ندرتِ تشبیہ
غرض رنگِ کلام کی حیثیت سے اکبر کا کلام دلی و لکھنؤ کے بہترین شعراء کی آواز بازگشت ہے۔ اس میں صرف یہ جدت نظر آتی ہے کہ انہوں نے بعض ایسی اچھوتی اور نادر تشبیہیں پیدا کی ہیں جن کی طرف شعرائے متقدمین و شعرائے متاخرین میں کسی کا ذہن منتقل نہیں ہوا تھا، مثلاً جوانی میں انسان کی حرارت عزیزی، حدِ اعتدال سے متجاوز ہو جاتی ہے اور عشق بھی قلب میں حرارت پیدا کرتا ہے۔ اس سے انہوں نے یہ نادر تشبیہہ پیدا کی:
|
بے عشق کے جوانی، کٹنی نہیں مناسب |
کیونکر کہوں کہ اچھا، ہے جیٹھ کا نہ تپنا |
جیٹھ سے جوانی اور تپنے سے عشق مراد ہے۔
|
جوانی میں ہلاکت دل کی ہے اس کا دبا رکھنا |
کہ ایسی چیز دب کر گرمیوں میں بڑھ ہی جاتی ہے |
دل مضعٔہ گوشت ہے اور جوانی ایک غیر معتدل حرارت ہے۔ اس لئے اگر دل کے جذبات زمانۂ شباب میں روک دیئے جائیں تو وہ برباد ہو جائے گا۔
|
نفس کے تابع ہوئے ایمان رخصت ہو گیا |
وہ زنانے میں گھسے مہمان رخصت ہو گیا |
نفس چونکہ ہوس پرستی کی ترغیب دیتا ہے جس میں مردانہ اخلاق کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی اس لئے اس کو زنانہ خانہ سے تشبیہہ دی۔
|
چلا ہے فلسفہ لے کر ہمیں سوئے ظلمات |
بہت ہی تنگ ہیں اس اسپِ بے لگام سے ہم |
فلسفہ چونکہ بے حد آزاد ہے اس لئے اس کو اسپِ بے لگام کہا۔
|
قد موزوں دیکھئے جوڑے کی بندش دیکھئے |
کس قیامت کا ہے مصرع اور کیا تعقید ہے |
مصرع کے ساتھ قدِ موزوں کی تشبیہ عام ہے لیکن جوڑے کی بندش کو تعقید کے ساتھ تشبیہ دینا ایک جدت طرازی ہے۔
فلسفہ
لیکن یہ جو کچھ کہا گیا اس کی حقیقت بھی اس سے زیادہ نہیں ہے کہ اکبر نے سنجیدہ مضامین کو کیوں کر ادا کیا ہے؟ ان کی زبان کیا ہے؟ انہوں نے کون سا رنگ اختیار کیا ہے؟ اور کون سی جدتیں پیدا کی ہیں۔ لیکن درحقیقت یہ ایک تمہیدی بحث ہے۔ مقصود یہ دکھانا ہے کہ اکبر کے کلام میں فلسفہ، تصوف،اخلاق و تمدن اور سیاست وغیرہ کے مسائل کس قدر ہیں اور انہوں نے ان مسائل کو کس شاعرانہ انداز میں بیان کیا ہے۔ اگر اس حیثیت سے اکبر کے کلام پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ اس میدان میں غالب کے سوا اردو کا کوئی شاعر ان کے دوش بدوش کھڑا نہیں سکتا۔ انہوں نے تصوف اور اخلاق وغیرہ کے دقیق نکتے اس کثرت سے بیان کئے ہیں کہ یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہ وہی اکبر ہیں جن کی قدردانی ہمارے رسائل و اخبار صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے ظریفانہ کلام سے اپنے خشک دسترخوان کو چٹپٹا بنائیں۔ مثلاً فلسفہ کا یہ متداول مسئلہ ہے کہ انسان صرف روح کا نام ہے، جسم اس کا جزو نہیں بلکہ اعضاء اور جوارح محض روح کے آلات و ادوات ہیں۔
|
اور عالم میں ہوں میں اے فاتحہ خوان بعد مرگ |
میں نہ تھا وہ جسم جو مٹی میں پنہاں ہو گیا |
|
مری حقیقت ہستی یہ مشت خاک نہیں |
بجا ہے مجھ سے جو پوچھے کوئی پتا میرا |
دنیا عالم اسباب ہے ایک چیز دوسرے کی علت ہے۔ بعض لوگ جب اس حیثیت سے نظامِ عالم پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کائنات خود اپنی خالق ہے، لیکن درحقیقت اس سلسلہ سے الگ ایک اور اعلیٰ طاقت ہے جو ان پرزوں کو چلاتی ہے۔ تاہم اس نے اپنے آپ کو ان کے پردے میں اس لئے مخفی رکھا ہے کہ خود یہ عظیم الشان کل اس کی آیت و برہان ہو اور لوگ اس کو دیکھ کر اس رازِ سربستہ کا سراغ لگائیں۔
|
عالم ہستی کو تھا مدنظر کتمانِ راز |
ایک شے کو دوسری شے کا سبب کرنا پڑا |
زمانہ انقلاب پذیر ہے۔ اس لیے جب ایک شخص مصیبت و غم میں مبتلا ہوتا ہے تو قدرتی طور پر اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ یہ حالت خوشی و مسرت سے بدل جائے۔ لیکن ایک فلسفی زمانہ کی اسی خاصیت کی بنا پر اپنی موجودہ حالت پر قانع رہتا ہے اور کہتا ہے کہ:
|
ہم انقلاب کے شائق نہیں زمانے میں |
کہ انقلاب کو بھی انقلاب ہی دیکھا |
نظامِ عالم کو اگر ایک ڈھیٹ مذہبی آدمی کی نگاہ سے دیکھا جائے تو وہ صرف خدا کی قدرت کا ایک مظہر ہے۔ لیکن فلسفہ اس کی ایک ایک کڑی پر نگاہ ڈالتا ہے، ایک ایک گرہ کو کھولنا چاہتا ہے۔ اس لئے اسرارِ کائنات کی عقدہ کشائی میں خواہ مخواہ طوالت پیدا ہوتی ہے اور مذہبی عقیدہ کی وہ پر عظمت سادگی برباد ہو جاتی ہے۔
|
تیرے الفاظ نے کر رکھے ہیں پیدا دفتر |
ورنہ کچھ بھی نہیں اللّٰہ کی قدرت کے سوا |
دنیا میں خیر و شر کا حقیقی کا وجود نہیں۔ ایک چیز جو ایک کے لئے مضر ہے وہی دوسرے کے لیے مفید ہو جاتی ہے۔ ایک کا گھر برباد ہوتا ہے تو دوسرا گھر آباد ہوتا ہے۔ عرفی نے اس خیال کو اس طرح ادا کیا تھا:
|
زمانہ گلشنِ عیش کرا بہ یغما داد |
کہ گل بدامنِ ما دستہ دستہ می آید |
|
زمانے نے کس کے عیش و نشاط کا باغ لوٹ لیا ہے؟ کہ ہمارے دامن میں پھولوں کے دستے کے دستے (گچھے کے گچھے) آ گرے ہیں۔ |
|
اکبر اس کو اس طرح ادا کرتے ہیں:
|
فطرت میں سلسلہ ہے زوال و کمال کا |
گھٹنا ہے بدر کا تو ہے بڑھنا ہلال کا |
انسان کو مفید و صحیح علم نہیں حاصل ہو سکتا۔ ماضی کے متعلق اس کو جو کچھ معلوم ہو چکا ہے وہ زمانہ حال میں بیکار ہے۔ مستقبل کی کچھ خبر نہیں کہ کیا ہو گا؟ حال ابھی خود زیرِ تجربہ ہے۔
|
ماضی تو ختم ہو چکا مستقبل آئے گا |
ممکن نہیں بیان کروں حال حال کا |
یہ درحقیقت نہایت ہی عجیب بات ہے کہ رنج و مسرت فطرتاً کافر و مسلم کی تمیز نہیں کرتے۔ ایک زاہدِ شب بیدار طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا رہتا ہے اور ایک گبر، ہر قسم کے دنیوی لطف و مسرت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اگر عقلِ کامل نہ ہو تو انسان بعض حالتوں میں خدا کا ناشکر گزار بندہ ہو جائے۔
|
کفر و اسلام کی تفریق نہیں فطرت میں |
یہ وہ نکتہ ہے جسے میں بھی بمشکل سمجھا |
اہلِ دل، اہلِ علم اور اہلِ ہنر ہمیشہ دماغی کاوشوں میں مبتلا رہتے ہیں، لیکن ان کی یہی عرق ریزی دنیا پر ابرِ کرم ہو کر برستی ہے۔
|
انتشارِ اہل معنی فیض سے خالی نہیں |
بوئے خوش پھیلی اگر غنچہ پریشان ہو گیا |
انسان ہر چیز کی حقیقت سے بحث کرتا ہے لیکن یہ نہیں سوچتا کہ اس کو خود اپنی حقیقت معلوم ہے یا نہیں۔
|
دنیا کے مباحث یہ مری نظروں میں ہیں کیا |
اتنا تو کوئی پہلے بتائے مجھے میں کیا |
شوقِ عمل انسان میں فطرۃً پیدا ہوتا ہے اور وہی اعضا و جوارح میں حرکت پیدا کرتا ہے، اس لئے وہ انسان کا ایک جزو ہے۔ اگر انسان عضوِ معطل ہو کر بیٹھ جائے تو اس کی حقیقت تودۂ خاک سے زیادہ نہیں۔
|
مری بیتابیاں بھی جزو ہیں اک میری ہستی کی |
یہ ظاہر ہے کہ موجیں خارج از دریا نہیں ہوتیں |
