ز دردِ تشنہ لبیہا در این محیطِ سراب | دلی گداختہ ایم و رسیدہ ایم بہ آب |
ترجمہ اس سراب کے سمندر میں تشنہ لبی کے درد سے ہم نے دل پگھلا دیا اور یوں پانی تک پہنچ گئے۔ | |
تأملی کہ چہ دارد تلاشِ محرمی ات | شکستِ آینہ را جلوہ کردہ اند خطاب |
ترجمہ ذرا غور کر کہ تیری محرمی کی تلاش میں کیا ہے؛ آئینے کی شکست کو جلوے کا خطاب دیا گیا ہے۔ | |
حصولِ ریشۂ آمال سر بہ سر پوچ است | تلاشِ موج چہ خرمن کند بہ غیرِ حباب |
ترجمہ آرزوؤں کی جڑ کا حاصل سراسر کھوکھلا ہے؛ موج کی تلاش حباب کے سوا کیا خرمن جمع کرے۔ | |
فسانۂ دلِ پر خون شنیدنی دارد | بہ دوشِ شعلہ جرس بستہ است اشکِ کباب |
ترجمہ خونیں دل کا افسانہ سننے کے لائق ہے؛ کباب کے آنسو نے شعلے کے کندھے پر جرس باندھ رکھا ہے۔ | |
اگر تبسمِ گل ابروی ادا دزدد | شکستِ بال شود بہر بلبلان محراب |
ترجمہ اگر پھول کا تبسم ادا کی ابرو چرا لے تو بلبلوں کے لیے پروں کی شکست محراب بن جائے۔ | |
خیالِ نرگسِ مستِ تو بیخودی اثر است | وگرنہ دیدۂ بختم نداشت این ہمہ خواب |
ترجمہ تیری مست نرگس کا خیال بے خودی کا اثر رکھتا ہے، ورنہ میرے بخت کی آنکھ میں اتنی نیند نہ تھی۔ | |
بہ فیضِ دیدۂ تر ہیچ نشئہ نتوان یافت | تو ساز میکدہ کن ما و این دو شیشہ شراب |
ترجمہ بھیگی آنکھ کے فیض سے کوئی نشہ نہیں مل سکتا؛ تو میکدے کا سامان کر، ہم ہیں اور یہ دو شیشے شراب کے۔ | |
اگر بہ وادیٔ امکان غبارِ بی آبی ست | ہجومِ آبلہ ات از کجا دماند حباب |
ترجمہ اگر امکان کی وادی میں بے آبی کا غبار ہے تو تیرے آبلوں کا ہجوم حباب کہاں سے اگاتا ہے۔ | |
نفس چہ واکشد از پردۂ توہمِ ما | کہ ساز در دلِ خاک است و بر ہوا مضراب |
ترجمہ ہمارے وہم کے پردے سے سانس کیا نغمہ کھینچے، کہ ساز تو مٹی کے دل میں ہے اور مضراب ہوا پر۔ | |
درین محیط چو موج اینقدر تردد چیست | بہ رفتنی کہ ندارد درنگ پر مشتاب |
ترجمہ اس سمندر میں موج کی طرح اتنی بھاگ دوڑ کیا ہے؛ ایسے جانے کے لیے جس میں ٹھہراؤ ہی نہیں، بہت جلدی نہ کر۔ | |
کسی ز دامِ تعلق چسان برون تازد | شکستہ گردنِ ہر موج طوقی از گرداب |
ترجمہ تعلق کے جال سے کوئی کیسے باہر نکلے؛ بھنور کے طوق نے ہر موج کی گردن توڑ رکھی ہے۔ | |
مقیمِ انجمنِ نارسایی ام بیدل | بہ ہرکجا نرسد سعیٔ کس مرا دریاب |
ترجمہ بیدل، میں نارسائی کی انجمن کا مقیم ہوں؛ جہاں کسی کی کوشش نہ پہنچے، وہاں مجھے پا لے۔ | |
