ز بزمِ وصل خواہشہای بیجا می برد ما را | چو گوہر موجِ ما بیرونِ دریا می برد ما را |
ترجمہ بے جا خواہشیں ہمیں وصل کی بزم سے لیے جاتی ہیں؛ موتی کی طرح ہماری اپنی موج ہمیں دریا سے باہر لے جاتی ہے۔ | |
ندارد شمعِ ما را صرفہ سیرِ محفلِ امکان | نگہ تا می رود از خود بہ یغما می برد ما را |
ترجمہ ہماری شمع کو امکان کی محفل کی سیر میں کوئی فائدہ نہیں؛ نگاہ جوں ہی اپنے آپ سے نکلتی ہے ہمیں لوٹ کر لے جاتی ہے۔ | |
چو فریادِ جرس ماییم جولانِ پریشانی | بہ ہر راہی کہ خواہد بیخودیہا می برد ما را |
ترجمہ ہم جرس کی فریاد کی طرح پریشانی کی جولانی ہیں؛ بے خودی جس راہ پر چاہتی ہے ہمیں لیے جاتی ہے۔ | |
جنون می ریزد از ما رنگِ آتشخانۂ عالم | بہ ہرجا مشتِ خاری شد تقاضا می برد ما را |
ترجمہ جنون ہم سے عالم کے آتش کدے کا رنگ ٹپکاتا ہے؛ جہاں کہیں مٹھی بھر کانٹے ہوں، تقاضا ہمیں وہیں لے جاتا ہے۔ | |
چو کارِ نارسای عاجزان با اینہمہ پستی | بہ جز دستِ دعا دیگر کہ بالا می برد ما را |
ترجمہ جب عاجزوں کا کام اس ساری پستی کے ساتھ نارسا ہے تو دعا کے ہاتھ کے سوا اور کون ہمیں اوپر لے جائے۔ | |
ہمان چون سایہ ما و سجدۂ شکرِ جبین سایی | کہ تا آن آستان بی زحمتِ پا می برد ما را |
ترجمہ ہم سائے کی طرح ہیں اور پیشانی رگڑنے والے شکر کا سجدہ، کہ وہی ہمیں پاؤں کی زحمت کے بغیر اس آستانے تک لے جاتا ہے۔ | |
ز وحشت شعلۂ ما مژدۂ خاکستری دارد | پرافشانی بہ طوفِ بالِ عنقا می برد ما را |
ترجمہ وحشت سے ہمارا شعلہ خاکستر ہو جانے کی خوش خبری رکھتا ہے؛ پر افشانی ہمیں عنقا کے پر کے طواف کو لیے جاتی ہے۔ | |
ندارد نشئۂ آزادیٔ ما ساغرِ دیگر | غبارِ دامن افشاندن بہ صحرا می برد ما را |
ترجمہ ہماری آزادی کا نشہ کوئی اور ساغر نہیں رکھتا؛ دامن جھاڑنے کا غبار ہی ہمیں صحرا کو لیے جاتا ہے۔ | |
مدارایی بہ یاران می کند تمکینِ ما، ورنہ | شکستِ رنگ از این محفل چو مینا می برد ما را |
ترجمہ ہمارا وقار یاروں سے مدارات برت رہا ہے، ورنہ رنگ کی شکست ہمیں صراحی کی طرح اس محفل سے لے جاتی ہے۔ | |
نہ گلشن را ز ما رنگی نہ صحرا را ز ما گردی | بہ ہرجا می برد شوقِ تو بی ما می برد ما را |
ترجمہ نہ گلشن کو ہم سے کوئی رنگ ملا نہ صحرا کو ہم سے کوئی گرد؛ تیرا شوق ہمیں جہاں بھی لے جاتا ہے، ہمارے بغیر لے جاتا ہے۔ | |
گدازِ درد توفان کرد، دست از ما بشو بیدل | نبرد این سیل اگر امروز، فردا می برد ما را |
ترجمہ بیدل، درد کے گداز نے طوفان اٹھا دیا، ہم سے ہاتھ دھو لے؛ یہ سیلاب اگر آج نہیں تو کل ہمیں بہا لے جائے گا۔ | |
