عمری ست کہ در حسرتِ آن لعلِ گہر موج | دل می زندم بر مژہ از خونِ جگر موج |
ترجمہ ایک عمر سے اس موتی لٹاتے لعل کی حسرت میں میرا دل جگر کے خون سے میری پلکوں پر موج مارتا ہے۔ | |
گر شوخیٔ زلفت فکند سایہ بہ دریا | از آبِ روان دستہ کند سنبلِ تر موج |
ترجمہ اگر تیری زلف کی شوخی دریا پر سایہ ڈالے تو موج بہتے پانی سے تازہ سنبل کا گلدستہ باندھ دے۔ | |
در حسرتِ آن طرۂ شبگون عجبی نیست | کز چاکِ دلی شانہ زند فیضِ سحر موج |
ترجمہ اس شب رنگ طرے کی حسرت میں کوئی تعجب نہیں کہ صبح کا فیض کسی دل کے چاک سے کنگھی کی صورت موج مارے۔ | |
آنجا کہ کند جلوہ ات ایجادِ تحیر | در جوہرِ آیینہ زند سعیِ نظر موج |
ترجمہ جہاں تیرا جلوہ حیرت پیدا کرتا ہے وہاں نظر کی کوشش آئینے کے جوہر میں موج مارتی ہے۔ | |
مشکل کہ برد رہ بہ دلت نالۂ عاشق | در طبعِ گہر ریشہ دواند چقدر موج |
ترجمہ مشکل ہے کہ عاشق کا نالہ تیرے دل تک راہ پائے، موتی کی طبیعت میں موج کہاں تک جڑ پھیلا سکتی ہے۔ | |
بی مطلبی آیینۂ آرامِ نفسہاست | دارد ز صفا جامۂ احرامِ گہر موج |
ترجمہ بے مطلبی سانسوں کے آرام کا آئینہ ہے، موج صفا کے سبب موتی کا احرام پہنے ہوئے ہے۔ | |
مطرب نفست زمزمۂ لعلِ کہ دارد | در نالۂ نی می زند امروز شکر موج |
ترجمہ تیرا مطرب جیسا سانس کس کے لعل کا زمزمہ رکھتا ہے کہ آج نے کے نالے میں شکر موج مار رہی ہے۔ | |
وحشت مدہ از دست بہ افسانۂ راحت | زین بحر کسی صرفہ نبردہ ست مگر موج |
ترجمہ راحت کے افسانے پر وحشت کو ہاتھ سے نہ جانے دے، اس سمندر سے موج کے سوا کسی نے نفع نہیں اٹھایا۔ | |
آفت ہوسِ غیری و غافل کہ در این بحر | بر زورقِ آسایشِ خویش است خطر موج |
ترجمہ آفت غیر کی ہوس ہے اور تو غافل ہے کہ اس سمندر میں موج خود اپنی آسائش کی کشتی کے لیے خطرہ ہے۔ | |
از خلوتِ دل شوخیٔ اوہام برون نیست | در بحر شکستہ ست پر و بالِ سفر موج |
ترجمہ اوہام کی شوخی دل کی خلوت سے باہر نہیں، دریا میں موج کے سفر کے بال و پر ٹوٹے ہوئے ہیں۔ | |
فریاد کہ جز حسرت ازین ورطہ نبردیم | تا چند زند دامنِ دریا بہ کمر موج |
ترجمہ فریاد کہ ہم اس بھنور سے حسرت کے سوا کچھ نہ لے جا سکے، موج کب تک دریا کا دامن کمر سے باندھے رہے گی۔ | |
بیدل کرم از طینتِ ممسک نتوان خواست | چون بحر بہ ساحل نتراود ز گہر موج |
ترجمہ بیدل، بخیل کی طینت سے کرم طلب نہیں کیا جا سکتا، جیسے سمندر موتی سے ساحل پر کوئی موج نہیں ٹپکاتا۔ | |
