اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

وراثت

(از علیگڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ 12 دسمبر 1882ء)

اودھ اخبار میں پایونیر‌Pioneer سے ایک مضمون ترجمہ ہو کر چھپا ہے جس کا عنوان قانونِ وراثتِ اسلام ہے۔ اُس مضمون کو ہم نے بھی اپنے آج کے اخبار میں مندرج کیا ہے۔ ہم اس مضمون کے ماحصل سے متفق ہیں مگر اس بات سے اختلاف کرتے ہیں کہ قرآنِ مجید کے احکام قابلِ ترمیم یا تبدیل ہیں۔ قرآنِ مجید بطور قواعدِ کلیہ کے ایسے عمدہ اصول پر نازل ہوا ہے کہ کسی زمانہ میں بھی اُس کی ترمیم کی حاجت نہیں ہے۔ ہاں بلاشبہ علماء نے جو اپنے اجتہاد یا رائے سے جو مسئلے قائم کئے وہ محدود ہیں اور شاید اُن میں غلطی بھی ہے اور وہی قابلِ ترمیم ہیں مگر اُن مسائل کے قابلِ ترمیم ہونے سے قرآنِ مجید کو قابلِ ترمیم سمجھنا غلطی ہے۔

ہم نے مسلمانوں کی جائداد کی حفاظت کی جو تدبیر سوچی تھی، اُس وقت ہمیں یہی مشکل پیش آئی تھی کہ ہم ایسی راہ اختیار کرنی چاہتے تھے جو علمائے اسلام کی رائے کے برخلاف نہ ہو اور اسی لئے ہم نے وقف کے مسئلہ پر بنا رکھی تھی جو عموماً فقہ کی کتابوں میں علماء نے تسلیم کیا ہے۔ خود مخالفین بھی یقین کرتے تھے کہ جو مسئلہ ہم نے بیان کیا ہے بلاشبہ فقہ کی رو سے صحیح ہے۔ اُن کی مخالفت در اصل اس وجہ سے نہ تھی کہ وہ مسئلہ مسلمانوں کے مروجہ مذہب کے برخلاف ہے، بلکہ متعصب مسلمان مولوی نہیں چاہتے کہ اُن کے مذہب کا کوئی مسئلہ قانون میں بنایا جائے۔ اگر بالفرض ایک قانون بنایا جائے کہ ہر مسلمان کو نماز پڑھنی فرض ہے تب بھی وہ متعصب مولوی ایسا قانون بننے سے مخالفت کریں گے۔ وہ لوگ کچھ جائداد نہیں رکھتے۔ اُن کا پیشہ جاہلوں کو بہکا کر روٹی کمانے کا ہے۔ با ایں ہمہ ہم کو یاد ہے کہ بہت سے خدا پرست مولویوں نے اور بہت سے مسلمان رئیسوں نے اُس تدبیر سے دلی اتفاق کیا تھا۔ اب بھی ہم بہت سے مسلمانوں کو پاتے ہیں جو اُس تدبیر کے پورا ہونے کی آرزو رکھتے ہیں۔

بہرحال ہم نے اُس تدبیر میں علمائے اسلام اور کتبِ فقہ کی پابندی اپنے پر لازم کی تھی اور اسی لئے مشکل میں پڑے تھے اور ہمیں وقف کا مسئلہ اختیار کرنا پڑا تھا۔ اگر ہم صرف قرآنِ مجید کی پیروی کرتے اور عالموں کی رائے کا یا اجتہاد کا خیال نہ کرتے تو کچھ بھی مشکل نہ ہوتی۔

قرآنِ مجید میں جائداد کی تقسیم کا مسئلہ ایسا صاف و صریح و عمدہ و آسان ہے کہ اُس سے زیادہ عمدہ ہو نہیں سکتا اور کسی زمانہ میں قابلِ ترمیم نہیں ہے۔

قرآنِ مجید میں ہر شخص کو، جو کچھ جائداد رکھتا ہے، تاکیدی حکم ہے کہ وہ وصیت کرے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی جائداد کی نسبت کیا کیا جائے اور یہ بھی اجازت ہے کہ اُس کے دوست اُس کو صلاح دیں۔ بہرحال اس کے مرنے کے بعد بموجب اس کی وصیت کے اُس کی جائداد کی نسبت بلا کسی قید کے بعد ادائے زرِ قرض خواہاں عمل درآمد ہونا چاہئے۔ اگر اس کی جائداد اس سے زیادہ ہو جس قدر کی اُس نے وصیت کی ہے یا آنکہ اُس کو وصیت کرنے کا موقع نہیں ملا تو جائداد زائد از وصیت یا غیر وصیت شدہ کا بعد ادائے زرِ قرضہ اُس کے وارثوں میں تقسیم ہونے کا حکم ہے اور ہر ایک حصہ کا بیان ہوا ہے جس کا بیان کرنا ضروری و لازمی تھا۔ علماء نے اپنے اجتہاد سے اس مسئلہ کو تنگ و خراب کر دیا اور وصیت کی نسبت قیدیں و شرطیں لگائیں، حالانکہ قرآنِ مجید میں کوئی قید و شرط نہیں ہے۔ پس جبکہ قرآنِ مجید نے وصیت کے مسئلہ کو ایسی وسعت کے ساتھ قائم کر دیا ہے جس میں وصیت کرنے والے کو کلیۃً اختیار حاصل ہے تو کون کہہ سکتا ہے کہ مسئلۂ وراثت کی نسبت قرآنِ مجید قابلِ ترمیم ہے، بلکہ ہم دعویٰ کر کے کہہ سکتے ہیں کہ کسی مذہب میں ایسی عمدگی سے یہ مسئلہ موجود نہیں ہے۔ اس تحریر سے ہمارا مقصد صرف اس بات کا دکھانا ہے کہ بلاشبہ قرآنِ مجید میں کسی ترمیم کی حاجت نہیں ہے۔

اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 178 تا 180 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔