جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ایتھی نیم کلب لندن کا حال

ایتھی نیم کلب‌Athenaeum Club لندن‌London کی نہایت شاندار اور مشہور و معروف علمی مجلس تھی؛ برطانیہ کے تمام اعلیٰ پائے کے ادیب، ملک کے تمام باکمال ہنرور، تمام بلند پایہ سائنسدان اور نامور موجد اس کے ممبر تھے اور جو شخص اس کا ممبر منتخب ہو جاتا تھا وہ اس کو بہت بڑا فخر سمجھتا تھا۔ سرسید کو بھی بزمانۂ قیامِ لندن، دو مرتبہ اس مجلس کے آنریری ممبر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ اس مجلس کی مفصل کیفیت اور اپنے ممبر ہونے کا حال سرسید نے نہایت تفصیل کے ساتھ اپنے رسالے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کے ماہِ رجب 1297ھجون 1880ء کے پرچے میں بہت دلچسپ طور پر لکھا ہے۔ چوں کہ یہ نایاب مضمون بھی سرسید کے سفرِ لندن کا ایک حصہ ہے اس لیے ہم اسے بھی ’’تہذیب الاخلاق‘‘ سے لے کر یہاں درج کرتے ہیں۔ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کا یہ فائل پنجاب یونیورسٹی لائبریری لاہور میں محفوظ ہے۔

(محمد اسماعیل)

ایتھی نیم کلب کی اہمیت

لندن میں یہ ایک نہایت نامی اور معزز کلب ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے زیادہ معزز کوئی کلب نہیں ہے۔ اس کلب میں جو کوئی ممبر ہوتا ہے اس کے دوست اس کو مبارک باد کی چٹھیاں لکھتے ہیں اور اس کو ایسا فخر ہوتا ہے کہ ویسا فخر کسی خطاب کے ملنے سے بھی نہیں ہوتا۔

ممبری کے قواعد

اگر ہماری یاد میں غلطی نہ ہو تو اس کلب میں یہ قاعدہ ہے کہ کوئی شخص جو صاحبِ تصنیف نہ ہو یا کسی کمال میں مشہور نہ ہو، وہ اس کلب کا ممبر نہیں ہو سکتا؛ یہ بھی قاعدہ ٹھہرایا ہے کہ اس کلب میں بارہ سو ممبر سے زیادہ نہ ہوں گے۔

ممبری کے امیدواروں کی کثرت

سینکڑوں آدمیوں کی درخواستیں ممبر ہونے کے لیے آتی ہیں کہ بروقت خالی ہونے کسی ممبری کے ان کا تقرر ہو اور ان کا نام بطور امیدواران ایک رجسٹر میں مندرج ہوتا ہے۔ 1870ء میں جب کہ ہم لندن میں تھے، تین ہزار سے زیادہ امیدواروں کا نام رجسٹر میں مندرج تھا اور دس دس و بارہ بارہ برس امیدواری پر گزر گئے تھے۔

سرسید کا آنریری ممبر مقرر ہونا

دوامی ممبروں کے سوا جن کی تعداد بارہ سو سے زیادہ نہیں ہو سکتی، کوئی نامی اور مشہور شخص کسی میعادِ معین کے لیے آنریری ممبر ہو سکتا ہے۔ ہم کو دو دفعہ اس کلب کے آنریری ممبر مقرر ہونے کی عزت حاصل ہوئی ہے۔ پہلے تقرر کی میعاد گزر جانے کے بعد دوسری دفعہ پھر تقرر ہوا اور جب تک ہم لندن میں رہے، اس معزز کلب کے آنریری ممبر تھے۔

ایڈورڈ تھامس کی لیاقت اور علمیت

ایڈورڈ ٹامسن‌Edward Thomas صاحب جو نہایت ذی علم اور نامی مصنف ہیں اور قدیم زمانے کے تاریخی حالات کی تحقیقات میں اور قدیم سکوں اور کتبوں کے انکشافِ حال میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں اور اس کلب کے منتظم ممبروں میں ہیں، وہ ہمارے آنریری ممبر ہونے کے باعث ہوئے تھے، جس کی عزت ہمیشہ میرے دل میں رہے گی۔

کلب کی خوبیاں

اس کلب کی روحانی خوبیوں کا لکھنا تو مشکل ہے مگر جو ظاہری باتیں ہیں ان کا کسی قدر بیان کیا جاتا ہے گو اس کا لطف بھی بغیر دیکھے حاصل نہیں ہو سکتا۔ مثل مشہور ہے:

شنیدہ کی بود مانند دیدہ

ترجمہ سنا ہوا، دیکھے ہوئے کی مانند کب ہوتا ہے

کلب کا مکان

پال مال‌Pall Mall میں ایک نہایت عالیشان مکان دو منزلہ بنا ہوا ہے؛ ممبر جو وہاں جاتے ہیں اکثر حاضری کھا کر جاتے ہیں اور رات کا کھانا کھا کر آتے ہیں۔ ممبروں یا آنریری ممبروں کے سوا اور کسی کو وہاں جانے کا استحقاق نہیں ہے۔ جب اس کے دروازے میں داخل ہو تو نیچے کی منزل کا ایک کمرہ ملتا ہے جس میں فرش ہے اور دو تین کوچیں بچھی ہوئی ہیں اور اس کے کونے میں ایک چھوٹا سا کمرہ بطور حجرے کے بنا ہوا ہے جس کی دیواریں آئینہ بندی کی ہیں۔ اس میں ایک شخص بطور منیجر کے رہتا ہے جو تمام احکامِ ممبران کی تعمیل کرتا ہے۔ اس چھوٹے کمرے کی دیواریں آئینہ بندی کی اس لیے ہیں کہ جو شخص وہاں آوے منیجر کو معلوم ہو۔

ممبروں کے ملاقاتی

چوں کہ اس کلب میں ممبر بہت دیر تک رہتے ہیں اور ان کے دوستوں کو، ان کے گھر ان سے ملنے کا بہت کم موقع ہوتا ہے اس لیے ان کے دوست بحالتِ ضرورت کلب ہی میں، ان سے ملنے آتے ہیں اور اس ڈیوڑھی کے کمرے میں ٹھہرتے ہیں؛ جو ملازم بطور چپراسی حاضر باش کے، وہاں موجود ہوتا ہے، اس کو اپنا ٹکٹ دیتے ہیں اور وہ چپراسی اس ٹکٹ کو اس ممبر کے پاس پہنچا دیتا ہے جس سے وہ ملنے آئے ہیں۔ وہ ممبر وہاں آ جاتا ہے اور مل کر چلا جاتا ہے۔ یہ ملاقات گپ شپ کی ملاقات نہیں ہوتی، ضروری بات سن لی، جواب دے دیا؛ چار پانچ منٹ سے زیادہ ملاقات میں صرف نہیں ہوتے۔

کلب کا ریڈنگ روم

اس ڈیوڑھی کے کمرے کے دائیں طرف ایک نہایت وسیع کمرہ بطور ہال کے ہے۔ یہ کمرہ اخباروں کے پڑھنے کا ہے، نہایت عمدہ فرش سے آراستہ ہے، عمدہ عمدہ کوچیں اور آرام چوکیاں بچھی ہوئی ہیں، بیچ میں درجے دار گول میز لگی ہوئی ہے جس پر گویا تمام دنیا کے اخبار رکھے جاتے ہیں؛ چاروں طرف دیواروں میں عمدہ سے عمدہ جغرافیے کے نقشے اس حکمت سے لگے ہوئے ہیں کہ ایک ادنیٰ اشارے سے کھل جاتے ہیں اور ادنیٰ اشارے سے از خود لپٹ جاتے ہیں۔ جو ممبر اخبار پڑھنا چاہتے ہیں، اس کمرے میں آتے ہیں اور کوچوں اور آرام چوکیوں پر بیٹھے اخبار پڑھتے ہیں۔ اگر کسی خبر میں ایسا مضمون ہوا جس کے سمجھنے کو جغرافیے کا نقشہ دیکھنا ضرور ہے، ایک اشارہ ڈوری کا کیا، نقشہ کھل گیا، جب دیکھ لیا چھوڑ دیا، نقشہ از خود لپٹ گیا۔ کوئی شخص اس کمرے میں آپس میں باتیں نہیں کرتا، خاموش مثلِ تصویر اخبار پڑھتے ہیں؛ جو کوئی آتا ہے نہایت آہستہ سے چلتا ہے کہ پاؤں کی آواز نہ ہو اور دوسروں کے پڑھنے میں ہرج نہ ہو اور دھیان نہ بٹے۔

لکھنے پڑھنے کا کمرہ

اس کے پہلو میں ایک اور بڑا کمرہ ہے، اس میں لکھنے کا سامان ہر قسم کا موجود ہے؛ بیچ میں گول میز درجے دار لگی ہوئی ہے، ہر قسم کا کاغذ اور چٹھیاں لکھنے کے متعدد قسم کے کاغذ و لفافے رکھے ہوئے ہیں، لکھنے کے خوبصورت مقام مہیا ہیں اور ہر جگہ دوات و قلم موجود ہے، جس ممبر کو کچھ لکھنا ہو، اس کمرے میں جاتا ہے اور لکھنے میں مصروف ہوتا ہے۔

کلب میں خطوط کی روانگی کا قاعدہ

جو ممبر چٹھیات ڈاک کی روانگی کے لیے لکھتے ہیں، انھوں نے چٹھی لکھی اور اسی میں ایک نل بنا ہوا ہے، اس میں ڈال دی۔ وہ چٹھی اس منیجر کے پاس پہنچی، اس نے اس کا وزن کیا، ڈاک کے محصول کے ٹکٹ لگائے اور روانہ کر دی۔

ممبروں کی ڈاک

جو لوگ اس کلب کے ممبر ہیں ان کے نام کی چٹھیاں اکثر اسی کلب کے پتے سے آتی ہیں، جو لوگ وہاں موجود ہوتے ہیں منیجر ان کو وہ چٹھیاں تقسیم کر دیتا ہے، جو اور ملک میں چلے جاتے ہیں، وہ اپنا پتا منیجر کو بتلا جاتے ہیں اور وہ اس پتے پر روانہ کر دیتا ہے۔ ہر ایک ممبر کے لیے ڈاک کا ایسا عمدہ انتظام ہے کہ شاید اس سے بہتر نہیں ہو سکتا۔

ڈائننگ ہال

ڈیوڑھی کے کمرے کے بائیں طرف ایک اور بہت وسیع کمرہ ہے۔ یہ کھانے کا کمرہ ہے جو نہایت عمدگی سے کھانا کھانے کے سامان سے آراستہ ہے، تمام عمدہ سے عمدہ اشیاء کھانے پینے کی یہاں موجود ہیں، خانساماں و خدمتگار نہایت خوبصورت وردیاں پہنے حاضر ہیں، جا بجا چھوٹی و بڑی میزیں لگی ہوئی ہیں، ہر وقت ہر چیز موجود ہے، جس ممبر کا دل چاہے اس میں جاوے اور جو چاہے، کھاوے اور پیوے۔

سگرٹ پینے کا کمرہ

چرٹ بھی نہایت عمدہ اقسام کے موجود ہوتے ہیں۔ چرٹ پینے کے لیے ایک علیحدہ کمرہ ہے جس کی دیواریں اور چھت بالکل آئینہ بندی کی ہیں؛ اس کے اندر سے باہر کا چمن پھولوں کا بالکل دکھائی دیتا ہے۔ اس کی چھت میں دھواں نکلنے کے لیے ایک روشندان ہے جس میں سے چرٹ کا دھواں نکل جاتا ہے۔

سگرٹ پینے کے لیے علیحدہ کمرے کی وجہ

لندن میں چوں کہ سردی ہے اور اس سبب سے ہمیشہ کمروں کے کواڑ بند رہتے ہیں اس لیے چرٹ پینے کے لیے علیحدہ خاص کمرہ ہوتا ہے۔ ہر کمرے میں چرٹ نہیں پی سکتے کیوں کہ اس کا دھواں باہر نہیں نکل سکتا اور کمرے کی دیواروں پر جو سنہرا و گل دار کاغذ لگا ہوتا ہے، اس میں چرٹ کے دھوئیں کی بو ہو جاتی ہے اور اس لیے ہر جگہ چرٹ پینا ایک بدتمیزی کی بات خیال ہوتی ہے اور چرٹ پینے کا کمرہ علیحدہ بنا ہوا ہے۔