علامہ ابن تیمیہ سب سے زیادہ خم ٹھونک کر بڑی جرأت سے میدان میں آئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی دلیلِ عقلی قطعی امرِ سمعی کے متناقض ہو تو ان دونوں میں سے کسی کو مقدم سمجھنا ضرور ہوگا۔ پھر اگر امرِ سمعی کو مقدم کیا جائے تو وہ بنیاد ہی سے گر پڑتا ہے اور اگر عقلی کو مقدم کیا جائے تو تکذیبِ رسول لازم آتی ہے اور یہ تو کفر ہے، مگر اس کا ٹھیک جواب یہ کہا جائے کہ یہ بات ممکن نہیں ہے کہ کوئی دلیلِ عقلی قطعی، دلیلِ قطعی سمعی کے متناقض ہو۔ یہ اصول تو نہایت عمدہ ہے، مگر ابن تیمیہ اپنی تمام کتاب میں ایک جگہ بھی اس کا ثبوت دینے پر قادر نہیں ہوا۔
ابن رشد نے ایک نہایت معتدل اور معقول اور درست اصول قائم کیا ہے، وہ کہتا ہے کہ ہم کو اس بات پر یقینِ کلی ہے کہ جو امر دلیل سے ثابت ہوا ہے اور ظاہرِ شرع اس کے برخلاف ہے تو اس میں عربی زبان کے قواعدِ تاویل کے مطابق تاویل ہو سکتی ہے اور کوئی مسلمان اس میں شک نہیں کر سکتا اور جب شرع پر بخوبی غور کیا جائے اور اس کی سب چیزوں کو ڈھونڈا جائے تو خود شرع میں ایسے لفظ پائے جائیں گے جو اس تاویل پر گواہ ہوں گے۔
ہم تو ابن رشد کے اس اصول کو دل سے تسلیم کرتے ہیں، مگر صرف لفظِ تاویل کے مخالف ہیں، کیونکہ تاویل عموماً اس مقصد سے بولی جاتی ہے جبکہ کسی مصنف یا کسی قائل نے کسی لفظ کو ایسے معنی میں بولا تھا جو ٹھیک نہ تھے اور دوسرا شخص اس لفظ کو دوسرے معنوں میں پھیر کر اس کے معنی درست کرتا ہے، لیکن جبکہ معلوم ہو کہ خود قائل نے اس لفظ کو انھی معنوں میں بولا ہے جس کو تم تاویل کہتے ہو تو وہ تاویل نہیں ہے، بلکہ بعینہ وہی معنی ہیں جو قائل کے مقصود ہیں۔
ان مصنفوں نے اپنے کلام میں دلائلِ عقلی کا لفظ استعمال کیا ہے جو بلاشبہ عام ہے اور سب قسم کی دلائلِ عقلی کو شامل ہے، مگر خاص دلائل سب سے بڑھ کر وہ ہیں جو مشاہدے سے اور تجربے سے موجوداتِ عالم میں پائے جاتے ہیں یا ایسے قواعد سے جو ہندسہ پر مبنی ہیں ثابت ہوتے ہیں۔ وہ محض عقلی دلائل سے زیادہ تر مستحکم ہیں اور کوئی شخص جو ان سے واقف ہے ان کا انکار نہیں کر سکتا۔ پس اگر ان کے برخلاف منقول میں کوئی امر ہو تو ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اس اصول کی پیروی کرے جو ابن رشد نے قرار دیا ہے۔ اس کا جمادِ متحرک سا ہو جانا اور یہ کہہ دینا کہ العلم حجاب اكبر کافی نہیں ہے۔
ہماری تفسیریں اکثر اس قسم کے امور کے بیان کرنے سے خالی ہیں، مگر اب زمانہ نہیں رہا کہ اس پر توجہ نہ کی جائے، بلکہ ہمارے زمانے کے علماء اور فضلاء کا فرض ہے کہ علمِ طبیعیات سے اول آگہی بہم پہنچائیں اور قرآن مجید کی خدمت کریں جو بلاشبہ سچ اور اُسی کا کلام ہے جو خالقِ کائنات ہے اور مقولۂ باطل العلم حجاب اكبر کو مٹا کر مقولہ العلم كشاف الغطاء کو ثابت کریں۔
اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ سوم (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 248 تا 254 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔
