جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

اردو ادبیات میں انقلاب کی ضرورت

نوع انسانی کے مصلح بننے کا خیال کس قدر مضحکہ خیز خیال ہے! انسان انسان کی اصلاح کر سکتا ہے؟ کیا یہ محض وہم نہیں جو صرف بہکی ہوئی ذہنیت ہی کی پیداوار ہو سکتا ہے؟

میں پوچھتا ہوں انسان خود اپنی اصلاح بھی کر سکتا ہے؟ اور کیا یہ ایک عیاں حقیقت نہیں ہے کہ انسان خود اپنی اصلاح کے باب میں بھی قطعی بے دست و پا ہے؟ اور اس بے دست و پائی کے باوجود نوع انسانی کی اصلاح کے خواب دیکھنا مسخرگی نہیں تو اور کیا ہے؟

تو بہ خویشتن چہ کردی، کہ بما کنی نظیری؟

ترجمہ تو نے خود اپنے ساتھ کیا کِیا ہے، کہ نظیری ہمارے ساتھ کرے

افسوس، اے مجبور و ناچار انسان! افسوس، کاش تو اپنی ہی اصلاح کر سکتا، لیکن۔

میں اربابِ عقل و عمل سے دریافت کرتا ہوں کہ اس مجبوری کے باوجود اور اس بے چارگی کے باوصف ہمارا انسانوں کے مصلح بننے کا تخیل کیا عظیم الشان قدرت کی بارگاہ میں ایک احمقانہ اور ناقابلِ عفو گستاخی نہیں؟

انسان تو اس عظیم المرتبت کرۂ ارض کا فرزند اور اس عظمت آفریں نظامِ شمسی کا بچہ ہے۔ جو سنگ ریزوں کو جواہر پاروں اور مادۂ بے حقیقت کو پیکرِ انسانی میں تبدیل کرتا رہتا ہے۔ قدرت انسان کی دایہ ہے۔ وقت اس کا معلم ہے، طلوع و غروب اس کی درسگاہ ہیں اور ماہ و سال اس کے درسیات ہیں۔

کیا وہ ”ماہتاب اندر عنان و آفتاب اندر رکاب“چاند جس کی عنان میں اور سورج جس کی رکاب میں ہے قوت جو اس عظیم کارخانۂ عالم کو چلا رہی ہے۔ اس قدر ٹھنڈی اور کمزور واقع ہوئی ہے کہ کسی مصلح کی دخل اندازی اور کسی برخود غلط راہبر کی گستاخی برداشت کر لے گی؟

کیا انسان، موجِ نفس پر تھر تھرانے والے حباب ’’انسان‘‘، کو یہ معلوم نہیں کہ اس پُرسطوت گردش کرنے والے کرۂ ارض میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، منشائے قدرت کے عین مطابق ہو رہا ہے؟ کیا جو پرزہ جہاں بٹھا دیا گیا ہے وہی اس کا بہترین مقام اور جو حرکت اس کی مقرر کر دی گئی ہے وہی اس کا وظیفۂ فطری نہیں ہے؟ ہم انسانوں کے اعمال اور اشیائے عالم کے خواص پر ”خیر“ و ”شر“ کے لیبل لگانے والے کون ہوتے ہیں؟

رسائی صرف سبسکرائبرز کے لیے

آپ نے اس مضمون کا ابتدائی حصہ پڑھا۔ مکمل مضمون اور تمام پریمیم مضامین تک رسائی کے لیے سبسکرائب کریں۔

ابھی سبسکرائب کریں