اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ز خویش رفتہ ام اما نرفتہ ام جایی

ز خویش رفتہ ام اما نرفتہ ام جایی

غبارِ راہِ توام تا کی ام زنی پایی

ترجمہ میں اپنے آپ سے گزر گیا ہوں مگر کہیں گیا نہیں؛ میں تیری راہ کا غبار ہوں، کب تک مجھے ٹھوکر مارے گا۔

تحیرِ تو ز فکرِ دو عالمم پرداخت

بہ جلوہ ات کہ نہ دین دارم و نہ دنیایی

ترجمہ تیری حیرت نے مجھے دونوں جہانوں کی فکر سے فارغ کر دیا؛ تیرے جلوے کی قسم، نہ میرے پاس دین ہے نہ کوئی دنیا۔

نشستہ ام بہ ادبگاہِ مکتبِ تحقیق

ہزار اسم گرہ بستہ در معمایی

ترجمہ میں تحقیق کے مکتب کی ادب گاہ میں بیٹھا ہوں، جہاں ہزار نام ایک ہی معمے میں گرہ بندھے ہیں۔

رموزِ حیرتِ آیینہ کیست در یابد

اقامتِ درِ دل نیست بی تقاضایی

ترجمہ آئینے کی حیرت کے رموز کون سمجھ سکتا ہے؛ دل کے دروازے پر کسی تقاضے کے بغیر ٹھہرنا ممکن نہیں۔

مقیمِ کنجِ خراباتِ زحمتیم ہمہ

گمان مبر کہ برون افتد از خمش لایی

ترجمہ ہم سب زحمت کے خرابات کے گوشے میں مقیم ہیں؛ یہ گمان نہ کر کہ اس کے مٹکے سے تلچھٹ کا ایک ذرہ بھی باہر گرے گا۔

ز سازِ دہر مگو کوکِ عبرتست اینجا

سپندِ سوختہ ای یا ترنگِ مینایی

ترجمہ زمانے کے ساز کی بات نہ کر، یہاں تو عبرت کا سُر ملایا گیا ہے: یا جلا ہوا اسپند ہے یا صراحی کی کھنک۔

نشاندہ است جہان را در آتشی کہ مپرس

جمال در نظر و انتظارِ فردایی

ترجمہ جہان کو ایسی آگ میں بٹھا رکھا ہے کہ کچھ نہ پوچھ: جمال نظر کے سامنے ہے اور پھر بھی کل کا انتظار۔

درین قلمروِ وحشت چہ مردمک چہ نگاہ

جنون دماندہ خط از نقطۂ سویدایی

ترجمہ وحشت کی اس سلطنت میں کیا پتلی اور کیا نگاہ؛ جنون نے دل کے سیاہ نقطے سے خط اگا دیا ہے۔

نظر بہ حیرتِ تصویرِ ہند باختہ ام

کزین سیہ قلمان برنخاست لیلایی

ترجمہ میں نے ہند کی تصویر کی حیرت پر نظر ہار دی ہے، کیونکہ ان سیاہ قلموں سے کوئی لیلیٰ نہ ابھری۔

بہ آن خمی کہ جنون چینِ دامنم پرداخت

چو گردباد شکستم کلاہِ صحرایی

ترجمہ جنون نے جس خم سے میرے دامن کی شکن سنواری، اسی سے میں نے بگولے کی طرح صحرائی کلاہ ترچھی کر لی۔

چو صبح می روم از خویش تا کجا برسم

بہ ہر نفس زدنم پرگشاست عنقایی

ترجمہ صبح کی طرح میں اپنے آپ سے گزرتا جا رہا ہوں، دیکھیں کہاں پہنچوں؛ میرے ہر سانس میں ایک عنقا پر کھولے ہوئے ہے۔

غرورِ خودسری از پست فطرتان بیدل

دمیدہ آبلہ ای چند از کفِ پایی

ترجمہ بیدل، پست فطرتوں کی خودسری کا غرور بس تلوے سے اُگے ہوئے چند آبلے ہیں۔