جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

عمری خیال پخت سر گیر و دار مغز

عمری خیال پخت سر گیر و دار مغز

زین جوز پوچ ہیچ نشد آشکار مغز

ترجمہ ساری عمر مغز کی کشمکش میں خیالات پکاتا رہا، لیکن اس کھوکھلے اخروٹ (سر) سے کچھ بھی ظاہر نہ ہوا۔

در ستر حال کسوت فقری ضرورت است

پیدا کند ز پوست مگر پردہ دار مغز

ترجمہ حال چھپانے کے لیے فقر کا لباس ضروری ہے، جیسے چھلکا ہی مغز کا پردہ دار ہوتا ہے۔

زہر است الفت از نگہ چشم خشمناک

بادام تلخ را ندہد اعتبار مغز

ترجمہ غضبناک آنکھ کی نگاہ سے الفت زہر کی طرح ہے، (جیسے) مغز کڑوے بادام کو معتبر نہیں سمجھتا۔

مخموری می آفت نقدی ست ہوش دار

کز سرگرانیت نشود سنگسار مغز

ترجمہ شراب کا خمار ہوش و حواس کے لیے ایک نقد آفت ہے، ہوشیار رہ کہ تیری سرگرانی کی وجہ سے تیرا مغز سنگسار نہ ہو جائے۔

سرمایۂ طبیعت بی درد کینہ است

نتوان ز سنگ یافت بہ غیر از شرار مغز

ترجمہ بے درد طبیعت کا سرمایہ کینہ ہے، پتھر سے سوائے دماغ کی چنگاری (غصہ/جھگڑا) کے کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

سختی کشند چرب سرشتان روزگار

از زخم سنگ چارہ ندارد چہار مغز

ترجمہ زمانے کے امیر طبع لوگ سختیاں جھیلتے ہیں، (جیسے) اخروٹ پتھر کی چوٹ سے نہیں بچ سکتا۔

دون ہمتی کہ ساخت ز معنی بہ لفظ پوچ

چون سگ بر استخوان نکند اختیار مغز

ترجمہ وہ کم ہمت شخص جو معنی چھوڑ کر کھوکھلے لفظوں پر قناعت کر لے، کتے کی طرح ہڈی پر اکتفا کرتا ہے اور مغز کو اختیار نہیں کرتا۔

درخورد عرض جوہر ہر چیز موقعی است

در استخوان گو چہ فروشد عیار مغز

ترجمہ ہر چیز کے جوہر کو ظاہر کرنے کا ایک مناسب موقع ہوتا ہے، بھلا ہڈی کے اندر مغز کی کیا قدر و قیمت ہو سکتی ہے؟

اسرار در طبیعت کم ظرف آفت است

از استخوان بستہ برآرد دمار مغز

ترجمہ کم ظرف طبیعت میں راز رکھنا ایک آفت ہے، (جیسے) بند ہڈی مغز کا دمار نکال دیتی ہے۔

منعم ہمان ز پہلوی جاہ است تازہ رو

تا گوشت فربہ است بود شیرخوار مغز

ترجمہ دولت مند شخص جاہ و حشمت کے پہلو سے ہی تروتازہ رہتا ہے، جب تک گوشت موٹا تازہ ہے، مغز بھی اس سے پرورش پاتا رہتا ہے۔

از بس بہ ذوق آتش عشقت گداختیم

شد استخوان ما ہمہ تن شمع وار مغز

ترجمہ تیرے عشق کی آگ کے شوق میں ہم اس قدر پگھل گئے کہ ہماری ہڈی سر تا پا شمع کی طرح مغز (موم) بن گئی۔

در ہر سری کہ شور ہوای تو جا کند

مانند بوی غنچہ نگیرد قرار مغز

ترجمہ جس سر میں بھی تیری محبت کا سودا سما جائے، اس کا مغز غنچے کی خوشبو کی طرح قرار نہیں پاتا۔

بیدل ز بس ضعیف مزاجیم ہمچو نی

از استخوان ما نشود آشکار مغز

ترجمہ اے بیدل! ہم بانسری کی طرح اس قدر کمزور مزاج ہیں کہ ہماری ہڈی سے بھی مغز ظاہر نہیں ہوتا (جیسے بانسری اندر سے کھوکھلی ہوتی ہے)۔