خط (136) — 17 اپریل 1915ء
مکرم بندہ تسلیم۔1
آپ کا نوازش نامہ ملا۔ میں اِس عزّت کا نہایت مشکور ہوں جو آپ مجھے دینا چاہتے ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ میں اِسے قبول کرنے سے قاصر ہوں اور اس وجہ سے کہ مجھے اس قسم کے نام و نمود سے قطعی اجتناب ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ مجھے معاف فرماویں گے۔2
تعجب ہے کہ اس واقعہ کو آپ کشیدگیٔ تعلقات سے تعبیر فرماتے ہیں اس واقعہ سے پہلے مرے آپ کے کوئی تعلقات نہیں تھے اور میں نے اس موقع پر جو کچھ عرض کیا تھا اس میں مَیں اخلاقی اعتبار سے بالکل حق بجانب تھا اس کو آپ بخوبی سمجھتے تھے اور یقیناً اب بھی سمجھتے ہیں3۔ اگر کوئی اور معاملہ ہوتا یا اب ہو تو میں ہر طرح آپ کی مدد کے لیے حاضر ہوں۔ والسلام
آپ کا خادم محمد اقبال لاہور
17؍ اپریل 15ء
(انوارِ اقبال)
خط (137) — 20 اپریل 1915ء
لاہور 20؍ اپریل 15ء
مکرم بندہ السلام علیکم
آپ کا خط مل گیا ہے۔ اگر کتاب کو میرے نام سے معنون کرنے سے اس کی قدر و قیمت میں کوئی اضافہ ہو سکتا جو آپ کی مالی منفعت یا کسی اور فائدہ کا باعث ہوتا تو ضرور اجازت دے دیتا مگر جہاں تک میں سوچتا ہوں اس کا یہ اثر نہیں ہو سکتا کیوں کہ مجھے اخباری دنیا یا اخبار نویسی سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر چونکہ آپ مصر ہیں اس واسطے میں اپنا پہلا خط واپس کرتا ہوں اور یہ عرض کرتا ہوں کہ میں کتاب دیکھ کر اس امر کا فیصلہ کروں گا۔ لیکن آپ مجھ سے یہ عہد کریں کہ اگر کتاب دیکھ کر میں نے اجازت نہ دی تو آپ اس سے ناراض نہ ہوں گے۔ اُس واقعہ کا کوئی اثر مرے دل پر نہ تھا اور نہ اب ہے۔ آپ بلا تکلّف جب چاہیں میرے غریب خانے پر تشریف لاویں۔ والسلام
آپ کا خادم محمد اقبال
(انوارِ اقبال)
خط (141) — 22 مئی 1915ء
مکرّم بندہ
آپ کی کتاب4 مفید ثابت ہو گی اردو خوانوں کے لیے بالخصوص اس قسم کی کتاب کی ضرورت تھی اگر آپ اس کتاب کے ڈیڈیکیشن سے مجھے معزز کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کی راہ میں حائل ہونا نہیں چاہتا شوق سے ڈیڈیکیٹ کیجیے۔ والسلام
آپ کا خادم محمد اقبال لاہور
22؍ مئی 1915ء
(انوارِ اقبال)
خط (162) — 30 اکتوبر 1915ء
لاہور۔ 30؍ اکتوبر 15ء
مکرمی۔ السلام علیکم آپ کا خط مل گیا ہے جس کے لیے میں آپ کا ممنون ہوں۔ تصوّف کی کتاب پر نظرِ ثانی کرنے کے لیے میں کسی طرح اہل نہیں کیونکہ مجھے تصوّف سے معمولی واقفیت ہے اور وہ بھی سطحی اس کام کے لیے موزوں تر آدمی خواجہ حسن نظامی ہیں۔ میری رائے میں تصوّف پر بہت سی کتابیں تمام اسلامی زبانوں میں موجود ہیں جن کا مطالعہ عام اسلامی پبلک کے لیے کچھ مفید ثابت نہیں ہوا۔ البتہ اگر آپ تصوّف کی تاریخ لکھیں اور بتائیں کہ تاریخی اعتبار سے تصوّف کا تعلق اسلام سے ہے یا نہیں تو یہ رسالہ نہایت مفید ثابت ہوگا5۔
والسّلام
آپ کا خادم محمد اقبال لاہور
(انوارِ اقبال)
خط (201) — 31 اگست 1916ء
مکرّم بندہ۔ السلام علیکم۔
افسوس ہے کہ مجموعۂ اشعار اب تک شائع نہ ہو سکا۔ امید ہے کہ جنگ کے بعد شائع ہو گا ’’مینارِ دل پہ اپنے ...... الخ‘‘ اس غزل کو اس قصے سے کوئی تعلق نہیں جو آپ نے سنا6 ہے پیغامِ محبت کے جواب میں جو نظم میں نے لکھی تھی وہ اور ہے مدّت ہوئی مخزن میں شائع ہوئی تھی۔
مہدی و مسیح کے متعلق جو احادیث ہیں ان پر علامہ ابن خلدون نے اپنے مقدّمہ میں مفصل بحث کی ہے۔ اُن کی رائے میں یہ تمام احادیث کمزور ہیں۔ جہاں تک اصولِ فنِ تنقیدِ احادیث کا تعلق ہے میں بھی ان کا ہمنوا ہوں، مگر اس بات کا قائل ہوں کہ مسلمانوں میں کسی بڑی شخصیت کا ظہور ہو گا۔ احادیث کی بنا پر نہیں بلکہ اور بنا پر میرا عقیدہ یہی ہے۔ ماجد علی صاحب کی کتاب میری نظر سے نہیں گزری، نہ اس فقرہ کا مطلب پوری طرح ذہن میں آیا ہے کہ کچھ عرض کر سکوں۔ جو سوال آپ نے مجھ سے کیا ہے اس سے پہلے یہ طے ہونا چاہیئے کہ CONSISTENCY کیا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ خود نقیضین کی تحلیل اور ہم آغوشی ہو7۔ یہ مسئلہ نہایت دقیق ہے جس کے متعلق اس خط میں لکھنا آسان نہیں اس کا فائدہ کچھ نہ ہو گا آپ میرا مفہوم نہ سمجھ سکیں گے محمد علی صاحب8 کے شعر میں سن چکا ہوں۔ آپ نے ان کو اپنے خط میں نقل کرنے کی زحمت کی اس کے لیے شکر گزار ہوں۔ والسلام
آپ کا خادم محمد اقبال لاہور
31؍ اگست 16ء
(انوارِ اقبال)
