آپ کے افسانوں اور مثنوی سے میں نے استفادہ حاصل کیا ہے۔ افسانے نہایت دلکش اور موثر ہیں، زبان شستہ ہے، مثنوی کا آغاز بہت اچھا ہے۔ خدا کرے اس کا اختتام بھی اچھا ہو۔ آپ کے خطوط کے ورود سے مجھے بے حد خوشی حاصل ہوتی ہے۔ اور میں آپ کے خیالات کو بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھتا ہوں۔
لندن کا سفر ملتوی کرنے کا ارادہ ہے۔ آپ کے ایما پر ٹیگور5 میری مزاج پرسی کے لیے لاہور آئے تھے۔ مگر میں لاہور میں موجود نہ تھا، اس لیے ملاقات نہ ہو سکی۔ آپ انھیں مطلع کر دیں۔ والسلام۔ امید ہے کہ آپ کا مزاج بخیر ہوگا۔ نیاز مند
محمد اقبال لاہور۔ 11؍ مارچ 34ء6
(اقبال نامہ)
خط (13) — 6 اپریل 1934ء (جلد سوم، خط 299)
ڈیر مسٹر عباس علی خاں
السلام علیکم۔ آپ کا خط جاوید کے نام ابھی ملا ہے۔ خدا کے فضل و کرم سے اور تو خیریت ہے، البتہ مجھے قریباً دو ڈھائی ماہ سے ACUTE LARYNGITIS کی شکایت ہے جس کی وجہ سے بولنے یا عام طور پر کلام کرنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ بہت علاج کیا مگر کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ لندن انشاء اللہ اگلے سال جاؤں گا۔
مخلص محمد اقبال لاہور، 6؍ اپریل 34ء
(اقبال نامہ)
خط (14) — 10 اپریل 1934ء (جلد سوم، خط 300)
مکرمی لمعہ صاحب
السلام علیکم۔ آپ کے دو خط، ایک کارڈ اور ناول بذریعہ رجسٹری موصول ہوئے۔ یہاں گرمی کی رفتار ترقی پر ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ مزاج ٹھیک نہیں رہتا۔ اور جواب لکھنے میں تاخیر ہوئی، معاف فرمائیے گا۔
آپ نے بہت اچھا کیا۔ ختمِ گرما کے بعد ہی لاہور تشریف لائے۔ دیہات میں عموماً گرمی کم رہتی ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ آپ خیریت سے ہیں اور میری صحت بھی اچھی ہے۔ آپ کے جواہر پارے گنجِ سخن میں محفوظ ہیں اور میں دیکھ دیکھ کر محظوظ ہو رہا ہوں۔ خدا کرے آپ کو شاعری کے لیے کافی مہلت مل جائے۔
سنیے، غزل اور رباعی کے لیے قافیہ کی شرط تو لازمی ہے۔ اگر ردیف بھی بڑھا دی جائے تو سخن میں اور بھی لطف بڑھ جاتا ہے۔ البتہ نظم ردیف کی محتاج نہیں۔ قافیہ تو ہونا چاہیے۔
اب کچھ عرصہ سے بلا ردیف و قافیہ نظمیں لکھی جاتی ہیں۔ اور یہ انگریزی نظموں کی تقلید ہے جس کا نام انگریزی میں ’’بلینک ورس‘‘ ہے جس کو نثرِ مرجز کہنا چاہیے! اگرچہ پبلک مذاق کچھ ایسا ہو چلا ہے مگر میرے خیال میں یہ روش آئندہ مقبول نہ ہوگی! نظموں کے لیے اولاً سبجکٹ اور مضامین تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ نیچرل مضامین تو سبجکٹ ہی کے اعلیٰ انتخاب سے کچھ لطف دیتے ہیں۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ حتی الامکان آپ کی نظمیں اس خصوصیت سے مالا مال ہوتی ہیں۔ کلام کی پختگی تو اب بھی آپ کے خیالات میں موجود ہے اور مشق سے ہوتے ہوتے حاصل ہوگی۔ قدیم شاعری اور جدید شاعری کا سوال بھی سرمایۂ ادب کا ایک سبجکٹ ہو گیا ہے۔
میں فقط فرسودہ مضامین کی حد تک جدید و قدیم کی بحث کو مانتا ہوں۔ شاعری کی جان تو شاعر کے جذبات ہیں۔ جذباتِ انسانی اور کیفیاتِ قلبی اللہ کی دین ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ طبعِ موزوں اس کے ادا کرنے کے لیے پُراثر الفاظ کی تلاش کرے! نظم کے اصناف کی تقسیم جو قدیم سے ہے ہمیشہ رہے گی اور انسانی جذبات ماحول کے تابع رہیں گے۔ بس یہ سمجھ لیا جائے کہ جس شاعر کے جذبات ماحول سے اثر پذیر ہیں وہ شاعر جدید رنگ کا حامل متصور ہو سکتا ہے، نہ کہ نفسِ شعری! اگر ہم نے پابندیٔ عروض کی خلاف ورزی کی تو شاعری کا قلعہ ہی منہدم ہو جائے گا۔ اور اس نقطۂ خیال سے یہ کہنا پڑے گا اور یہ کہنا درست ہے کہ موجودہ شعرا کا کام تعمیری ہونا چاہیے نہ کہ تخریبی! خدا حافظ! زیادہ والسلام
مخلص محمد اقبال لاہور
10؍ اپریل 1934ء
(اقبال نامہ)
خط (15) — 12 اپریل 1934ء (جلد سوم، خط 301)
مکرم بندہ، ڈاکٹر لمعہ تسلیم
نوازش نامہ کا شکریہ۔
خدا کا شکر ہے میری صحتِ عامہ اب اچھی ہے۔ مگر حلق کی تکلیف ہنوز باقی ہے۔ آپ کے افسانے اور کلام بعد مطالعہ واپس کر رہا ہوں، ماشاء اللہ خوب ہیں۔
|
رموزِ فطرت کا اک مبصر ترے خیالوں میں گا رہا ہے |
تو خود شناسی سے اپنی دنیا کو رازِ انساں بتا رہا ہے |
امید ہے کہ جناب کا مزاج بخیر ہوگا۔
مخلص محمد اقبال لاہور
12؍ اپریل 34ء
(اقبال نامہ)
خط (16) — 21 جون 1934ء (جلد سوم، خط 318)
محبی لمعہ صاحب سلّمہٗ
تسلیم۔ ابھی محبت نامہ صبح صبح ملا۔ حالانکہ میرے لب تبسم آشنا نہیں ہیں تاہم آپ کے خط سے متحرک ہو جاتے ہیں۔ آپ کی نثر بھی نظم سے کم نہیں ہوتی۔
|
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ! |
آپ کی نظم و نثر کی بیاض محفوظ ہے۔ کہیں کہیں درست کرنے کی ضرورت پڑی۔ واپس کرنے میں خوف ہو رہا ہے۔ کیا واپس ہی کر دوں؟ لیکن پہنچنے نہ پہنچنے کا میں ذمہ دار نہیں۔ یا رہنے دیجیے۔ جب آپ سے ملاقات ہوگی دست بدست لے لیجیے۔ بہرحال جو مناسب ہو مطلع فرمائیے۔
آپ کے مشاغل کیا ہیں! کیا شاعری جاری ہے؟ کبھی کبھی جب طبیعت لگے ضرور شعر کہیے؟ آپ کی طبیعت شاعری کے مناسب ہے اور آپ کی نظموں میں مجھ کو لطف آتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی کہانیاں بھی نثر میں لکھیے۔ آپ کی نثر بھی دل چسپ ہوتی ہے۔
خدا نے آپ کو ادب کی خدمت مخلوق کی خدمت (ڈاکٹری) کے ساتھ ساتھ کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور جوانوں کو کچھ نہ کچھ کرتے رہنا چاہیے۔
خدا حافظ۔
مخلص محمد اقبال لاہور
21؍ جون 1934ء7
(خطوط اقبال)
خط (17) — یکم اگست 1934ء (جلد سوم، خط 350)
لاہور 1؍ اگست 1934ء
محترم بندہ ڈاکٹر عباس علی خاں صاحب
تسلیم! آپ کا نوازش نامہ ابھی ملا۔ آپ کی طویل علالت کی خبر سن کر مجھے افسوس ہوا، نارو8 کا مرض واقعی بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ صفائی کا خیال رکھیے۔ یہ اپنی مقررہ مدت پر اچھا ہوتا ہے۔ خدا سے امید ہے وہ بہت جلد آپ کو شفایاب فرمائے گا۔
اتنی سخت علالت میں آپ کے مشاغل نہایت قابلِ مبارکباد ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ عقل و حواس پر قابو پا رہے ہیں۔ تکلیف اور خوف کا احساس آپ سے دور ہو رہا ہے۔ ماشا اللہ۔ اس کا اپریشن نہ کرائیں ورنہ پیر کا معاملہ ہے۔ میں نے لاہور کے ایک حکیم صاحب سے دریافت کیا ہے۔ آپ یہ علاج ضرور کیجیے۔ 3 ماشہ ہینگ کو پیاز میں رکھ کر گرم کر لیجیے۔ اس کے بعد روزانہ کھا لیجیے۔ صرف 3 دن استعمال کریں۔ تیل اور ترشی وغیرہ کا پرہیز ہے۔
جس جگہ نارو ہے اس پر چنبیلی کے پھول روزانہ شب میں باندھ لیں۔ انشاء اللہ جلد صحت یابی ہو جائے گی۔
آپ کی نارو والی نظم9 بہت دل چسپ ہے۔ باقی خیریت ہے خدا حافظ
آپ کا مخلص محمد اقبال
(اقبال نامہ)
خط (18) — یکم دسمبر 1934ء (جلد سوم، خط 398)
لاہور
1؍ دسمبر 1934ء
مکرم بندہ
تسلیم۔ آپ کا گرامی نامہ مل گیا ہے۔ میری طبیعت بحمد اللہ اب اچھی ہے۔ حکیم نابینا صاحب دہلی والے علاج کر رہے ہیں۔ فرق ضرور ہے۔ مگر عام طور پر گفتگو کرنے میں سخت تکلیف ہوتی ہے۔ جناب کی گراں قدر رائے کا شکریہ۔ انشاء اللہ ضرور بھوپال جاؤں گا اور بجلی کے علاج سے بھی استفادہ حاصل کروں گا۔ میں نے صحت کی مجبوریوں کے باعث ولایت جانے کا قصد ترک کر دیا ہے۔ میں نے آپ کا کلام دیکھا ہے۔ اور تازہ تر نظمیں بھی۔ مجھے شعریت سے زیادہ معنویت نظر آئی اور میں بیحد متاثر ہوا۔ میری یہ خواہش ہے کہ اس قدرتی عطیہ کو آپ مناسب طریقے سے استعمال کریں۔ آپ کے اکثر اشعار وجدان کے حامل ہیں۔
آپ کے وقتاً فوقتاً ہدایت کے لیے میں جناب کا شکر گزار ہوں۔
مخلص محمد اقبال لاہور
(اقبال نامہ)
خط (19) — 11 دسمبر 1934ء (جلد سوم، خط 407)
لاہور
11؍ دسمبر 34ء
جنابِ من۔ آپ کا خط مل گیا ہے۔ الحمدللہ میری صحتِ عامہ اچھی ہے۔ مگر گلے کی شکایت ابھی رفع نہیں ہوئی۔ گو کسی قدر بہ نسبت سابقہ فرق ضرور ہے۔ حکیم نابینا صاحب دہلی والے علاج کر رہے ہیں اور صحت کا یقین دلاتے ہیں۔ میں ولایت شاید اب کے سال نہ جا سکوں۔ والسلام۔
محمد اقبال
(اقبال نامہ)
