جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

زردشت کا دیباچہ

1

جب زردشت تیس برس کا ہوا تو اس نے اپنا وطن اور وطن کی جھیل چھوڑ دی اور پہاڑوں میں چلا گیا۔ وہاں وہ اپنی روح اور اپنی تنہائی سے لطف اندوز ہوتا رہا اور دس برس تک اس سے نہ اکتایا۔ مگر آخرکار اس کے دل میں تبدیلی آئی، اور ایک صبح وہ پو پھٹتے ہی اٹھا، سورج کے سامنے جا کھڑا ہوا اور اس سے یوں مخاطب ہوا:

’’اے عظیم آفتاب! تیری سعادت کیا رہ جاتی اگر وہ نہ ہوتے جن پر تو اپنی روشنی ڈالتا ہے!

دس برس تک تو یہاں میرے غار کی طرف چڑھتا رہا۔ اگر میں، میرا عقاب اور میرا سانپ نہ ہوتے تو تو اپنی روشنی اور اس راستے سے کب کا سیر ہو چکا ہوتا۔

مگر ہم ہر صبح تیرے منتظر رہے، تیری فراوانی کا حصہ لیتے رہے اور اس کے بدلے تجھے دعائیں دیتے رہے۔

دیکھ! میں اپنی دانائی سے اکتا چکا ہوں، اس شہد کی مکھی کی طرح جس نے ضرورت سے زیادہ شہد جمع کر لیا ہو۔ مجھے ایسے ہاتھوں کی ضرورت ہے جو میری طرف بڑھیں۔

میں لٹانا اور بانٹنا چاہتا ہوں، یہاں تک کہ انسانوں میں جو دانا ہیں وہ ایک بار پھر اپنی نادانی پر خوش ہوں اور جو غریب ہیں وہ ایک بار پھر اپنی دولت پر شادمان ہوں۔

اس کے لیے مجھے پستی میں اترنا ہو گا، جیسے تو شام کو کرتا ہے جب تو سمندر کے پیچھے چلا جاتا ہے اور زیریں دنیا کو بھی روشنی پہنچاتا ہے، اے فیض سے لبریز ستارے!

مجھے بھی تیری طرح غروب ہونا ہے — یہی لفظ وہ انسان استعمال کرتے ہیں جن کی طرف میں اترنا چاہتا ہوں۔

پس مجھے برکت دے، اے پرسکون آنکھ، جو بے حساب سعادت کو بھی بغیر کسی حسد کے دیکھ سکتی ہے!

رسائی صرف سبسکرائبرز کے لیے

آپ نے اس مضمون کا ابتدائی حصہ پڑھا۔ مکمل مضمون اور تمام پریمیم مضامین تک رسائی کے لیے سبسکرائب کریں۔

ابھی سبسکرائب کریں