خط (1) — 15 اپریل 1929ء (جلد سوم، خط 8)
لاہور
15؍ اپریل 1929ء
جنابِ من
نوازش نامہ جس میں آپ کی نظم ملفوف تھی ابھی ابھی موصول ہوا جس کے لیے ممنون ہوں۔ مجھے اس اطلاع سے مسرت ہوئی کہ میرے اشعار کے مطالعہ سے آپ کو فائدہ پہنچا۔ آپ نے اپنی نظموں میں مجھ ناچیز کے متعلق جن جذبات کا اظہار فرمایا ہے اُن کے لیے سراپا سپاس ہوں۔
نیاز مند محمد اقبال
(اقبال نامہ)
خط (2) — 7 مئی 1929ء (جلد سوم، خط 13)
جنابِ من
السلام علیکم۔ فی الحال اشعار سے معاف فرمائیے کہ فرصت بالکل نہیں۔
محمد اقبال۔ لاہور
7؍ مئی 29ء
(اقبال نامہ)1
خط (3) — 20 مئی 1930ء (جلد سوم، خط 51)
لاہور 20؍ مئی 1930ء
مائی ڈیر عباس علی خاں
آپ کا نوازش نامہ ابھی ابھی موصول ہوا جس کے لیے ممنون ہوں۔ میں نے آپ کی کتاب جو آپ نے مجھے تحفتہً بھیجی مطالعہ نہیں کی۔ لیکن میں اسے نہایت خوشی سے پڑھوں گا اور امید ہے اس سے منفعت بھی حاصل کروں گا۔ آپ کے والد بزرگوار کے انتقال کی اطلاع سے قلق ہوا۔ جسے آپ نیچر کہتے ہیں اس کے سپُرد ایک بہت بڑی کائنات کا اہتمام ہے۔ اور ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے وظیفہ کی نوعیت سے کماحقہٗ آگاہ ہے۔
RECONSTRUCTION OF RELIGIOUS THOUGHT IN ISLAM پر میرے لیکچر شائع ہو گئے ہیں۔ اگر آپ کا امریکن دوست زمانۂ حال کے اسلام سے دلچسپی رکھتا ہے تو اسے ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ مبارک علی تاجرِ کتب لوہاری گیٹ سے یہ کتاب مل سکتی ہے۔
مخلص محمد اقبال
(انگریزی سے)
(اقبال نامہ)
خط (4) — یکم فروری 1931ء (جلد سوم، خط 100)
لاہور
یکم فروری 1931ء
مائی ڈیر ڈاکٹر عباس علی خاں
نوازش نامہ اور اُس کے ملفوفات کے لیے سراپا سپاس ہوں۔ مسٹر محمد علی مرحوم کا خاتمہ بخیر ہوا۔ اگرچہ میں اُن کی سیاست کا کبھی بھی مدّاح نہ تھا۔ لیکن ان کی اسلامی سادگی اور آخری سالوں میں اپنی بعض آرا کے بدل لینے میں جس امانت و دیانت کا انھوں نے ثبوت دیا بہت احترام کرتا ہوں۔ اپنے متعلق ان کی پیشگوئی بھی درست ثابت ہوئی ہے اور اس سے بھی قوم میں ان کا وقار بڑھ گیا ہے۔ مسجدِ اقصیٰ میں آخری آرام گاہ کا میسّر آنا ان کی خوش نصیبی ہے۔ جس سے ان کا مرتبہ بلند تر ہو گیا ہے۔ اب تو محض ایک سیاسی رہنما کی حیثیت سے اُن کا مرتبہ نہایت ارفع ہو چکا ہے۔
اللہ تعالیٰ انھیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ امید ہے آپ آج کل کی سیاست سے اپنے آپ کو بچائے ہوئے ہوں گے۔
مخلص محمد اقبال
(اقبال نامہ)
خط (5) — 7 ستمبر 1931ء (جلد سوم، خط 130)
لاہور
7؍ ستمبر 31ء
مائی ڈیر ڈاکٹر عباس علی خاں صاحب
ڈاکٹر کلیفورڈ مانشرڈٹ2 کی کتاب کے تحفہ کے لیے دلی شکریہ قبول فرمائیے۔ مجھے اس کتاب: ’’عالم گیر انسانی برادری‘‘ BROTHERHOOD کی بہت ضرورت تھی۔
نظم کے لیے بھی جو آپ نے ازراہِ لطف و کرم بھیجی ہے اور جو میں نے بے حد پسند کی ہے شکریہ قبول کیجیے۔ امید کہ مزاج بخیر ہوگا۔
مخلص محمد اقبال
(اقبال نامہ)
خط (6) — 24 فروری 1932ء (جلد سوم، خط 152)
لاہور
24؍ فروری 1932ء
مائی ڈیر ڈاکٹر عباس علی خاں
میں نہایت ممنون ہوں کہ آپ وقتاً فوقتاً اپنی نظمیں بھیجتے رہتے ہیں۔ اگر میں آپ کی اس توجہ کا ہمیشہ بروقت شکریہ ادا کرنے سے قاصر رہوں تو اسے میری بے رُخی پر محمول نہ فرمائیے اور یہ نہ سمجھیے کہ میں اس جذبہ کی جس کے تحت میں آپ مجھے یہ تحفہ بھیجتے ہیں پُوری پُوری قدر کرنے میں کوتاہی کا مرتکب ہوں۔ کیونکہ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ کس حد تک اپنی نظموں کو آپ معنویت یا روحانیت کا حامل بنا سکے ہیں۔ آپ میں ایک معنوی میلان پایا جاتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ اس کا برمحل استعمال کریں۔ میرے خیال میں اردو کو اپنے جذبات کے اظہار کا ذریعہ اختیار کرنے میں آپ نے بڑی دانائی سے کام لیا ہے۔ اپنی زبان غیر زبان سے ہر حالت میں بہتر ہوتی ہے۔ امید ہے آپ کی صحت اب اچھی ہو گی۔ کیا آپ کو بروقت ایک گُر بتا دوں؟ شعر و سخن میں کم وقت صرف کیجیے تو آپ کی صحت کو فائدہ پہنچے گا۔
مخلص محمد اقبال
آپ کے امریکن دوست ڈاکٹر کلیفورڈ منیشررڈٹ3 کی کتاب ’’عالمگیر انسانی برادری‘‘ میں نے نہایت شوق سے پڑھی ہے۔ ایسے خیالات کا مطالعہ ہر شخص کے لیے سودمند ہوتا ہے۔
(اقبال نامہ)
(انگریزی سے)
خط (7) — 13 جون 1932ء (جلد سوم، خط 160)
لاہور 13؍ جون 32ء
مکرم بندہ۔ السلام علیکم
قرآن شریف کا تحفہ جو آپ نے بہ کمال عنایت ارسال فرمایا ہے ابھی موصول ہوا۔ اس مقدس تحفے کے لیے میں آپ کا نہایت شکر گزار ہوں۔ انشاء اللہ یہی نسخہ استعمال کیا کروں گا۔ امید کہ آپ کا مزاج بخیر ہوگا۔ والسلام
محمد اقبال
(اقبال نامہ)
خط (8) — 2 فروری 1933ء (جلد سوم، خط 181)
عزیزم عباس علی خاں صاحب سلمہٗ
السلام علیکم۔ رجسٹر اور خط موصول ہوا۔ نظمیں ایک جگہ سب کی سب محفوظ ہیں۔ انتخاب آپ کی مرضی پر موقوف ہے۔ نظم ہو یا غزل مختلف مضامین کی حامل ہوتی ہیں اور ناظرین یا سامعین کی طبائع مختلف! اس لیے میرے خیال میں اشعار کا انتخاب مشکل کام ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ کلام مدارج کے لحاظ سے منتخب کیا جائے! آپ کا ایک خاص رنگ ہے اور آپ کے اکثر اشعار ایک وجدانی کیفیت رکھتے ہیں، اپنے مجموعۂ کلام کے لیے آپ نے جو نام تجویز فرمائے ہیں ان کی ایک طویل فہرست ہے۔ اور سب نام ایک سے ایک بہتر! نظرِ انتخاب کہیں جمتی نہیں۔ میری رائے میں آپ اپنے جملہ کلام کو ایک ہی نام سے معنون کریں اور جلد اول دوم سے موسوم کر دیں۔ ’’تقدیرِ امم‘‘ موزوں نام ہے۔
میری صحت بحمد اللہ اچھی ہے۔ اور موسم ناگوار نہیں ہے۔ خصوص صبح میں اچھی سردی رہتی ہے۔ آپ کا خیال درست ہے۔ چہل قدمی ضرور مفید ہوگی ان شاء اللہ آپ کی ہدایت پر ضرور عمل کروں گا۔ یہاں سب خیریت سے ہیں۔ امید ہے کہ آپ بھی بعافیت ہوں گے۔ مکرر یاد آوری کا شکریہ!
آپ کا مخلص محمد اقبال لاہور
2؍ فروری 1933ء
(اقبال نامہ)
خط (9) — 19 مارچ 1933ء (جلد سوم، خط 191)
محبّی لمعہ صاحب
تسلیم۔ آپ کا عنایت نامہ ملا۔ یاد فرمائی کا شکریہ!
خدا کا شکر ہے کہ آپ خیریت سے ہیں، یہاں گرمی شروع ہو چکی لیکن رات نسبتاً تکلیف دہ نہیں ہے۔ اپریل اور مئی کے یہ دو مہینے یہاں سخت تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ دیہات میں تو عموماً موسم اچھا ہوتا ہے۔ یہاں مرضِ چیچک کی وجہ سے لوگ بہت پریشان ہیں۔ اب کے کسی سرد مقام پر جانے کی فکر میں ہوں مگر اب تک مقام تجویز نہیں ہوا۔ اگر جانا ہوا تو آپ کو اطلاع دوں گا۔ آپ کے خطوط اور خیالات کو پڑھ کر مجھے بے حد مسرت حاصل ہوتی ہے۔ اس اخلاق کا شکر گزار ہوں۔ ہاں آج کل کیا مشاغل ہیں۔ آپ بھی جوان! اور آپ کی شاعری بھی جوان! مجھے تو آپ کی نظموں میں ایک خاص جذبہ نظر آتا ہے۔ اور زبان کی سلاست سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ جو کچھ کہہ جاتے ہیں بلاقصد کہہ جاتے ہیں اسی کا نام آمد ہے۔ یہ کیفیت منجانب اللہ ہے۔ کوشش سے حاصل نہیں ہوتی۔ رند کہتا ہے۔ شعر
|
مشق کر مشق کہ تا لُطفِ سخن پیدا ہو |
خود بخود شعر میں بے ساختہ پن پیدا ہو |
عیدالفطر کی پیشگی مبارک باد بھیجتا ہوں۔ یا شاید وقت پر بھی پہنچ جائے۔
خدا حافظ۔
آپ کا مخلص محمد اقبال لاہور
19؍ مارچ 1933ء
(اقبال نامہ)
خط (10) — 30 جون 1933ء (جلد سوم، خط 211)
لاہور 20؍ جون 33ء
جنابِ من تسلیم
آپ کا نوازش نامہ مل گیا ہے۔ میرا دوستانہ مشورہ یہ ہے کہ آپ شعر و سخن میں اپنا وقتِ عزیز ضرور صرف کریں۔
مخلص محمد اقبال لاہور
(اقبال نامہ)
خط (11) — 6 جولائی 1933ء (جلد سوم، خط 213)
جنابِ من تسلیم
آپ کا خط مل گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی میں آپ کو لکھ چکا ہوں، مگر ممکن ہے میرا خط آپ تک نہ پہنچا ہو۔ اس واسطے کہ میں آپ کا نام صحیح طور پر پڑھ نہ سکا تھا۔ بہرحال میں نے آپ کو یہ مخلصانہ مشورہ دیا تھا کہ آپ شعر و شاعری کا مشغلہ ترک نہ کر دیں۔
اسرارِ خودی کا ترجمہ M/S. MACMILLAN & CO. نے شائع کیا تھا۔ اس کے ترجمے کے مصنف DR. REYNOLD A. (NICHOLSON)4 کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے بعض نظمیں پیامِ مشرق کی بھی ترجمہ کی تھیں۔ جو جرمنی کے رسالہ ’’ISLAMICA‘‘ میں شائع ہوئی تھیں۔ سر نظامت کا خط واپس ارسالِ خدمت ہے۔
مخلص محمد اقبال 6؍ جولائی 33ء
(اقبال نامہ)
خط (12) — 11 مارچ 1934ء (جلد سوم، خط 296)
محترمی بندہ
تسلیم۔ آپ کا نوازش نامہ مل گیا ہے۔ بحمد اللہ میری صحت اب بہتر ہے۔ آپ کے مشورے کا شکریہ۔ انشاء اللہ آپ کے حسبِ خواہش ضرور بھوپال جا کر بجلی کے ذریعہ علاج کراؤں گا۔
