یارب از سرمنزلِ مقصد چہ سان یابم سراغ | دیدہ حیرانست و من بیدست و پا، دل بی دماغ |
ترجمہ یارب! میں مقصد کی منزل کا سراغ کیسے پاؤں؟ آنکھ حیران ہے، میں بے دست و پا ہوں اور دل بے دماغ۔ | |
غیرتِ بی دست و پایی ہای شخصِ ہمتم | ہرکہ را سوزد نفس می بایدم گردید داغ |
ترجمہ میں اپنی ہمت کے پیکر کی بے دست و پائیوں کی غیرت ہوں؛ جس کسی کی سانس جلے، مجھے داغ بن جانا چاہیے۔ | |
دل اگر روشن شود غفلت نمی گنجد بہ چشم | آنچہ نتوان دید تاریکیست در نورِ چراغ |
ترجمہ دل اگر روشن ہو جائے تو آنکھ میں غفلت نہیں سماتی؛ چراغ کی روشنی میں جو چیز دکھائی نہیں دے سکتی وہ تاریکی ہے۔ | |
زشت ہم از قربِ خوبان موجِ خوبی می زند | خار را جوہر کند آیینۂ دیوارِ باغ |
ترجمہ بدصورت بھی خوبوں کی قربت سے خوبی کی موج مارتا ہے؛ باغ کی دیوار کا آئینہ کانٹے کو بھی جوہر بنا دیتا ہے۔ | |
از سبکروحان گرانجانی ست گر ماند اثر | بوی گل ہرجا رود با خویش بردارد سراغ |
ترجمہ سبک روحوں کا کوئی اثر باقی رہ جائے تو یہ گراں جانی ہے؛ پھول کی خوشبو جہاں جاتی ہے اپنا سراغ بھی ساتھ اٹھا لے جاتی ہے۔ | |
ساغرِ فطرت بہ گردش گر نیاید گو میا | نیستیم بوی جنون ہم بہرِ سامانِ دماغ |
ترجمہ فطرت کا ساغر اگر گردش میں نہ آئے تو کہہ دو نہ آئے؛ میری نیستی ہی دماغ کے سامان کے لیے جنون کی خوشبو ہے۔ | |
کرد آگاہم ز سور و ماتمِ این انجمن | در بہار آوازِ بلبل در خزان بانگِ کلاغ |
ترجمہ اس انجمن کی خوشی اور ماتم سے مجھے آگاہ کر دیا: بہار میں بلبل کی آواز نے اور خزاں میں کوے کی کائیں کائیں نے۔ | |
بی تپیدن نیست ممکن وضعِ ایجادِ نفس | ای ز اصلِ کار غافل زندگی آنگہ فراغ |
ترجمہ تڑپے بغیر سانس کی تخلیق کا ڈھنگ ممکن نہیں؛ اے اصل کام سے غافل! زندگی، اور پھر فراغت؟ | |
سوختن آمادہ باش آگاہیت غفلت دمید | صبحِ خود را شام کردی شام می خواہد چراغ |
ترجمہ جلنے کے لیے آمادہ رہ کہ تیری آگاہی سے غفلت پھوٹی؛ تو نے اپنی صبح کو شام کر دیا، اور شام چراغ مانگتی ہے۔ | |
اختلافِ وضعہا بیدل لباسی بیش نیست | ورنہ یکرنگ است خون در پیکرِ طاووس و زاغ |
ترجمہ اے بیدل! وضعوں کا اختلاف ایک لباس سے زیادہ نہیں، ورنہ مور اور کوے کے پیکر میں خون ایک ہی رنگ کا ہے۔ | |
