اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ز درد تشنہ لبیہا در این محیط سراب

ز دردِ تشنہ لبیہا در این محیطِ سراب

دلی گداختہ ایم و رسیدہ ایم بہ آب

ترجمہ اس سراب کے سمندر میں تشنہ لبی کے درد سے ہم نے دل پگھلا دیا اور یوں پانی تک پہنچ گئے۔

تأملی کہ چہ دارد تلاشِ محرمی ات

شکستِ آینہ را جلوہ کردہ اند خطاب

ترجمہ ذرا غور کر کہ تیری محرمی کی تلاش میں کیا ہے؛ آئینے کی شکست کو جلوے کا خطاب دیا گیا ہے۔

حصولِ ریشۂ آمال سر بہ سر پوچ است

تلاشِ موج چہ خرمن کند بہ غیرِ حباب

ترجمہ آرزوؤں کی جڑ کا حاصل سراسر کھوکھلا ہے؛ موج کی تلاش حباب کے سوا کیا خرمن جمع کرے۔

فسانۂ دلِ پر خون شنیدنی دارد

بہ دوشِ شعلہ جرس بستہ است اشکِ کباب

ترجمہ خونیں دل کا افسانہ سننے کے لائق ہے؛ کباب کے آنسو نے شعلے کے کندھے پر جرس باندھ رکھا ہے۔

اگر تبسمِ گل ابروی ادا دزدد

شکستِ بال شود بہر بلبلان محراب

ترجمہ اگر پھول کا تبسم ادا کی ابرو چرا لے تو بلبلوں کے لیے پروں کی شکست محراب بن جائے۔

خیالِ نرگسِ مستِ تو بیخودی اثر است

وگرنہ دیدۂ بختم نداشت این ہمہ خواب

ترجمہ تیری مست نرگس کا خیال بے خودی کا اثر رکھتا ہے، ورنہ میرے بخت کی آنکھ میں اتنی نیند نہ تھی۔

بہ فیضِ دیدۂ تر ہیچ نشئہ نتوان یافت

تو ساز میکدہ کن ما و این دو شیشہ شراب

ترجمہ بھیگی آنکھ کے فیض سے کوئی نشہ نہیں مل سکتا؛ تو میکدے کا سامان کر، ہم ہیں اور یہ دو شیشے شراب کے۔

اگر بہ وادیٔ امکان غبارِ بی آبی ست

ہجومِ آبلہ ات از کجا دماند حباب

ترجمہ اگر امکان کی وادی میں بے آبی کا غبار ہے تو تیرے آبلوں کا ہجوم حباب کہاں سے اگاتا ہے۔

نفس چہ واکشد از پردۂ توہمِ ما

کہ ساز در دلِ خاک است و بر ہوا مضراب

ترجمہ ہمارے وہم کے پردے سے سانس کیا نغمہ کھینچے، کہ ساز تو مٹی کے دل میں ہے اور مضراب ہوا پر۔

درین محیط چو موج اینقدر تردد چیست

بہ رفتنی کہ ندارد درنگ پر مشتاب

ترجمہ اس سمندر میں موج کی طرح اتنی بھاگ دوڑ کیا ہے؛ ایسے جانے کے لیے جس میں ٹھہراؤ ہی نہیں، بہت جلدی نہ کر۔

کسی ز دامِ تعلق چسان برون تازد

شکستہ گردنِ ہر موج طوقی از گرداب

ترجمہ تعلق کے جال سے کوئی کیسے باہر نکلے؛ بھنور کے طوق نے ہر موج کی گردن توڑ رکھی ہے۔

مقیمِ انجمنِ نارسایی ام بیدل

بہ ہرکجا نرسد سعیٔ کس مرا دریاب

ترجمہ بیدل، میں نارسائی کی انجمن کا مقیم ہوں؛ جہاں کسی کی کوشش نہ پہنچے، وہاں مجھے پا لے۔