد عرض

رنگِ تمثالی مگر آیینہ گردد توتیا

ترجمہ عشق کے خاکسار کی نمود کا بیان نہیں کیا جا سکتا، سوائے اس کے کہ آئینہ سرمہ بن کر کسی عکس کا رنگ دکھائے۔

نیست در بنیادِ آتش خانۂ نیرنگِ دہر

آنقدر خاکستر کایینہ ای گیرد جلا

ترجمہ زمانے کے نیرنگ کے آتش کدے کی بنیاد میں اتنی راکھ بھی نہیں کہ کوئی آئینہ اس سے جلا پا لے۔

زندگی محمل کشِ وہمِ دوعالم آرزوست

می تپد در ہر نفس صد کاروان بانگِ درا

ترجمہ زندگی دو عالم کی آرزو کے وہم کا محمل اٹھائے ہوئے ہے؛ ہر سانس میں سو کاروانوں کی گھنٹی کی آواز تڑپتی ہے۔

آرزو خون گشتۂ نیرنگِ وضعِ نازِ کیست

غمزہ دارد دور باش و جلوہ می گوید بیا

ترجمہ آرزو کس کے ناز کے انداز کی نیرنگی سے خون ہوئی ہے؟ غمزہ ’’دور ہٹو‘‘ کہتا ہے اور جلوہ کہتا ہے ’’آؤ‘‘۔

ہرچہ می بینم تپش آمادۂ صد جستجوست

زین بیابان نقشِ پا ہم نیست بی آوازِ پا

ترجمہ جو کچھ دیکھتا ہوں سو جستجوؤں کے لیے تڑپ پر آمادہ ہے؛ اس بیابان میں نقشِ قدم بھی قدموں کی آواز سے خالی نہیں۔

قامتِ او ہرکجا سرکوبِ رعنایان شود

سرو را خجلت مگر در سایہ اش دارد بہ پا

ترجمہ اس کا قامت جہاں کہیں حسینوں کو زیر کرے، وہاں سرو کو شاید شرمندگی ہی اپنے سائے میں کھڑا رکھتی ہے۔

ہرنفس صد رنگ می گیرد عنانِ جلوہ اش

تا کند شوخی عرق آیینہ می ریزد حیا

ترجمہ اس کے جلوے کی باگ ہر لمحہ سو رنگ پکڑتی ہے؛ جب وہ شوخی کرتا ہے تو حیا آئینے کی طرح پسینہ بہاتی ہے۔

بال و پر برہم زدن بیدل کفِ افسوس بود

خاکِ نومیدی بہ فرقِ سعی ہای نارسا

ترجمہ بیدل! بال و پر پھڑپھڑانا دراصل افسوس سے ہاتھ ملنا تھا؛ نارسا کوششوں کے سر پر ناامیدی کی خاک۔