اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

واقعاتِ عامۃ الورود

(از ’’آخری مضامینِ سر سید‘‘)

دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں جن کو اکثر ایک ہی قسم کے واقعات پیش آتے ہیں، مگر جو لوگ کہ اہل اللہ کہلاتے ہیں وہ اور اُن کے معتقدین اس کو کرشمۂ ربانی سمجھتے ہیں اور جو لوگ اہلِ دنیا کہلاتے ہیں وہ اُن کو واقعاتِ اتفاقی سمجھ کر کچھ خیال نہیں کرتے۔

شاہ ولی اللہ صاحب نے ایک اپنا واقعہ لکھا ہے کہ ایک شخص ان سے ملنے آیا اور اُس وقت شاہ صاحب اور وہ لوگ جو اُن کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے حلوہ کھا رہے تھے۔ شاہ صاحب کے خادم نے اُس شخص کو بھی جو آیا تھا حلوہ دیا۔ اُس شخص کے دل میں یہ بات آئی کہ اگر شاہ صاحب وہ حلوہ مجھ کو دیدیں جو اُن کے ہاتھ میں ہے تو میں ضرور یقین کروں گا کہ وہ اولیاء اللہ میں سے ہیں اور میں اُن سے خدا کی راہ سیکھوں گا۔ شاہ صاحب کو قرائن سے معلوم ہوا کہ اُس شخص کے دل میں یہ بات گذری ہے۔ اُن کو اپنی ولایت کا اظہار منظور نہ ہوا اور جو خیال کہ اُس شخص کے دل میں گزرا تھا اور جس کو اُنہوں نے بھی جان لیا تھا اس کی کچھ پروا نہ کی اور جو حلوہ کہ اُن کے ہاتھ میں تھا اس کو ایک لقمہ کر گئے۔

اس کے بعد شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ خدا نے مجھ سے مواخذہ کیا اور جو بے پروائی میں نے کی تھی وہ میرے منہ پر ماری۔ میں نے اپنے اُس فعل کی خدا سے معافی چاہی اور استغفار کی۔ خدا نے مجھ کو معاف کر دیا۔

اس میں کچھ شک نہیں کہ جب شاہ صاحب نے قرائن سے اُس شخص کے دل کی خواہش کو دریافت کر لیا تھا اور اس کو پورا نہ کیا تو آخر کو اُن کے دل میں اس کا نہایت رنج و افسوس ہوا ہوگا جس کو اس سبب سے کہ وہ اہل اللہ تھے اُنہوں نے خدا کی طرف سے مواخذہ سمجھا اور اُس سے توبہ اور استغفار کی۔ اگر کوئی اہلِ دنیا میں سے ہوتا اور اُس کو بھی ایسی حالت میں رنج و افسوس ہوتا تو وہ اُس کو خدا کے مواخذہ سے تعبیر نہ کرتا۔

ایک واقعہ ہم پر قریب قریب اس کے گذرا ہے۔ میں جب دہلی سے رہتک جانے والا تھا، حضرت شاہ احمد سعید صاحب کی خدمت میں رخصت کے لئے حاضر ہوا۔ اُس وقت ایک عورت ایک نہایت تر و تازہ رنگترہ1 لائی اور شاہ احمد سعید صاحب کی خدمت میں پیش کیا۔ اُنہوں نے اُس کو لے کر رکھ لیا۔ میرے دل میں یہ بات آئی کہ اگر شاہ صاحب یہ رنگترہ مجھ کو دیدیں تو میرے سفر کے لئے ایک فالِ نیک ہوگی۔ جب میں رخصت ہو کر جانے لگا تو شاہ صاحب نے وہ رنگترہ اٹھا کر مجھ کو دیدیا، کہ آپ اس کو لیتے جائیے۔ میں چونکہ ایک دنیادار تھا اور گو شاہ صاحب کی خدمت میں مجھ کو عقیدت تھی اور ہے، مگر اس کو ایک امرِ اتفاقی سمجھا اور جو لوگ کہ مریدانِ خاص حضرت شاہ صاحب کے تھے اُنہوں نے اس امر کو خطراتِ قلب پر بطور مکاشفہ کے مطلع ہونا قرار دیا۔

شاہ ولی اللہ صاحب اپنا دوسرا واقعہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک باوجاہت آدمی اُن سے ملنے کو آیا اور وہ ایسا وقت تھا کہ شاہ صاحب کو مناسب تھا کہ اُس کو کھانے کے لئے اور اُس کو رات کو اپنے ہاں ٹھہرنے کے لئے کہتے اور وہ شخص بھی یہی سمجھتا تھا کہ میں اُن کے ہاں کھاؤں گا اور اُنہیں کے ہاں رات کو رہوں گا۔ شاہ صاحب کو یہ بھی خیال ہوا کہ اگر میں اس کو کھانا نہ کھلاؤں اور رات کو رہنے کو نہ کہوں تو اس کی نہایت دل شکنی ہوگی، مگر اُنہوں نے اُس کی کچھ پروا نہیں کی۔ نہ اُس کو کھانا کھلایا نہ رہنے کے لئے کہا۔ جب وہ اُٹھ کر چلا گیا تو شاہ صاحب نے لکھا ہے کہ مجھ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے خفگی ہوئی اور کہا گیا کہ یہ ایک نادانی کا کام تھا۔

شاہ صاحب کو بلاشبہ اس بات کا رنج ہوا ہوگا کہ اُس کو کیوں نہیں کھانا کھلایا اور کیوں نہیں رات کو رکھا، مگر اس رنج کو چونکہ وہ اہل اللہ تھے، خدا کے عتاب سے منسوب کیا، اگر کوئی دنیادار ہوتا تو اُس کا کچھ بھی خیال نہ کرتا۔

مثل اس کے ایک واقعہ ہم پر بھی گذرا ہے۔ بنارس میں ایک نہایت مقدس اور بزرگ شخص مجھ کو ملنے کو آئے جب کہ میں انگلستان سے واپس آیا تھا اور اُن بزرگ کا ارادہ تھا کہ میرے ہاں رات کو رہیں، مگر کھانا دوسری جگہ کھائیں۔ مجھ کو یہ امر پسند نہ آیا اور میں نے کہا کہ جہاں آپ کھانا کھائیں گے، وہیں رات کو بھی رہیں۔ وہ بزرگ تھوڑی دیر مل کر چلے گئے۔ اُن کے جانے کے بعد مجھ کو نہایت رنج و افسوس ہوا کہ میں نے یہ بات نہایت خلافِ آدمیت اور خلافِ مروت اور خلافِ اخلاق کی، مگر چونکہ میں دنیادار تھا، اس لئے میرے ذہن میں یہ بات نہیں آئی کہ خدا نے مجھ سے مواخذہ کیا ہے۔

پس یہ عام واقعات ہیں جو کم و بیش ہر ایک کو پیش آتے ہیں۔ اہل اللہ اُن کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اہلِ دنیا اُن کو اتفاقی بات سمجھ کر ٹال دیتے ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے:

کارِ پاکاں را قیاس خوُد مگیر

گرچہ ماند در نوشتن شیر و شیر

ترجمہ اردو جریدہ: پاک لوگوں کے کام کو اپنے اوپر قیاس نہ کر، اگرچہ لکھنے میں شیر (درندہ) اور شیر (دودھ) ایک جیسے ہوتے ہیں۔

اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 114 تا 117 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔ یہ تحریر کتاب «آخری مضامینِ سر سید» سے ماخوذ ہے۔